سدھو صاحب امن کی راہ بڑی مشکل ہوتی ہے

EjazNews

نوجوت سنگھ سدھو کا کڑا وقت اسی وقت سے شروع ہو گیا تھا جب وہ پاکستان آکر کرتار سنگھ پر سکھ یاتریوں کے لیے آسانیاں پیدا کروانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ان کا یہ کام ہندوئوں کو کہاں بھاسکتا تھا۔ کیونکہ اگر یہ کام کسی ہندو رہنما نے کیا ہوتا تو اسے دیوی دیوتائوں کا خدمت گزار مانا جاتا لیکن یہاں معاملہ اقلیت کا ہے ۔اس وقت سے لے کر اب تک سدھو صاحب انڈین میڈیا اور ہندو لابی کے نشانے پر ہیں۔نوجوت سنگھ سدھو اکیلے نہیں ان جیسے امن پسند بہت سے اور ہیں لیکن شدت پسندوں کی ایک تو حکومت ہے اور دوسرا پورے انڈین معاشرے کو انہوں نے اپنی جکڑ بند میں باندھ رکھا ہے۔ اب وہاں الیکشن بھی سر پر ہیں تو پھر بھائی جو امن کی بات کرے گا ۔جوکہے گا کا دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، مہاتما گاندھی اور اندراگاندھی کو قتل کرنے والوں کے ڈی این اے اگر ہندو راج میں چیک کرائے جائیں تو وہ بھی پاکستانی نکلیں گے۔ وہ پاکستانی بنیں گے کیسے اس کے ماہر ہیں وہاں کے میڈیا مین کسی اور کو کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔
بحرکیف سدھو جی کو کوئی کچھ بھی کہہ لیں وہ سکھوں کے لیے تو ہیرو بن گئے ہیں لیکن وہ ہندوئوں کے لیے ہندوستان میں ولن ہی ہیں۔ ہوں کیوں نا ، دور بین سے مقدس سرزمین کو دیکھنے والے اب وہاں پر آجا سکیں گے۔ لیکن اس کا فیصلہ تو ان الیکشنوں نے کرنا ہے کہ آیا سکھوں کو انڈیا سے پاکستان میں آنے کی اجازت بھی ملتی ہے کہ نہیں کیونکہ جب آپ اپنے معاشرے کو پرتشدد بنا دیتے ہوتو اس کی کوئی حد نہیں رہتی۔ اور پھر جب یہ شدت پسندی میڈیا کو بھی پوری طرح اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہوں ، ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھا اینکر یہ خواہش کر رہا ہو کہ میرے سامنے بیٹھا شخص کسی نہ کسی طرح سے ہر وہ بات کہے جس سے پاکستان مخالفت اور شدت پسند ی سامنے آئے۔
میڈیا سے اوم پوری محروم یاد آگئے ،تھے وہ بھی ہندوتھے لیکن مہنگی پڑی امن کی حمایت کرنا۔ مجھے آج بھی یاد ہے ان کا ٹی وی پروگرام جب اینکر ان کو کہہ رہا تھا کہ پاکستان یہ ، پاکستان وہ اور بھائی اوم پوری صاحب امن کی بات کر رہے تھے ۔ اور کہہ رہے تھے بچے ان کے بھی ہیں صرف تمہارے نہیں ہیں۔بعد میں آکر ٹی وی سکرین پر ان سے معافی منگوائی گئی، ہندوستان میں ان کیخلاف کتنے پروگرام ہوئے اور کتنے جلسے جلوس نکالے گئے۔ نصیر الدین شاہ کو تو ہندوستان سے نکال دینے کی دھمکی دینے والے شدت پسند سدھو کو کہاں آرام سے جینے دیں گے۔
بھائی سدھو صاحب اب آپ کا حوصلہ دیکھتے ہیں کہاں تک برداشت کرتے ہیں کیونکہ شنید ہے کہ آپ کو آپ کے ٹی وی پروگرام سے بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملائیشیا کے نئے وزیر اعظم محی الدین نے حلف اٹھا لیا