مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے

EjazNews

انقلابی شاعر فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے،آج ان کا یوم پیدائش منایا جارہا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہرمیں حاصل کی اوراعلیٰ تعلیم لاہورمیں مکمل کی، اپنے خیالات کی بنیاد پر1936 میں ادبا کی ترقی پسند تحریک میں شامل ہوئے اوراسے بام عروج پربھی پہنچایا، درس و تدریس چھوڑ کردوسری جنگ عظیم میں انہوں نے برطانوی فوج میں شمولیت اختیارکی لیکن بعد میں ایک بار پھرعلم کی روشنی پھیلانے لگے جوزندگی کے آخری روزتک جاری رہی۔

طویل راتوں میں تو بھی قرار کو ترسے

تری نگاہ کسی غمگسار کو ترسے

فیض کی شاعری کے انگریزی، جرمن، روسی، فرنچ سمیت مختلف زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے ہیں، ان کے مجموعہ کلام میں ”نسخہ ہائے وفا، نقش فریادی، نقش وفا، دست صبا، دست تہہ سنگ، سر وادی سینا، زنداں نامہ“ اور دیگر قابل ذکر ہیں۔ فیض احمد فیض وہ واحد ایشیائی شاعر تھے جنہیں 1963 میں لینن پیس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ فیض کی شاعری مجازی مسائل پر ہی محیط نہیں بلکہ انہوں نے حقیقی مسائل کو موضوع بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:  پوری ٹیم جب مل کر کام کرتی ہے تو پھر ایسے ڈرامے بنتے ہیں”میرے پاس تم ہو “

نارسائی اگراپنی تقدیر تھی

تیری الفت تو اپنی ہی تدبیرتھی

کس کوشکوہ ہے گر شوق کے سلسلے

ہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے