جنوبی پنجاب کا صوبہ ایک خواب یا حقیقت

EjazNews

ہر بار الیکشن نزدیک آتے ہی نئے صوبے کے حامی اور جنوبی پنجاب کی محرومیوں پر دِل گرفتہ افراد اکٹھے ہونا شروع ہو جاتے ہیں، کیوں کہ اُنہیں معلوم ہے کہ عوام اس نعرے پر اُنہیں ووٹ دیں گے۔ دوسری جانب، الگ صوبے کی مخالف لابی بھی بہاول پور صوبے کی بحالی کے حامیوں کو متحرک کر دیتی ہے تاکہ پنجاب کی تقسیم کے ایشو کو یہ کہہ کر دبا دیا جائے کہ جنوبی پنجاب میں تو کئی صوبوں کے لیے تحریکیں چل رہی ہیں، کسے کسے صوبہ دیں۔ اس کے ساتھ ہی ہزارہ اور کراچی صوبے کی باتیں بھی شروع کردی جاتی ہیں۔ اور یوں پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کی مخالف قوتیں، پورے پاکستان میں صوبے بنانے کی ہوا چلا کر جنوبی پنجاب یا سرائیکی علاقوں کے عوام کی آواز کو دبا دیتی ہیں۔ جنوبی پنجاب یا سرائیکی وسیب،13 اضلاع پر مشتمل پنجاب کا پسماندہ ترین خطہ ہے اور اس پسماندگی کی بہت سی وجوہ ہیں۔ سب سے اہم اور بنیادی وجہ تو اس خطے کا جاگیردارانہ نظام اور وڈیرہ شاہی ہے، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ یہی جاگیردار اور وڈیرے اپنے مفادات کے لیے جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت میں بھی کھڑے ہو جاتے ہیں اور مفادات کے حصول پر چپ سادھ لیتے ہیں۔ پھر یہ کہ آمریت ہو یا جمہوریت، یہ جاگیر دار ہر دور میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ صدرپاکستان، وزیراعظم، وزیر اعلیٰ سمیت کوئی ایسا اعلیٰ منصب نہیں، جو اس خطّے کے جاگیرداروں نے حاصل نہ کیا ہو، مگر اس کے باوجود عوام کی حالت جوں کی توں ہی رہی۔
دراصل جنوبی پنجاب صوبے کے مطالبے کے دو بنیادی محرکات ہیں۔ پنجاب کی تقسیم کے مطالبے کی پہلی وجہ تو آبادی ہے، کیوں کہ 12کروڑ آبادی پر مشتمل صوبے کا انتظام اچھے انداز سے چلایا جانا ممکن نہیں۔ نیزدنیا میں شاید ہی کہیں اس قدر آبادی پر مشتمل کوئی صوبہ ہو۔ دنیا کے 44 ممالک ایسے ہیں، جن کی آبادی، آمدنی اور رقبہ پنجاب سے کم ہے۔ پنجاب سے علیحدگی کادوسرا اور انتہائی اہم محرک، اس خطے کی پسماندگی ہے، کیوں کہ یہ خطہ ہر لحاظ سے پنجاب کے دیگر حصوں کی نسبت نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ70 سالوں سے اقتدار کے مزےلوٹنے والوں نے جنوبی پنجاب کے13 اضلاع کے عوام کو تعلیم، صحت اور پانی جیسی بنیادی سہولتوں تک سے محروم رکھا۔ انھوں نے کبھی یہ تک نہیں سوچا کہ کیا سب سے زیادہ کپاس پیدا کرنے والے اس خطے کو زرعی یونیورسٹی کی ضرورت نہیں؟ کیا سب سے میٹھا آم پیدا کر نے والے اس خطے کے کسان کو جیم جیلی اور جوس انڈسٹری کی ضرورت نہیں؟ سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹس کا مطالعہ کریں، تو اندازہ ہوگا کہ کس طرح اس خطے کے عوام کا استحصال کیا جاتا رہا ہےاور یہ استحصال ،پنجاب کی تقسیم کی آواز بن کر ابھرا ہے۔ حکومت پنجاب کے ڈسٹرکٹ بیس ملٹی انڈی کیٹر سروے سے، جو یونیسیف کے تعاون سے کروایا گیا تھا، لیے گئے اعداد وشمار کے مطابق، پنجاب کے سب سے بہتر اضلاع میں لاہور، سیالکوٹ، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرنوالہ، جبکہ پسماندہ ترین اضلاع میں، مظفر گڑھ، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، لودھراں اور لیہ شامل ہیں۔ پنجاب کے صرف 24 فی صد افراد کو صاف پانی میسر ہے اور جن اضلاع کے24 فی صد افراد کو یہ سہولت حاصل ہے، وہ زیادہ تر بالائی پنجاب کے رہائشی ہیں۔ دوسری طرف مظفر گڑھ، ملتان، خانیوال، لیہ اور بھکر، پانچ ایسے اضلاع ہیں، جہاں ایک فی صد سے بھی کم آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔ اسی طرح، تعلیم کے اعتبار سے پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں بھی زیادہ تر جنوبی پنجاب ہی کے اضلاع ہیں۔ ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، راجن پور، بہاولپور اور بھکر کے 60 فیصد سے زیادہ لوگ ان پڑھ ہیں۔ عالمی بینک کے سڑکوں کے معیار کے مطابق ایک مربع کلومیٹر میں، سڑکوں کی لمبائی نصف کلومیٹر ہونی چاہیے۔ پنجاب کے بعض ترقی یافتہ اضلاع یعنی لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد اور گوجرنوالہ میں سٹرکیں عالمی معیار سے زیادہ ہیں، جب کہ راجن پور، بہاول پور، ڈیرہ غازی خان، لیہ، بھکر، میاں والی، بہاولنگر اور رحیم یار خان اضلاع میں سڑکیں عالمی معیار سے کہیں کم ہیں۔ اس رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ صوبہ پنجاب کے کچھ علاقے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور کچھ اضلاع بہت زیادہ پسماندہ ہیں اور جو پسماندہ ہیں، اُن میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ لہٰذا عوام سمجھتے ہیں کہ اس پسماندگی کو دور کرنے کا واحد راستہ، پنجاب کی تقسیم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب 20لاکھ آبادی پر مشتمل گلگت، بلتستان کو صوبائی خود مختاری دی جا سکتی ہے، تو پنجاب میں نئے صوبے کیوں نہیں بن سکتے؟
الیکشن میں’’ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ کے نام سے کچھ لوگوں نے اتحاد قائم کیاتھا اور ان میں سے بہت سے قومی اور پنجاب اسمبلی میں بھی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ کیا یہ اتحاد صرف انتخابات میں ووٹ لینے کے لیے قائم کیا گیا تھا یا پھر وہ ارکان اسمبلی واقعی عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے میں اپنا سنجیدہ اور موثر کردار ادا کریں گے۔ صوبوں کی تقسیم نہ صرف وفاق کے مفاد میں ہے، بلکہ سیاسی پارٹیوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ تاہم، اس حوالے سے سردست پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، مسلم لیگ ق اور آزاد گروپ کُھل کر صوبے کی حمایت کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن مخالفت تو نہیں کر رہی ، لیکن کُھل کر حمایت بھی نہیں کررہی۔ کئی جماعتوں کے منشور میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا وعدہ شامل ہے، سو سیاسی رہنماؤں کو اس جانب ضرور قدم بڑھانا چاہیے۔
(یہ آرٹیکل روزنامہ جنگ سنڈے میگزین کی اشاعت سے لیا گیا ہے )

یہ بھی پڑھیں:  کراچی غیر قانونی تعمیرات کس کا کیا موقف ہے