لیجنڈ اداکار آغا طالش کی برسی خاموشی سے گزر گئی

EjazNews

10نومبر 1947ء کو لدھیانہ میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس کا نام آغا علی عباس قزلباش رکھا گیا۔ بچہ جوان ہوا تو فلموں میں کام کرنے کا شوق پیدا ہو گیا۔اس شوق نے ممبئی کا راستہ دکھایا۔مصنف کرشن چند کی فلم سرائے کے باہر میں کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ قیام پاکستان سے پہلے 1945میں بننے والی فلم تھی۔ قیام پاکستا ن کے بعد یہ بچہ پاکستان کے شہر پشاور میں آگیا۔یہاں ریڈیو پاکستان میں ملازمت اختیار کی۔ لیکن فلم انڈسٹری ایسی دنیا ہے جو ایک مرتبہ اس کا ہوتا ہے وہ کبھی اس کے سحر سے نہیں نکل پاتا۔ 1953ء میں فلم نتھ مل گئی، کچھ نام بھی بنا۔ 1962ء میں ریاض شاہد کی فلم شہید نے عروج کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔اس کے بعد یہ بچہ آغا طالش بنا اور ایسا بنا کے 400سے زائد فلموں میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔ریاض شاہد پاکستان فلم انڈسٹری کے کامیاب ترین پروڈیوسر ،ڈائریکٹرز میں سے ایک تھے فلمی حلقوں کے لوگ بتاتے ہیں کہ وہ ببانگ دہل کہا کرتے تھے کہ فلم انڈسٹری میں صرف ڈھائی فنکار ہیں اور ان ڈھائی میں سے ایک آغا طالش ہیں۔ آغا طالش نے اپنی فلمی زندگی میں بڑے منفرد قسم کے کر دار ادا کیے۔ ان پر کسی ایک طرح کی چھاپ نہیں تھی ۔ سہیلی ، باغی، فرنگی، زرقا، وطن، شہید، کنیز، لاکھو ں میں ایک، امن، امرائو جان ادا جیسی مشہور زمانہ فلموں میں ان کے کر دار بے مثال تھے۔ فلم انڈسٹری میں انہیں ان گنت ایوارڈز ملے اس کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان نے بھی انہیں صدارتق تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا ۔ 1998ء میں اس دنیا فانی سے جانے والے اس اداکار کی آج برسی تھی۔ موجودہ فلم انڈسٹری کے لوگوں میں سے اگر سب کو پوچھ لیا بھی جائے کہ آغا علی عباس قزلباش کون تھے تو شاید ایک دو کے علاوہ کسی کو معلوم بھی نہ ہو۔ اس کا کچھ تجربہ ہم کر بھی چکے ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ اکیڈیمی کا درجہ رکھنے والے ان فنکاروں کو فلم انڈسٹری بھول چکی ہے۔ یہ شوبز کی روایات بھی ہیں کہ چمکتے ستاروں کی ہی سلام ہوتا ہے ۔ ان کے برخوردار بھی شوبز سے ہی وابستہ ہیں اورکئی ڈراموں میں بطور ا داکار ، پروڈیوسر ، ڈائریکٹر کام بھی کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  نواز الدین صدیقی ہوئے معترف مونی رائے کے