مولی کی افادیت

EjazNews

مولی موسم سرما کی وہ پسندیدہ اور مشہور سبزی ہے کہ جسے تقریباً سبھی ذوق و شوق سے کھاتے ہیں۔ مولی کوسندھی میں موری، عربی میں فجل، فارسی میں قرب، بنگالی میں مولا اور انگلش میں Radishکہا جاتا ہے۔ تاثیر کے اعتبارسے یہ گرم و خشک ہو تی ہے۔ اس کے تقریباً دو قسمیں سرخ اور سفید پائی جاتی ہیں۔ مولی میں پروٹین، چکنائی، نشاستہ، شکر، کیلشیم، فاسفورس، پوٹاشیم، وٹامن بی، سی اور ای کے علاوہ قلیل مقدار میں فولاد بھی پایا جاتا ہے اور انہی غذائی اجزاءکی بدولت مولی جسم کی کئی تکالیف کا موثر ثابت ہوئی۔

گردہ و مثانہ کی پتھری کی شکایت میں مولی کا استعمال بے حد مفید اور زود اثر ہے اور اگر اسے مسلسل استعمال کیا جائے تو جسم سے پتھری ریزہ ریزہ ہو کر خارج ہو جاتی ہے۔

بواسیرکی شکایت میں مولی کا رس اور مولی کے پتے بے حد مفید ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آئیے جانتے ہیں پیازکے بارے میں

یرقان کے مرض میں مولی کے پتوں کو کچل کر ان کا پانی نکالیں اور اسے مناسب درجہ حرارت پر پکائیں۔ جب پانی میں جوش آجائے تو چھان کر شکر ملا کر پئیں یرقان کے مرض کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

خون کی صفائی کے تازہ مولی کا رس 40گرام سے 80گرام تک استعمال کر نے سے کافی فائدہ ہوتا۔

مولی کھانے سے تلی کے امراض میں افاقہ ہوتا ہے۔

مولی جگر کے فعل کو درست کرنے میں سب سے بہترین دوا اور غذا ہے۔

ہر عمر کے افراد کے لئے قبض کی بہترین دوا مولی ہے۔

پیشاب کی بندش کی تکلیف میں مولی کو زیادہ استعمال سے پیشاب کھل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پیشاب کا رک کر آنا، جل کر آنا یا قطرہ قطرہ آنا، ان تمام تکالیف کو مولی ختم کر دیتی ہے۔

 نصف پیالی مولی کے تازہ رس میں ایک چمچ مصری ملا کر صبح کے وقت پینے سے درد گردہ کی تکلیف دور ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آئیے جانتے ہیں کلونجی ہماری صحت کےلیے کتنی مفید ہے

استسقا کے مرض میں مریض کا پیٹ پھول جاتا ہے اور مریض کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اطباءحضرات اس تکلیف کے 84گرام مولی کا رس شہد یا شکر ملا کر دن میں دو یا تین بار پینے کی ہدایت کرتے ہیں۔

مولی کے بیج نصف تولہ کی مقدار میں روزانہ استعمال کریں۔ اس سے قوت باہ میں اضافہ ہوگا۔

پیٹ کے بہت سے امراض میں مولی کا نمک قدیم زمانہ سے استعمال کیا جارہا ہے۔