عالمی عدالت انصاف میں بھارتی وکلاء کے دلائل مکمل

EjazNews

عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت کے تیسرے روزے بھارتی وکیل آئیں بائیں شائیں کرتے رہے، پاکستانی دلائل کے بعد بھارتی وکیل ہریش سالوے کے دلائل مکمل ہوگئے۔ بھارتی سینئر وکیل ہریش سالوے دلائل کی بجائے مفروضے بیان کرتے رہے۔ بھارتی وکیل کلبھوشن کیس میں پاکستان کی جانب سے لگائے جانے والے کسی الزام پر کوئی ٹھوس دلیل نہ دے سکے۔بھارتی وکلاء کلبھوشن کا نقلی پاسپورٹ اور نوکری سے ریٹائرمنٹ کی وجہ اور ثبوت بھی پیش نہ کر سکے۔ پاکستانی وکلاء نے چھ سوال اٹھائے تھے ،جس کا بھارتی وکلاء کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ اپنے جوابات ایسے دیتے رہے جیسے عدالتیں ثبوتوں پر نہیں بلکہ مفروضوں پر چلتی ہیں۔
جبکہ دوسری جانب عالمی عدالت انصاف نے ایڈہاک جج تبدیل نہ کرنے کی پاکستانی استدعا پر بھی فیصلہ سنا دیا۔ فیصلے میںکہا گیا ہے کہ تصدق حسین جیلانی عدالتی بینچ کا حصہ رہیں گے ۔ان کا آنا ممکن نہ ہوا تو بعد میں اپنا فیصلہ دے سکتے ہیں۔ ایڈہاک جج آزاد جج کے طور پر کام کرتے ہیں ، ایڈہاک جج کیلئے آنا ممکن نہ ہو تو بعد میں وہ اپنا فیصلہ دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  میاں حمزہ شہباز شریف کی لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو