donald trump

امریکہ میں متوقع ایک اورایمرجنسی

EjazNews

امریکہ میں لگنے والی متوقع ایمرجنسی کوئی پہلی ایمر جنسی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی امریکہ میں کئی مرتبہ ایمرجنسی نافذ ہو چکی ہے لیکن اس دفعہ ایمرجنسی اس قدر اہمیت اس لیے اختیار کر گئی ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکی سیاست اس قدر تقسیم ہوئی ہے۔
جب ہم نےامریکی خبروں پر نظریں جمائی تو اندازہ ہو ا کہ کانگریس اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں میکسیکو وال پر ٹھن گئی تھی۔کانگریس اس کی مخالف تھی جبکہ صدراس کی تکمیل ہر صورت چاہتے ہیں۔ کانگریس ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ پاؤں جکڑ دینا چاہتی تھی مگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اقدامات پر ڈٹے ہوئے ہیں وہ کسی صورت پیچھے ہٹنا نہیں چاہتے۔ اگرچہ ان کے حتمی امکانات کا کسی کو علم نہیں ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی بھی ان سے ناواقف ہے۔ڈیمو کریٹس او ر ری پبلکنس ایمر جنسی سے بچنا چاہتے تھے۔ مگر ڈونلڈ ٹرمپ کب کسی کو خاطر میں لاتے ہیں۔ مبصرین نے ایک اور ایمر جنسی کو امریکی جمہوریت کے لیے زہر قاتل قرار دیا ہے کیونکہ اس سے ترقی کے کئی دروازے بند ہو جاتے ہیں اور اس کے انتہائی اقدامات پسماندہ طبقات پر ہوتے ہیں۔امریکی سیاست پہلی مرتبہ اس قدر تقسیم ہوئی ہے، ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس اور سینٹ میں ری پبلکن کا قبضہ ہے اور ان دونوں کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انفرادی سوچ کے ساتھ اقدامات اٹھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ امریکی صدر کسی بھی معمولی سے لے کر اہم مسئلے تک ایمر جنسی نافذ کر سکتے ہیں اور کسی رکاوٹ کے بغیر اس ایمر جنسی ایکٹ کے ذریعے وہ دیوار بھی بنا سکتے ہیں۔
قبل ازیں 2005ءمیں قطرینہ طوفان کے موقع پر سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے ایمر جنسی کے ذریعے سے ٹھیکیداروں کو کارکنوں کی تنخواہوں میں کمی کا اختیار دے دئیے تھے۔ انہوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح ٹھیکیدار متاثرین کو زیادہ ریلیف دینے میں کامیاب ہو جائیں گے اور مزید ہزاروں افراد کو روزگار ملے گا۔
واٹر گیٹ سکینڈل اور جنگ ویتنام کے دنوں میں بھی امریکہ کو اسی قسم کی بحرانی کیفیت کا سامنا تھا، کانگریس بری طرح تقسیم تھی اور وہ ایوان صدر کو شاہی انداز میں استعمال کرنے کی شدید مخالف تھا۔
1970ءکی دہائی کے وسط میں کانگریس نے جنگی اختیارات ایکٹ او ر بجٹ ایکٹ منظور کیے۔ ان دونوں قوانین کے ذریعے کانگریس نے اپنے اختیارات میں اضافہ کر لیا۔ چنانچہ کانگریس 1976ءکے ایکٹ کے تحت لگائی جانے والی ایمرجنسی کو منسوخ کرسکتی تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس وقت سے اب تک ایمر جنسی سے متعلقہ 5سو سے زائد قواعد و ضوابط جاری ہو چکے ہیں۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے وقت ایک ضابطے کے مطابق صدر یہ بتانے کے پابند ہیں کہ وہ اس ایمرجنسی سے کون سا کام لینا چاہتے ہیں۔
دیکھتے ہیں یہ امریکی بحران کب اور کیسے ختم ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک طرف صدر ٹرمپ دونوں بڑی پارٹیوں کی خواہشات کے برخلاف دیوار بنانے پر بضد ہیں۔معاشی ماہرین نے یہ بھی تجزیہ کیا ہے کہ اگر یہ معاملہ طول پکڑ گیا تو امریکی معاشرے میں غربت بڑھے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کوسزا ہو گئی