bank_fruad

بینکنگ انڈسٹری میں ہونے والے کچھ ہو شربا فراڈ

EjazNews

کمپیوٹر کے ایک کلک نے جہاں انسان کی زندگی بہت آسان بنا دی ہے۔ وہیں اس نے نقصان نہ دینے والوں کے لیے بے شمار مسائل کھڑے کر دئیے ہیں۔ آج سے پچاس سال پہلے جن مسائل کا سامنا امریکہ اور یورپ کو کرنا پڑ رہا تھا آج وہی مسائل ہمارے معاشرے میں بھی سرائیت کر گئے ہیں۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سائنسی ترقی کے ساتھ آنے والے نت نئی اقسام کے مسائل پر کیسے قابو پایا جاسکے۔ یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ کمپیوٹر نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں ان گنت آسانیا ں پیدا کی ہیں۔ لیکن زمانے کے ساتھ نہ چلنے والے ان آسانیوں سے فائدہ اٹھانے والے مصیبتوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیںاور یہی کمپیوٹر ایسے جرائم کا مرکز بنتا جارہا ہے جوزمانے کی دسترس سے باہرہیں۔ مالیاتی شعبے میں مغرب میں پائے جانے والے جرائم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔کمپیوٹر پر جعلی کمپنیاں اشیاءفروخت کر کے غائب ہوجاتی ہیںاورپھرانہیں پکڑنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ایک بنک سے دوسرے بنک تک منی ٹرانسفر بنکنگ انڈسٹری کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ جعلی کمپنیاں کمپیوٹر کی چپ میں تشکیل پاتی ہیں۔ جعلی اور مردہ لوگوں کے ناموں پر کمپنیاں بنائی جاتی ہیں۔ اور پھر لاکھوں کروڑوں ڈالرکا فراڈ کرنے کے بعدکسی کمپیوٹر میں دفن ہو جاتی ہیں۔ کئی کثیر الملکی نوعیت کے فراڈ ہونے کے بعد کئی طرح کے قواعدو ضوابط سے واسطہ پڑتا ہے بسا اوقات ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک کے قانون کا احترام نہیں کرتے۔ اس سے کو کبھی انصاف نہیں ملتا مجرم کی تلاش میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں سرگرداں رہنے کے باوجود مزید لاکھوں روپیہ انصاف کی تلاش میں ائیر لائنوںاورہوٹلوںکو دینے کے باوجود انصاف نہیں ملتا۔ ایسے بہت سے کیسز ہمارے پاکستانیوں کے ساتھ بھی ہوئے جنہیں بیرون ملک انصاف نہیں ملا۔
جب ترقی یافتہ مغربی دنیا مالیاتی شعبے میں ہونے والے فراڈ کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے توہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ اہلیت کا فقدان ہے۔ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے۔ پس گل کا کیاہوگا۔ یہ علم ہی بہت سے لوگوں کے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس غفلت کا خمیازہ کئی بنک بھی آج بھگت رہے ہیں بڑا بھائی ہونے کے ناطے نیشنل بنک زیادہ پیشنٹ کا سامناہے۔ چند سال قبل بنک کے سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کرنا شروع کر دیاگیا تھا۔ دو ارب روپے کا ٹھیکہ جدید ترین سافٹ وئیر کی تنصیب کے لیے دیا۔ غیر ملکی کمپنی نے سافٹ وئیر بنا کر دے دئیے جو ہمارے ہاں ڈبوں میں پیک پڑے رہے تھے۔ وارنٹی کی مدت بعض چیزوں کی ایک سال کی اوربعض چیزوں کی دو سال تھیں۔ نااہل انتظامیہ نے یہ دونوں سال ضائع کر دئیے۔ دوسال بعد جب سافٹ وئیر نے کام شروع کیا تو سینکڑوں مسائل سامنے آئے۔ غیرملکی کمپنی سے رجوع کیا گیا تو اس نے ٹھینگا دکھا دیا اور ہر کام کے پیسے مانگے گئے، ظاہرہے وارنٹی کی مدت نااہل انتظامیہ نے ضائع کردی تھی۔ سافٹ وئیر کی ہر خرابی کو دور کرنے کے لیے یہ ڈالر قومی خزانے سے خرچ کیے گئے۔
