فرانس میں ییلوجیکٹ والوں کے مظاہر ے جاری

EjazNews

فرانس میں کم تنخواہوں سے شروع ہونے والے یہ مظاہرے کئی مہینوں سے جاری ہے۔ ان مظاہریں نے فرانس کی اینٹ سے اینٹ بجاکر رکھ دی ہے۔ حتیٰ کہ یہ کوئی منظم تنظیم کے تحت نہیں ہو رہے۔ بلکہ انٹرنیٹ پر اکٹھے ہونے والے لوگوں کا ایک اجتماع ہے جنہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے سے روابط قائم کیے۔ یہ مظاہرین فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تنخواہو ں میں کمی سے پریشان تھے۔ پہلے تو فرانس کے صدر امانوئیل نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا مگر جب انہوں نے فرانس کی سڑکوں پر جھلائو گھیرائو کیا تو صدر فرانس کو مجبور ہو کر ہتھیار ڈالنے پڑے۔ ان مظاہرین نے یہودی مخالف نعرے بھی لگائے۔یہودیوں کے خلاف نعرے لگانے پر صدر ایمانوئیل نے مظاہرین کی مذمت کی کہ ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔اب یہ مظاہرین دوبارہ پوری شدت کے ساتھ ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ مظاہرے نومبر 2018ء سے جاری ہیں۔ان مظاہروں کے دوران 11افراد ہلاک ہوئے اور 2ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ان مظاہروں میں 8ہزار 4سو افراد کو حراست میں لیا گیا ہےجبکہ 1796کو سزا بھی دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بابری مسجد کو رام مندر بنانے کا فیصلہ ،یہ ابتدا ہے انتہا کی