وزیراعظم پاکستان کی تقریر ،امن اور میڈیا

EjazNews

تحریر :الف سلیم
وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقریر کا ایک ایک لفظ اپنے اندر معنی سموئے ہوئے تھا کہ پاکستان میں سعودی ولی عہد آرہے ہیں اس موقع پر ہمیں کسی دوسرے ملک میں حملہ کروانے کی کیا ضرورت پڑی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ کارروائی کسی پاکستانی نے کی ہے یا کروائی ہے تو آپ ثبوت دیں اس کیخلاف ہم کارروائی کریں گے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا آفر ہو سکتی ہے۔

لیکن معاملہ کچھ الگ ہی ہے ۔ انڈیا میں الیکشن کا سال ہے۔ اس قسم کی سیاست سے وہاں برسر اقتدار پارٹی کو نئی شہرت ملتی ہے۔ کیونکہ وہ مسلم اور پاکستان دشمنی میںکسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں ہے۔ لیکن کیا ان کو اس کاذ پر ووٹ دینے والے جانتے ہیں کہ جن کو وہ دھمکی دے رہے ہیں وہ بھی ایک ایٹمی طاقت ہیں، اگر ان کے بچوں کو نقصان پہنچے گا تو کیا سرحد کے پار بچے محفوظ رہیں گے۔ یہ احمقوں والی باتیں کہ پاکستان کو سبق سکھائیں گے ، صبر کریں بدلہ لیں گے، اب صبر کی انتہاء ہو چکی اور اس کے اوپر الیکٹرانک میڈیا کی تو سمجھ نہیں آتی وہ کچھ بھی ہونے سے پہلے یہ فیصلہ کر چکا ہو تا ہے کہ یہ کارروائی سرحد پار سے ہوئی ہے۔ بغیر سوچے سمجھے ، اخلاقی اقدار کو جانچے بغیر فیصلہ کرنا شروع کر دیتا ہے ، یہ ہمارے لیے تو اتنا نقصان دہ نہیں بلکہ ان کے اپنے ملک کے لیے زہر قاتل ہے ،جہاں پر ٹی آر پی کے چکروں میں معاملہ کہیں سے کہیں چلا جاتا ہے۔ آج انڈیا کے ایک ٹی وی شو میں پاکستان سے ایک صحافی اور انڈیا سے ایک فوجی جرنل کو مدعو کیا گیا ۔ پہلا سوال اینکر نے اپنے فوجی صاحب سے پوچھا جس کا کائونٹر جواب پاکستان سے صحافی نے دینا تھا ۔ جب پاکستانی صحافی کی باری آئی تو جواب سننے کی بجائی اینکر صاحبہ فیصلہ سنا رہی تھیں۔ ایسا ایک نہیں کئی بار ہو چکا ہے، ایک ٹی وی پروگرام میں جب ایک کانگریس کے رہنما نے پاکستان کیخلاف بات کرنے کی بجائے حقائق سامنے رکھے تو اس کے مائیک کی آواز بند کر دی گئی،وزیراعلیٰ دہلی کیجروال کی سرجیکل سٹرائیک پر کتنی لے دے ہوئی تھی ،کیونکہ وہ سننا ہی وہ آواز چاہتے ہیں جو پاکستان کیخلاف ہو ۔
میڈیا معاشرے میں بہتری کےلیے ہوتا ہے نہ کہ ٹی آر پی کے چکروں میں معاشروں کو تباہ کرنے کے در پے لگا رہتا ہے۔ انڈین معاشرہ خاص کر موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد متعدل لوگوں کے رہنے کی جگہ نہیں رہا ہے اس کا اظہار ہم بارہا سن ، دیکھ چکے ہیں، اگر انڈیا میں کوئی اظہار کر دے خاص کر وہ مسلمان ہو چاہے، عامر خان فیملی جیسی لبرل فیملی کا آدمی کیوں نہ ہو اس کو انڈیا سے جانے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی طرف آئیے


اچھے ہمسایوں کی طر ح رہنا سیکھیں ، کشمیر کا مسئلہ بھارت نے ہی الجھا کر رکھا ہے۔آزادی کے وقت ایک ریاست پر فوجی چڑھائی یہ کہہ کر دی کہ اس کے عوام ہمارے ساتھ ہیں اور دوسری پر یہ کہہ کر کہ اس کا حکمران ہمارے ساتھ ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے تولنے ، دیکھنے اور موازنہ کرنے کا یہ کون سا پیمانہ ہے۔ دو ایٹمی طاقتیں جنگ کی متحمل ہو ہی نہیں سکتیں۔ لڑائی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتا ۔ ہمیں معلوم ہے آپ کے الیکشن کا سال ہے ۔ ضرور الیکشن لڑیں لیکن اس طرح سے نہیں۔
آپ نے اپنے معاشرے کو تو متشدد بنا دیا ہواہے۔ اب اس تشدد پنے کو اپنی سرحدوں کے اندر ہی رہنے دیں تو بہتر ہے۔ کیونکہ اگر یہاں سے بھی تشدد ابھرے گا تو نقصان سب کا ہوگا۔ کشمیر ایک جیگتا جاگتا مسئلہ ہے۔ کشمیر نوجوان نڈر کیوں ہیں ان کو موت کا ڈر کیوں نہیں ہے۔ اس سوال کا جواب آپ کو کشمیر کی موجودہ صورتحال سے بآسانی مل سکتا ہے۔دنیا کی کسی بھی جگہ پر آپ فوجی طاقت سے قبضہ نہیں کر سکتے۔ نہ تو کوئی ویتنا م پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکا تھا اور نہ ہی افغانستان میں امن قائم کر سکا ہے ۔ تو پھر کشمیر میں فوجی غاصب بن کر کیسے قبضہ برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کی نسلیں تشدد کے اس ماحول میں جوان ہوئی ہیں جہاں ہر گھر سے ایک شہید کی لاش اٹھی ہے۔ ہر گھر میں ماتم ہوا ہےان کو معلوم ہے کہ ہم غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، اب غلامی کسی کو بھی پسند نہیں ہوتی ۔
اب کے موقع ہے مسئلہ کشمیر کو حل کیجئے ، اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے کے لیے ، اپنے بچوں کی بہتری کے لیے، آنے والے کل کی بہتری کے لیے۔ ایک خوشحال خطے کے لیے ، ورنہ آپ نے اسلحہ کا انبار پوری دنیا سے اکٹھا کر کے اپنی عوام کو بھوک کی آگ میں جھونکا تو ہوا ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خاندانی سیاست کیا ہوتی ہے؟