ایک خاتون بنک کے ہیڈ آفس میںتھیں ۔ یہ اس کی خوش قسمتی اور بنک کی بد قسمتی تھی کہ خاتون کو انویسٹ منٹ کاشعبہ مل گیا۔ صارفین لاکھوں کروڑوں روپے لے کر اس کے پاس آتے بنک کے نمائندے کے طور پر وہ انہیں روپے جمع کروانے کا سرٹیفکیٹ جاری کرتی۔ طریقہ کار کے تحت وہ دن بھر میں جمع ہونے والا تمام سرمایہ اسی وقت ٹرانسفر کرنے کی پابند تھیں ۔لیکن لوگ پیسے جمع کرواتے تو ایک کا سرمایہ وہ اپنے پاس رکھ لیتیں اور باقی دس کے پیسے ٹرانسفر کردیتی ۔ کرتے کرتے ڈیڑھ ارب روپیہ جمع ہو گیا۔پاکستان میں بنکنگ انڈسٹری کا یہ ایک بہت بڑا فراڈ تھا۔ ایک اکتیس سالہ کمپیوٹرایکسپرٹ نے سسٹم کو مات دے دی۔ اور ڈیڑھ ارب روپیہ ذاتی اکاﺅنٹ میں ٹرانسفر کر دیا ،باقی تمام پیسے انویسٹ منٹ فنڈ میں منتقل کر دئیے۔
بنکنگ انڈسٹری نے طرح طرح کے پراڈکٹ متعارف کروا رکھے ہیں ۔ ان میں سے ایک پراڈکٹ انویسٹمنٹ سے منسلک ہے۔ طریقہ کار سے متعلق بنک کا اپناصارف سے انویسٹمنٹ کے لیے سرمایہ وصول کرنے اور پھر اس کی رسید دینے کا پابند ہے۔ یہ کام وہ با احسن وخوبی کرتی رہیں۔ دوسرا مرحلہ اس کی تجویز کردہ فنڈمیں سرمائے کی منتقلی کا ہے۔ اب صارف کونہیں معلوم کہ وہ اس کی ایک دو کروڑ روپے کے ساتھ کیا سلوک کررہی ہے۔ اس نے صارف کووصولیوں کی اصلی رسید پوری رقم لکھ کر بنک کی مہر کے ساتھ جاری کردی۔ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں قانونی طورپر اس نے یہ سرمایہ ذاتی اکاﺅنٹ میں بھی منتقل کرنا شروع کیا۔ اور بنک کا سسٹم اسے پکڑنے میںناکام رہا۔سافٹ وئیر کی تنصیب میں دو سال کی تاخیر میں بنک کو انتہائی بے بس کر دیا ہے۔ بڑا فراڈ ہونے کے ناطے یہ کیس نوٹس میں آیا۔ بنک نے گرفتاری کے آرڈر جاری کیے۔لڑکی کو نیب نے گرفتار کرلیا۔ جہاں پلی بار گینگ یا ر ضا کارانہ سرمائے کی واپسی کے لیے بات چیت ہوئی۔
اسی طرح کا ایک فراڈ ڈیرہ غازی خان کے ایک بنک بھی ہوا۔ جہاںبنک کو رقم کی ادائیگی کے معاملے میں ایک شخص انتہائی چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھوٹے پنشنر کے ذریعے بنک کو اپنا ٹارگٹ بنایا۔ پنشنر دوطرح کے ہیں۔ ایک وہ جوحال ہی میں ریٹائرڈ ہوئے ہیں اور ایک کی پنشن بیس تیس سال یا اس سے زیادہ ہے۔ جبکہ بیس تیس سال قبل ریٹائرڈ ہونے والوں کی پنشن بارہ سے پندرہ کے لگ بھگ ہے۔ چالاک کیشیئر نے بارہ ہزار کے شروع میں ایک پانچ لگایا اور بارہ ہزار کواکاون ہزار کر دیا اور اس طرح وہ روزانہ ہی بنک کے ساتھ لاکھوں روپے کا فراڈ کرتا رہا۔ مہینوں میں اس نے ساڑھے چار کروڑ روپے جمع کیے۔
