مادری زبان میں تعلیم کیوں ضروری ہے؟

EjazNews

تحریر: راشدہ
دنیا کے ابتدائی دور میں خیالات ، اشارو ںکے ذریعہ سے یا شکلیں کھینچ کرخیالات ظاہر کیے جاتے تھے مگر جب انسان نے ترقی کی اور اس کی ضروریات بڑھیں، تعلقات وسیع تر ہوئے ،الفاظ ناگزیر ہوگئے ۔ الفاظ خیالات کے نمائندے ہیں جونہی آدمی احساس سے گزر کر اظہار پر آتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس نے جو کچھ دیکھا سنایا سمجھا ہے اس کو بیان کرے اور دوسروں کو بھی اپنے تجربات سے فائدہ پہنچائے ان کو اپنی کیفیات میں شریک کرے وہ اسباب و علل اور جذبات ومحسوسات کی حدود میں داخل ہوتا ہے جہاں الفاظ ترجمان کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے بغیر گزر ممکن نہیں ہوتا۔

زبان انہی الفاظ کا مجموعہ ہے اور مادری زبان وہ قدرتی اور واحد ذریعہ اظہار ہے جس کی بقا و صحت اور استحکام ، تربیت و ترقی بالکل اسی طرح ضروری ہے جیسے جسم کے اعضاء کی، وہ کام جو ایک زبان کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے جسم کے تمام اعضاء کی متحدہ کوشش سے بھی حاصل نہیں ہوتا اور اپنے جسم کے تمام اعضاء میں جس عضو کو ہم سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں اور جس کے بغیر ہماراکام ایک منٹ بھی نہیں چل سکتا وہ زبان ہے اس لئے نہایت ضروری ہے کہ اس طلسمی مگر انتہائی نازک آلہ کی بقا و صحت کا انتہائی خیال رکھا جائے اور اس کے استحکام تر بیت و ترقی میں ہرگز کمی روانہ رکھی جائے ۔اس میں اظہار کی پوری قوت پیدا کر دی جائے جس کا وسیلہ سوائے مادری زبان کے کوئی دوسری زبان نہیں ہوسکتی، اس لئے کہ انسانوں کی اکثریت اپنی تمام زندگی اپنے ہی وطن میں گزارتے ہیں اور بیشتر ان کو عمر بھر ان سب زبانوں سے زیادہ جن کو وہ جانتے ہیں اپنی مادری زبان سے کام لینا پڑتا ہے مگر پھر بھی عام طور پر مادری زبان سے غفلت برتی جاتی ہے او ریہ غفلت اور بے توجہی ہمارے خطے میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں عام ہے۔لیکن ہمارے ہاں تو انگریزی زبان کے عشق نے ملکی زبان کی اہمیت کو سخت نقصان پہنچایا مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری اکثریت انگریزی زبان میں اظہار خیال نہیں کرتی، جہاں اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ،وہ تجارتی، سرمایہ کاری اور فنی تبادلہ خیال ہے ورنہ دوسری جملہ ضرورتوں کے لئے مادری زبان ایک ناگزیر وسیلہ ہے۔ کوئی غیر ملکی زبان ایسے موقعوں پر کام نہیں آسکتی اور ادائے مطلب میں کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ کوئی خارجی زبان ہمارے معاشرے ماحول کی تفصیلات کو جو اس کے لئے بالکل بیگانہ میں کامیابی سے بیان نہیں کر سکتی۔ یہ بالکل ناممکن ہے کہ پاکستانی گھریلوزندگی کو انگریزی میں اپنی زبان کے کم سے کم 30فیصد الفاظ شامل کئے بغیر بیان کیا جاسکے ۔ اس کے علاوہ محسوسات کے اظہار میں بھی خارجی زبانیں بالکل غیر موثر اور بیکار ثابت ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ ان کو وہ جذباتی مرتبہ حاصل ہی نہیں ہو سکتا جو مادری زبان اور اس کے الفاظ بچپن ہی میں حاصل کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  قائداعظم محمد علی جناحؒ کی نجی زندگی کے دو اہم پہلو

ہمارے ملک میں عام طور پر انگریزی زبان کی تعلیم سکول داخل ہونے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے اور قبل اس کہ بچے اپنی ز بان پر پوری قدرت حاصل کر سکے ان کو ایک غیر ملکی زبان پڑھانا شروع کر دی جاتی ہے اور ان سے انگریزی میں مہارت پیدا کر نے کی کوشش کرائی جاتی ہے۔ اکثر ایسے بچوں کو انگریزی پڑھتے دیکھا گیا جو اپنی زبان میں لکھا ہوا ایک حرف بھی نہیں پڑھ سکتے، ایک معمولی فقرہ بھی نہیں سمجھ سکتے، اس لئے قواعد کے اصول اور پڑھنے لکھنے کے بنیادی قاعدے جوتمام زبانوں میں یکساں ہیں اور خود مادری زبان میں زیادہ آسانی اور کامیابی سے سمجھے اور سیکھے جا سکتے ہیں ان کو انگریزی میں پڑھنا اور سیکھنا پڑتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو اپنی زبان میں پوری مہارت حاصل ہوتی ہی نہیں ہے ۔

’’عام مضامین کی تعلیم کے لئے مادری زبان کو پورے طور پر جاننا اور سمجھنا ضروری ہے ۔کسی طرح کی تعلیم نہیں ہو سکی اگر مادری زبان پر پوری قدرت حاصل نہیں، مادری زبان کی کمزوری کی وجہ سے اظہار مطلب اور ادائے خیال میں نقص پیدا ہو جاتا ہے اگر بچے کو اچھی اور صحیح زبان سیکھنے کا موقع نہیں ملتا تو وہ غلط اور ناقص زبان سیکھتا ہے اور سوچنے اور غور کرنے کی صحیح عادت اختیار نہیں کرتا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  نرس پریکٹیشنر ماڈل سے ڈاکٹروں پر بوجھ کم کیا جاسکتا ہے

اگر صرف اسی نقص کا خیال کیا جائے تو مادری زبان کی صحیح تعلیم کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے حقیقتاً مادری زبان دوسرے تمام مضامین سے زیادہ ضروری ہے۔ اگر مادری زبان کی تعلیم کو دیگر مضامین کی طرح محدود نہ رکھا جاتا اور محدود وقت نہ دیا جاتا تو ابتدائی مدارس کے طلبہ میں اس سے زیادہ انسانیت اور تہذیب پیدا ہو جاتی موجودہ طرز عمل کا نتیجہ یہ ہے کہ اس ناقص تعلیم کی وجہ سے طلبہ میں کوئی استعداد پیدا نہیں ہوتی اور کافی عرصہ سرز تکلم کی غلطیوں کی اصلاح میں صرف ہو جاتا ہے۔

جارج سیمپسن اپنی کتاب ’’انگریزی انگریزوں کے لئے ‘‘ میں لکھتے ہیں

مادری زبان ہی ہمارے لئے اظہار خیال کا ذریعہ ہے جس کے حاصل کرلینے سے ہم کم سے کم ایسے انسان بن جاتے ہیں جن کا سمجھنا ممکن ہوتا ہے ہم گزشتہ کی وراثت حاصل کرنے کے قابل، موجودہ کو قبضہ میں رکھنے اور آئندہ کا مقابلہ کرنے کے لائق ہو جاتے ہیں۔

اس لئے ہم کو چاہئے کہ سب سے پہلے ہم اپنے بچوں کو اس قابل بنا دیں کہ پہلے وہ خود یہ پورے طور پر سمجھ سکیں کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں اور اس کے بعد وہ اس مطلب کو صفائی کے ساتھ ظاہر کرنا سیکھیں ۔ بیان کی صفائی، خیالات کی صفائی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہم کو پہلے صرف صفائی کا لحاظ کرنا چاہئے، صحت کا نہیں۔ اگر دونوں باتیں حاصل ہونا ممکن نہ ہوں تو یہ سمجھنا چاہئے کہ صفائی زیادہ بڑی کامیابی ہے اور اسی کے حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہئے، صحت کا تعلق صرف عادت سے ہے جو آسانی سے ڈالی جاسکتی ہے، ایک طالب علم کا ناقابل معافی قصور قواعد کی غلطی نہیں بلکہ اس کی تقریر کا غیر مربوط اور الجھا ہوا ہونا ہے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:  شہید کربلا نواسہ رسول ﷺ، سیدنا حسین بن علیؓ

ابتدائی تعلیم سے ہماری غرض صرف یہ ہے کہ طلبہ میں مندرجہ ذیل باتیں پیدا ہو جائیں:
ایک سادی بات کو سادے طریقے سے کیونکر کہنا چاہئے
ایک سادی بات کو سا دے طریقے سے کیونکر سننا یا سمجھنا چاہئے
ایک سادی بات کو سادے طریقے سے کیونکر پڑھنا چاہئے
ایک سادی بات کو سادے طریقے سے کیونکر لکھنا چاہئے۔
ماہرین لسانیات کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 70سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