مسائل ٹیبل پر بیٹھ کر حل ہوتے ہیں

EjazNews

اگرانڈیا سے آنے والی آج سارے دن کی خبرو ں کا جائزہ لیں تو ایسے لگتا ہے جیسے انڈیا والوں نے سوچ لیا ہو کہ بھائی آج ہر کام پاکستان کیخلاف یا خود اپنے ہی خلاف کرنا ہے۔ دن کے آغاز میں پاکستانی سیکرٹری خارجہ کا بیان تھا کہ بھارت بے بنیاد الزامات نہ لگائے اس کے بعد کیا تھا۔ اس کے بعد پتہ چلا بھارتی حکومت نے پھرتیاں دکھانا شروع کر دیں۔2007ء میں اس دنیا فانی کو خیر باد کہنے والے عبد الرشید غازی کو ماسٹر مائنڈ قرار دے دیا۔ بھائی پہلے پتہ تو کر لینا تھا جس پر الزام لگا رہے ہو وہ کہاں بیٹھ کر تمہار ے خلاف پلاننگ کر رہا ہے ۔اس کے بعد سوشل میڈیا سے پتہ چلا کہ بھارت میں چار سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا نے کے بعد ذبح کر دیا گیا ہے۔ خبر پڑھ کر افسوس ہوا۔ لیکن انڈیا میں سب سے زیادہ ریپ کے واقعات ہوتے ہیں۔ وہاں جانے والی غیر ملکی سیاح خواتین اکثرریپ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ پھر اس کے کچھ دیر بعد پتہ چلا کہ بھارتی میوزک ساز کمپنی نے شدت پسندوں کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے پاکستانی گلوکاروں کے گانے سوشل میڈیا سے ختم کردئیے۔ ابھی یہ خبر گزری ہی تھی کہ بھارتی حکومت نے اپنے ملک میں پاکستان سپر لیگ کے دکھانے پر پابندی عائد کر دی۔ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا ، جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو بھارتی میں ایسی ہی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے ۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ہمارے یہاں سے کچھ لوگ انڈیا گئے ۔ انہوں نے اپنے وہاں کے میزبان کے ساتھ مشترکہ کانفرنس کرنی تھی۔ میڈیا بھی آگیا لیکن میزبان نہیں آیا۔ کچھ ا نتظار کے بعد منہ اور کپڑے سیاہی سے بھرے ایک شخص نے انٹری دی پتہ چلا کہ میزبان ہیں۔ ان پر شدت پسندوں نے سیاہی پھینکی تھی۔ کیونکہ ان کی جیت امن سے نہیں لڑائی سے ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ کی ایران پر نئی پابندیاں

کبھی بھی کسی مسئلے کا حل اس طرح کی اوچھی حرکات سے نہیں نکلتا کہ آپ لوگوں سے ان کی آزادیاں چھین لو۔ لوگوں سے ان کے انٹرٹینمنٹ کے مواقع چھین لو اور دھمکیاں دو ۔ اگر آپ کوبہار کے الیکشن یاد ہوں تو پورے ہندوستان میں ایسی صورتحال بنائی گئی تھی کہ مسلمان ختم ہونے والے ہیں۔ لیکن الیکشن ختم سب ٹھیک ۔ اسی طرح کی صورتحال آج کل انڈیا میں بنائی جارہی ہے کہ پتہ نہیں کیا ہم کیا بگاڑ لیں گے۔ الیکشن ختم ہونے دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