بدعنوان عناصر کا یہ نیٹ ورک کافی مضبوط تھا۔ افسران ان حضرات کے تبادلے کا حکم جاری کرتے رہے۔ کئی کئی ریمائنڈر بھی دئیے لیکن مقامی ٹیم نے انکار کیا۔ کیشئر اپنے چند ساتھوں کی مدد سے قومی خزانے کو نقصان پہنچاتا رہا۔ اب یہاں ہم آپ کو سسٹم سے آگاہی دینا چاہتے ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ پنشن اداکرنے والا بنک در حقیقت قومی خزانے سے پنشن ادا کرتاہے۔پنشنر سے چیک وصول کرنے کے بعد وہ اس کی ادائیگی کر دیتا ہے۔ اور اسے وفاقی فنڈ سے منہاکر دیتاہے۔ اس کا کیشئر یہ دونوں کام بھی کر رہا تھا۔ وہ سرکاری ملازم سے اضافی پیسے کیش کراتا رہا۔ بارہ ہزاروالی پنشن کو اکاون ہزار ، سترہ ہزار والی پنشن کے لیے اکاون ہزار سات سو اور سترہ ہزاروالی پنشن کے لیے اکاون ہزار پانچ سو روپے وصول کرتا رہا۔ پنشنر کویہ رقم دے کر اپنی جیب میں ڈالتا رہا۔ ان سب پر قابو پانے کے بعد اس نے سرکاری خزانے میں بھی یقینا کسی سے ملی بھگت کی۔ طریقہ کار کے مطابق کیشیر کو رقم کی ادائیگی کی یومیہ اورماہانہ رپورٹ بھی مرتب ہوتی ہے یہ دونوں رپورٹیں بھی بنتی رہیں۔ نہ تو برانچ نے نہ ہی سرکاری خزانے سے کیش کی ٹرانسفر کی تصدیق کرنے والوں نے اس کا جائزہ لیا۔ یہ فراڈ اتنی مہارت سے مرتب کیا گیاکہ برانچ اورسرکاری خزانے پر تعینات افراد نااہل یا بے بس رہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے افسران کی ملکی بھگت برانچ اورسرکاری خزانے میں کوئی نہ کوئی لوگ ملوث ہوں گے۔ بنک نے فوری طور پر نیب سے رجوع کیا۔ اورتین افراد کیخلاف ساڑھے چارکروڑ روپے کے فراڈ کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی۔ نیب بہت مصروف ادارہ ہے اس پر کام کا بہت بوجھ ہے اس لیے یہ زمانے کی رفتارکے ساتھ چلنے سے قاصرہے۔ نیب نے مقدمہ درج کرنے میں ایک سال لگا دیا۔ ایک سال میں یہ تمام افراد ویزے لگوا کر وی آئی پی طریقے سے بیرون ملک روانہ ہو گئے۔ نیب کو جب جاگ آئی تو اس نے فراڈ کرنے والے کے آس پاس بیٹھنے والوں کو حراست میں لے لیا۔ اصل فراڈئیے سال بھر کھلے پھرتے رہے۔ ریڑیوں پر کھڑے ہوکر کینو کھاتے رہے۔ دکانوں پر چنا چاٹ کے مزے لیتے رہے۔ لائف انجوائے کرتے رہے ملک سے نکل گئے ۔ انہیں نیب کی صلاحیتوں کا علم تھا۔
ایف آئی آر کے اندراج میں سال بھر کی تاخیر کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں۔ نیب لاتعداد کیسوں میں ایسا کرتی ہے۔ سال چھ مہینے تومعمول کی بات ہے۔ خودمختار ادارہ ہونے کے ناطے کوئی بنک یا سرکاری ادارہ اسے ایف آئی آر کے فوری اندراج کے لیے مجبور نہیں کرسکتا۔ بنک کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ بنک کی انتظامیہ ایف آئی آر کے فوری اندراج کے لیے دباﺅ ڈالتی رہی ۔ لیکن نیب کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ جن مجرموں سے وصولی فوری طورپر ممکن تھی اب جب آمدو رفت میں انہوں نے لاکھوں روپے خرچ کر دئیے ہوںگے تو نیب کو ان سے کیا حاصل ہوگا۔ اگر کوئی پراپرٹی ان کے نام ہوگی تو وہ پہلے ہی خرچ کر چکے ہوں گے۔اول تو اس کے نام کوئی جائیداد ہو گی نہیں اور اگرہوئی بھی تو وہ سب کچھ بیچ چکا ہوگا۔ نیب ان افراد کو انٹرپول کے ذریعے واپس بلوا سکتا ہے۔ لیکن یہ کام تو پہلے پاکستان میں گھرکے دروازے پرہوسکتا تھا لیکن اب جہاں کہیں بھی وہ ہوںگے وہاں گرفتاری کے لیے لاکھوں روپیہ خرچ کرنا ہوں گے۔ دو تین افراد کی ائیر ٹکٹوں کا بندو بست کرنا ہوگا ۔ اس سے انصاف سستا اور فوری میسر ہونے کی بجائے مہنگا ہوگا۔
