دنیا کی دلچسپ حقیقتیں

EjazNews

مکی ماﺅنس کا کارٹون کیا بچوں کیا بڑوں ہر ایک کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ اس کارٹون میں مکی ماﺅنس اور منی ماﺅنس کی آوازیں جو لڑکے اور لڑکیاں نکالتے تھے انہوں نے حقیقی زندگی میں شادی کر لی ۔ کارٹونوں میں ایک دوسرے کا پیچھے کرنے والے اپنی زندگی میں بھی ساتھ ساتھ رہنے لگے۔

جرمن چاکلیٹ کیک کا نام کسی ملک کے نام پر نہیں رکھا گیا بلکہ یہ ایک نوجوان سائم جرمن کے نام پر رکھا گیا جس نے یہ کیک تیار کیا تھا۔ جرمنی میں جلوٹین سے اتنے ہی لوگ مرے جتنے انقلاب فرانس میں مارے گئے ۔

امریکی ریاست ایری زونا میں ایک سن سٹی پاﺅنز ایک علاقہ ہے جہاں 55سال یا اس سے زائد عمر کے لوگ رہ سکتے ہیں کسی نوجوان کو یہاں رہائش اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ اموات ، سانپ ، شارک یا کسی دوسرے جانور کے کاٹے سے نہیں ہوتی بلکہ سب سے زیادہ اموات کا سبب مچھر ہے۔

دہشت ناک اور ڈرونی فلموں میں ڈرانے اور قتل و غارت کے لیے استعمال ہونے والا ہتھیار چینزفا درحقیقت گائنی کے آپریشن کے لیے ایجاد کیا گیا تھا۔

جاپان میں ایک جزیرہ ہے جہاں صرف یار دوست رہتے ہیں ان کے علاوہ کسی کو رہنے کی اجازت نہیں۔

امریکہ میں فاسٹ فوڈ کی دکانوں سے زیادہ لائبریاں ہیں اور یہی اس کی ترقی کا راز ہے۔

انگریزی کے حروف تہجی ایک ہی بار نہیں لکھے گئے یہ تاریخ کے ساتھ تبدیل
ہوئے اور ان کا نمبر بدلتا رہا۔ آخری لفظ جو انگریزی حروف تہجی میں شامل ہوا
تھا ۔ J بلکہ نہیں Z وہ

یہ بھی پڑھیں:  انڈیا میں ہسپتال کا بل ادا نہ کرنے پر معمر شخص کو بیڈ سے باندھ دیا گیا

اٹھارویں صدی میں لوگ ریشم ، ویلوٹ کے مصنوعی پیچ ورک پہنا کرتے تھے۔ کچھ فیشن کے طور پر چوہوں کی کھال کے پیچ ورک بھی اپنے کپڑوں کو لگاتے تھے۔

رنگین ٹی وی کی دریافت سے قبل 75فیصدلوگ بتاتے ہیں کہ وہ اپنے خواب بلیک اینڈ وائٹ رنگوں میں دیکھتے تھے لیکن اب بلیک اینڈ وائٹ خواب دیکھنے والوں کا تناسب محض 12 فیصد رہ گیا ہے۔

برطانیہ کا شاہی خاندان مناپلی نامی کھیل کھیلنے کا مجاز نہیں ، اسے اس کی اجازت نہیں۔

پاپ کان ان دنوں دنیا بھر میں مقبول ہے مگر گریٹ ڈپریشن سے پہلے تمام فلموں میں پاپ کون کا استعمال ممنوع تھا۔

پلاسٹک کے بیگوں کی طرح کاغذ کے بیگ بھی کسی طرح ماحول دوست نہیں۔

19 ویں صدی میں طبی ماہرین نے سائیکل چلانے والی خواتین کو محتاط کیا کہ سائیکل چلاتے وقت وہ اپنے چہرے پر خاص تفکرات اور پریشانی لاتی ہیں وہ ان کے چہرے کا حصہ بن جائیں گے ایسا موسم کی شدت کے باعث کئی مرتبہ دیکھنے میں آیا۔

زیادہ دور کی بات نہیں ہے 1980ءتک امریکی ریاست ورجینیا میں عورتیں تنہا ڈرائیونگ کرنے کی مجاز نہیں تھا ان کے ساتھ ان کے شوہر کا بیٹھنا لازمی تھا خاص کر وے نیس بورو کے علاقے مین سٹریٹ میں تو وہ اپنی کار کو لے جا ہی نہیں سکتی تھیں۔ ایسا صرف وہی عورتیں کر سکتی تھیں جن کی کار کے آگے ان کا شوہر سرخ جھنڈا لہراتا ہوا چل رہا ہویعنی مین سٹریٹ میں عورت کو کار لیجانے کے لیے آگے مرد کا ہونا اور سرخ جھنڈا لہرانا ضروری ہے۔ جیسے ٹرین کا کوئی گاڈ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈپریشن کا شکار لوگ حقیقت پسند ہوتے ہیں

ماﺅنٹین ڈیو کا ایک کین چوہے کو حل کر سکتا ہے۔ باقی اس کی کیمیائی طاقت کا اندازہ لگا لیں۔

کسی زمانہ میں سیارہ یورینسن سیارہ وینس کا جارج بھی تھا مگر یہ زیادہ دیر نہ چل سکا اور پھر اسے بدل کر یورینس رکھ دیا گیا ہے۔

میں امریکی عورتوں نے اینٹی فلرٹ کلب بنایا، اس طرح انہوں نے لڑکوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔

مہا ماس کے ایک جزیرے میں ایک تہرنے والے جانورکے علاوہ کوئی نہیں رہتا۔

رچرڈ نکلسن نے ایک مرتبہ Weedویڈ سے بھرا ہوا سوٹ کیس سمگل کیا۔ یہ سوٹ کیس لوئس آن سٹان کے لیے سمگل کیا گیا تھا۔

کینیڈین سوری کہنے میں بہت فراخ دل ہیں وہ دن میں اتنی مرتبہ سوری کرتے ہیں کہ 2002ءمیں اس کی روک تھام کے لیے سرکار کو دی اپلوجی ایکٹ نافذ کرنا پڑا اور اس میں حکومت نے اپنی غلطی کے اعتراف میں یا گناہ کے اعتراف میں کی جانے والی معذرت کو نظر انداز کرنے کا قانون بنایا یعنی سوری کو معافی کا جواز بنانے کی قانونی بنیاد ختم کر دی۔

کسی زمانہ میں زمین پر 3فٹ چوڑ ی جڑی بوٹیاں ہوتی تھیں اب اس سائز کے درخت ہوتے ہیں ایک زمانہ میں یہ مشرومز کا سائز ہوا کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  12برس تک حکومت کو بیوقوف بنانے والا اطالوی باشندہ گرفتار

روسی ریاست کے سٹریٹ پیٹر برگ کے میوزیم میں ایک ہیری ٹیج میوزیم بلیوں کی بہتاط ہے کہ انہیں پریس سیکرٹری برائے بلیاں تعینات کرنا پڑا۔

ء1898میں ایک مصنف نے ایک ٹائیٹنک کے ڈوبنے کا راز بتایا جبکہ ٹائیٹنک جہاز اس سے 13سال بعد بنا اور اسی انداز میں ڈوبا جس انداز میں مصنف نے اس کے ڈوبنے کا بتایا تھا۔

پولینڈ میں ایک ایسا گاﺅں ہے جس کی ہر چیز کو پھولوں کی مصوری سے سجایا گیا ہے ۔

دنیا میں ایسے درخت پائے جاتے ہیں جن کو مختلف قسم کے پھل اور سبزیاں لگتی ہیں ان درختوں کو فروٹ سیلڈ درخت کہا جاتا ہے۔

آسٹریلیا کے علاقے کوئنز لینڈ میں ہر کوئی خرگوش نہیں پال سکتا اسے پالنا غیر قانونی ہے ۔ہاں جادوگر خرگوش رکھ سکتے ہیں۔

ٹی شرٹ درحقیقت غیر شادی شدہ نوجوانوں کے لیے تیار کی گئی تھی کیونکہ ان کو بٹن لگانا نہیں آتے اور نہ ہی بٹن ٹانکنا آتے تھے۔ وہ کالر کا بٹن خود نہیں لگا سکتے تھے چنانچہ ان کی سہولت کے لیے ایسی قمیضیں بنائی گئیں جن میں بٹن ہی نہیں تھے اور اب ان کو شادی شدہ افراد نے بھی پہننا شروع کر دیا۔

18اپریل 1930ءمیں 12.30بجے کے خبر نامے میں بی بی سی سے ایک نیا انکشا ف کیا اس کے خبرنامے میں نیوز کاسٹر نے کہا آج ہمارے پاس کوئی خبر نہیں۔

18ویں صدی کا انسان دن میںدو مرتبہ سویا کرتا تھا ایک تین چار گھنٹے کی نیند ہوتی تھی اور پھر دو تین گھنٹے کے کام کاج کے بعد پھر طویل نیند۔ نیند کا دورانیے آہستہ آہستہ ختم ہو گئے۔

ء1830کو کیچپ کو درحقیقت کئی بیماریوں کے علاج کے لیے بنایا گیا ابتداءمیں یہ بطور دواءفروخت ہوا کرتا تھا۔

میامی امریکہ کا واحد بڑا شہر ہے جس کی بنیاد ایک عورت نے رکھی۔