سفید چینی :کچھ احتیاطی تدابیر

EjazNews

19ویں صدی کے وسط میں سفید چینی متعارف کروائی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مٹھاس پیدا کرنے میں یہ باقی تمام چیزوں کو بہت پیچھے چھوڑ گئی۔مگر جب اس کا استعمال عام ہوا تو مضر اثرات بھی ظاہر ہونے لگے۔ جس کے بعد ہی سفید چینی پرباقاعدہ تحقیق کا آغاز ہوا۔چینی میں مٹھاس کے علاوہ کسی بھی قسم کاحیاتین، ریشہ اور معدنی نمک نہیں پایا جاتا کیوںکہ چینی بنانے کے عمل میں یہ تمام غذائی اجزاء ضائع ہوجاتے ہیں۔اس کے زیادہ استعمال سے شوگر تو ہوہی سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کے دانتوں کو کیڑا لگانا، مسوڑھوں کی سوجن بھی ہو سکتی ہے۔اگر جسم میں شوگر کی مقدار بڑھ جائے تو اس کی علامات کچھ اس طرح سے ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔تھکن، لرزہ، دل کی تیز دھڑکن، حافظے کے مسائل، دماغ کو ایک جگہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔ جسم میں شکر کی مقدار زائد ہونے کے سبب اس میں شدید کمی بھی واقع ہو سکتی ہے،جسے طبّی اصطلاح میں ہائپوگلائی سیمیا کہا جاتا ہے۔اس کی علامات میں تھکاوٹ، سرچکرانا، ڈیپریشن اورچڑچڑاپن وغیرہ شامل ہے جبکہ بعض اوقات بے ہوشی بھی طاری ہو جاتی ہے۔
سفید چینی کھانے پینے کی عام اشیاء جیسے سافٹ ڈرنکس، مٹھائیوں، آئس کریمز،جوسز، ملک شیکس، کیک و پیسٹریاں، بیکری کی تمام مصنوعات، چائے، کافی، جام، جیلی،ٹافیوں، چاکلیٹس، مختلف مشروبات، حلواجات اور تمام اقسام کے میٹھے پکوان میں بکثرت موجود ہوتی ہے،لہٰذا ان اشیاء کے استعمال کوترک کرکے متبادل
: اشیاء استعمال کیجئے مثال کے طور پر

یہ بھی پڑھیں:  برقی مقناطیسیت آلات کے مضر اثرات

گنّے کا رس

اگرچہ سفید چینی بھی گنّے ہی کے رس سے تیار کی جاتی ہے، لیکن اس کی تیاری کے دوران تمام غذائی اجزا ضائع ہو جاتے ہیں، جبکہ گنّے کا رس نہ صرف وٹامن بی اور سی کا بہترین ماخذ ہے،بلکہ جسم کو مٹھاس بھی پہنچاتا ہے۔

شہد

سفید چینی کا بہترین متبادل ہے۔ شہد میں75فی صد شکر پائی جاتی ہے،جو41فی صد فرکٹوز اور 34فی صد گلوکوز پر مشتمل ہے اور اس میں موجود وٹامن اے، بی اور سی کی وجہ سے جسم کو مٹھاس ہی نہیں، تقویت بھی حاصل ہوتی ہے۔

شیرہ

چینی بنانے کے دوران جس سیال میں سے چینی کشید کی جاتی ہے، اسے راب یا شیرہ کہا جاتا ہے۔ یہ عموماًگنّے یا چقندر کا سیال ہوتا ہے، جس میں30فی صد تک شکر۔ شیرےکا استعمال کئی امراض، خصوصاً معدے کے السر میں بےحد مفید ہے۔ نیز دورانِ حمل استعمال کیا جائے،تو زچّہ و بچّہ کی صحت بہتر ہوجاتی ہے۔اس کے لیے روزانہ ایک چائے کا چمچ شیرہ ایک کپ پانی میں ملا کر پیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  بدلتے موسم میں صحت مند رہنے کیلئے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے

گڑ اور شکر

گزرے ہوئے وقتوں میں ان دونوں کا استعمال بہت عام تھا، جس کی وجہ سے اُس وقت کے لوگوں کی نہ صرف صحت قابل رشک تھی، بیماریاں بھی ناپید تھیں۔یہ دونوںاجزاء گنے کے رس سے تیار کیے جاتے ہیں۔ان کی تیاری کے دوران شیرہ علیحدہ نہیں کیا جاتا ہے،اسی لیےتمام ضروری غذائی اجزاء ضائع ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔

مختلف اقسام کے پھل

مٹھاس حاصل کرنے کے بہترین ذرائع ہیں۔ اس لیے انہیں چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پھلوں میں پائی جانے والی قدرتی شکر جسم کو مضر اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت