سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جدید سوچ کے حامل حکمران

EjazNews

33سالہ ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود 31اگست 1985ء کو ریاض میں پیدا ہوئے، 4بچوں کے والد ہیں۔ پورا نام محمد بن سلمان بن عبدالعزیز بن عبدالرحمن بن فیصل بن ترکی بن عبداللہ بن محمد بن السعود ہے۔24برس کی عمر میں انہوں نے بطور خصوصی مشیر سیاست میں قدم رکھا ان دنوں آپ کے والد کے پاس ریاض میں گورنر کی گورنر شپ تھی۔ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت محمد بن سلمان ایک کے بعد دوسرے منصب پر فائز ہوتے رہے۔
شاہ سلمان سعودی عرب کے معاشی فیصلے کرنے والے طاقتور ادارے اقتصادی و ترقیاتی امور کے بھی چیئرمین ہے جبکہ سعودی عرب میں سیاسی اور سلامتی کے امور کے فیصلے کرنے والی اہم ترین کونسل برائے سیاسی و سلامتی امور کے بھی چیئرمین ہیں۔ اپنی نامزدگی کے وقت سعودی عرب کے کم عمر ترین وزیراعظم تھے۔ سعودی عرب میں کئی اہم فیصلے محمد بن سلمان کے دور میں ہی ہوئے ۔
جون 2017ء میں پرنس نامزد ہونے کے بعد سعودی عرب کو جدید ، بدعنوانی سے پاک اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے گئے۔ جون 2017ء میں انہیں پرنس بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔شاہ محمد بن سلمان نے 21جون 2017ء کو یہ شاہی منصب سنبھالا۔
محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں کئی قوانین جاری کیے اور پولیس کے بعض اختیارات پرقدغنیں لگائیں۔ خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دیا ،خواتین کے لیے الگ سپورٹس سٹیڈیم بنایا گیا ۔خواتین کو کام کرنے کی بھرپور آزادی دی اور ملازمتوں میں ان کا حصہ بڑھایا۔
انہوں نے سعودی عرب کو جدید ترقی یافتہ ریاست بنانے کے لیے ویژن 2030ء بنایا۔ اس کا مقصد سعودی معیشت کو پٹرولیم مصنوعات کے علاوہ جدید ترین صنعتی ملک بنانا تھا۔پٹرولیم مصنوعات کی مانگ اور اس کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے اثرات سے باخوبی آگاہ ہیں۔ پٹرولیم مصنوعا ت کی قیمتوں میں 2011ء میں بدترین کمی نے تمام او پیک ممالک میں بحران پیدا کر دیا تھا۔ جب خام تیل کی قیمتیں 15ڈالر فی بیرل پر آگئی تھیں ۔اسی لیے اپنے ویژن 2030ء میںانہوں نے اپنی ملک کو ٹیکنالوجی اور انڈسٹری کے ذریعے جدید ملک بنانے پر کام شروع کیا ۔
پرنس محمد بن سلمان سعودی عرب کو جدید ریاست بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانا چاہتے ہیں۔ معاشی اور سماجی موضوعات پر ان کا نقطہ نظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جو سعودی عرب کو مستقبل میں ایک ترقی یافتہ ریاست بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب کی معیشت کی ری سٹرکچرنگ جاری ہے اور 15سال کے اندر اندر اپنے ویژن 2030ء کے ذریعے کثیر الجہتی بنیادو ں پر استوار کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی سلسلے میں اکتوبر 2017ء میں آپ نے ریاض میں فیوچر انویسٹمنٹ یعنی سعودی عرب میں مستقبل میں سرمایہ کاری کے دروازے کھولنے کے لیے ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ محمد بن سلمان نے 5سو ارب ڈالر سے 26ہزار مربع کلو میٹر پر محیط ایک بڑا معاشی زون بنانے کا اعلان کیا۔ یہ معاشی زون بحر قلزم کے قریب ار دن اور مصر کی سرحدوں تک وسیع ہے۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے مذکورہ ویژن پر عملدرآمد کے لیے مایہ ناز غیر ملکی معاشی ماہرین اور تجربہ کار صنعت کارو ں کی خدمات حاصل کی ہیں۔ جرمنی کے معروف بزنس مین اور متعدد بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی ان میں شامل ہیں۔ اس کا پہلا مرحلہ 2025ء میں مکمل ہوگا۔ ویژن 2030ء تک محمد بن سلمان نے 80بڑے منصوبوں پر عملدرآمد کا بیڑا اٹھایا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  کارکے معاہدہ کیا تھا اور پاکستان پر جرمانہ کیوں ہوا؟