پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی تعلقات

EjazNews

پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی کا باب اس کے معرض وجود آنے کے کچھ عرصے بعد ہی شاہ ابن سعود کے زمانے میں 1951ء سے شروع ہوا۔پاکستان کو آزادی ملے ابھی چند ہی برس ہوئے تھے۔ سعودی عرب چند ان ممالک میں سے ایک ہے جن کی دوستی پاکستان سے جب ہوئی تو اس میں کبھی کوئی دراڑ نہیں آئی۔
سعود ی عرب کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنہو ں نےمسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی ہمیشہ کھل کر حمایت کی۔اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے پاکستان پر مسلط کی گئی جنگوں میں بھی پاکستان کا ساتھ دیا۔ اور مشکل کی ان گھڑیوں میں ہمیشہ دادرسی کی ۔1965ء کی جنگ میں شاہ فیصل نے پاکستان کی کھل کر حمایت کی اور 1966ء میں وہ پہلے غیر ملکی تھے جنہوں نے سرزمین پاکستان کا دورئہ کیا ۔ پاکستانیوں کو فیصل مسجد کا خوبصورت تحفہ دیا ۔ اسلام آباد میں قائم فیصل مسجد آج بھی ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔
پاکستانیوں نے بھی اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے ایک پورے علاقے لائل پور کا نام ان کے نام پر فیصل آباد رکھ دیا ۔اس کے علاوہ کراچی کی کی شاہ فیصل کالونی کی نسبت بھی یہی ہے۔1967ء میں یہ تعلقات فوجی نوعیت میں تبدیل ہوگئے۔اس وقت ایک بڑی تعداد میں پاکستانی فوجی سعودی عرب میں ہیں ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ تعداد 15سو سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی جانب سے بنائی گئی اسلامی فوج کو پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں تیار کیا جارہا ہے۔
1971ء کے سانحہ بنگلہ دیش کا شاہ فیصل کو بہت رنج تھا ، انہوں نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا لیکن جب پاکستان نے خود ہی بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا تو پھر سعودی عرب نے بھی اسے تسلیم کر لیا۔
پاکستان نے جب ایٹمی دھماکے کیے تو ہر طرف سے پاکستان پر پابندیاں عائد ہو گئیں ۔ سعودی عرب ہی وہ ملک تھا جس نے پاکستان کی مدد کی اور ایک سال تک 50ہزار بیرل یومیہ کے حساب سے ادھار پر تیل دیا۔2005ء کے زلزلہ میں سعودی عرب ہی وہ ملک تھا جس نے سب سے پہلے پاکستان کی مدد کی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں آنے والے سیلابوں اور تھرمیں قحط سے ہونے والی اموات پر بھی سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے۔
موجودہ دور میں بھی سعودی عرب پاکستان میں اپنا بھرپور کر دار ادا کر رہا ہے۔ محمد بن سلمان کے دور میں بھی سعودی عرب کے تعاون سے پاکستان میں بہت سے پراجیکٹ مکمل کیے گئے ہیں۔
پاکستا کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے بہت سے سکول سعودی عرب کے تعاون سے بنائے گئے ہیں
گھر وں کی کمی کو دیکھتے ہوئے سعودی حکومت پاکستان میں غریب طبقے کے لیے گھروں کی تعمیر بھی کر رہا ہے ۔
اسلام سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں بہت سی پرشکوہ مساجد بھی سعودی عرب کے تعاون سے مکمل ہو چکی ہیں ۔
ہمارے ہاں صاف پانی فائلوں سے نکل کرپتہ نہیں کب عوام کو ملے گا۔لیکن سعودی تعاون سے بہت سے صاف پانی کے پراجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کے کسی ائیر پورٹ پر پاکستانی مسافر پھنسے ہوئے نہیں ہیں: معاون خصوصی