بنک انڈسٹری نے جدید ترین سافٹ وئیر نصب کر لیے ۔ تنصیب میں تاخیر کے باعث وارنٹی کاوقت گزر گیا۔ اور وہ سسٹم میں سامنے آنے والی خرابیوں کو بلا معاوضہ ختم کروانے میں ناکام رہے۔ بنک کے کراچی میں موجود افسران اپنے سسٹم کو سامنے آنے والی خرابیوں کی روشنی میں ٹھیک کروانے میں بری طرح ناکام رہے۔جس سے ہربرانچ میں کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ کچھ آڈیٹروں سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ گزرے ہوئے چند سال قبل کے دوران درجنوں برانچوں میں ہزاروں اکاﺅنٹس کا آڈیٹ کیا ہے۔ ہربرانچ میں کسی نہ کسی اکاﺅنٹ میں کچھ نہ کچھ گھپلا ضرور موجودہے۔ انہوں نے آڈیٹ شدہ برانچوں کے اکاﺅنٹس ہیڈ آفس کے اکاﺅنٹس سے میچ نہیں کررہے۔ مستقبل میں یہ معاملہ پیچیدگی کی صورت اختیار کر ے گا۔
نجی بنک بھی اسی مشکل کا شکار ہوئے تھے۔ ایک غیر ملکی برانچ کے ساتھ تقریباً ایک بڑا فراڈ ہوا تھا۔ ایک آدمی نے ایک برانچ میں ڈھائی کروڑ روپے کی ایلسی کھلوائی ۔ اس کا سرٹیفکیٹ وصول کرنے کے بعد اس نے ایل سی منسوخ کروادی ۔ اس ایلسی کی بیس پر اس نے ڈھائی کروڑروپے کا فراڈ کیا۔ بنک نے اس فراڈ سے بہت کچھ سیکھااور اپنے آپ کو بدلنے کے بعد اب وہ آئی ٹی انڈسٹری میں موجود مجرموں کی دسترس سے باہرہے۔ لیکن تساہل کا شکار سرکاری شعبہ اپنے آپ کوزمانے کی رفتار کے مطابق ڈھالنے میں مسلسل ناکام رہا ہے۔ اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ صارفین اپنا سرمائے کی ادائیگی کی ضامن حکومت پاکستان ہے۔ اس لیے اس کا سرمایہ محفوظ ہے۔ لیکن فراڈ کا خمیازہ بنک کو ہی بھگتنا پڑے گا۔ اوریہ رقم اس کے منافع سے منہا ہوگی۔ پبلک سیکٹر اپنے اندر احتساب کا مضبوط نظام قائم کرے گا۔ جب تک ذمہ داروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا اس وقت تک ملک کو جونک کی طرح ملک کا خون چوسنے والی جونکیں اسی طرح نقصان پہنچاتی رہیں گی۔ ہماری تجویز ہے کہ اربوں روپے کے فراڈ افراد کا تعین کیا جائے ان کے کیسز عدالتوں میں پیش کیے جائیں اور ان کی پنشن بند کر دی جائے۔ سرکاری اداروں کو موج مستی کا مرکز سمجھ کر ملازمت اختیارکرنے والوں کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے۔ کیونکہ سسٹم کی تنصیب میں تاخیر سے پہنچنے والا نقصان ایک طرف لیکن اس سے کہیں زیادہ نقصان سسٹم کی بروقت اوربلا معاوضہ ٹھیک نہ کروانے سے پہنچ رہا ہے۔ سسٹم میں پائی جانے والی خرابیوں کو بروقت دور کرنے سے قوم کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ بنکنگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پرانے دستاویزات نسبتاً آسان تھے ۔ اب جرائم پیشہ افراد پر قابو پانا شروع ہوگیا ہے۔ پکڑے جانے والے فراڈ بھی دستاویزات کے باعث ہی سامنے آرہے ہیں۔ سافٹ وئیر کے بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ کرپٹ افراد کی رپورٹ کو بھی مرتب کرنا ہوگا۔ کرپٹ افراد اس سے پہلے کہ اربوں روپیہ نہ لے جائیں۔
(بشکریہ :صہیب مرغوب)

یہ بھی پڑھیں:  He Continues experiments to Innovate ways of expressio

اپنا تبصرہ بھیجیں