poetry

اکبر کے زمانے میں مشاہیر علم و ادب(۲)

EjazNews

ملک الشعرا فیضی
لیکن جملہ شعرائے عصر میں خود بادشاہ کا عزیز ترین شاعر و ندیم ابو الفیض فیضی تھا۔ 954ھ میں بمقام آگرہ پیدا ہوا۔ بیس اکیس برس کی عمر میں دربار شاہی تک پہنچا اور اتنی ہی مدت کے بعد غالباً 996ھ میں ملک اشعرا کا خطاب پایا۔ علمی مشاغل کی وجہ سے دو تین سفارتوں کے علاوہ کوئی مستقل عہد قبول نہیں کیا۔ لیکن بادشاہ کی خلوت و جلوت کا مشیرتھا اور اکثر شہزادوں کی تعلیم اسی کے سپرد کی جاتی تھی۔ فارسی دیوان محفوظ و مشہور ہے۔ حسن بیان میں بعض غزلیں اساتذہ پیش سے ٹکراتی ہیں اور قصائد کی معنویت بھی بہترین کہنے والوں سے کم تر نہیں۔ بادشاہ کی فرمائش سے خمسہ نظامی کا جواب لکھا۔ اس کی سب سے نفیس مثنوی نل و من درسیات میں داخل تھی اور ایران کے ادبیات عالیہ میں شمار ہونے کی مستحق ہے۔ فن ریاضی پر سنسکرت کی کتاب ”لیلا وتی “ اور مہا بھارت کے دو جز کا ترجمہ کیا تھا۔ مگر ان سب سے بڑھ کر علمی کارنامہ قرآن مجید کی بے نقط تفسیر ”سواطع الالہام “ ہے کہ لکھنے والے اور موضوع اور زبان عربی ، تینوں کا اعجاز کہئے تو بے جا نہ ہوگا۔ ایک اور کتاب بچوں کی پند ونصیحت کے لئے بے نقط تھی تھی اس کا تاریخی نام موارد الکلم سلک در را لحکم ہے اگرچہ اسی سال 1004ھ کے شروع میں مصنف علام نے وفات پائی اس لئے ممکن ہے تاریخ کسی اور نے بعد میں نکالی ہو۔
فیضی کو اپنے علم و دانش پر ناز تھا اور اکبر جیسا جلیل القدر بادشاہ جس کی ناز برداری کرے وہ نازنہ کرے تو کون کرے گا؟۔
ملا عبدالقادر بد اونی:
فیضی اور ابو الفضل کے ہم درس وہم عصر ملا عبد القادر بداونی تھے جن کی تاریخ (منتخب التواریخ) کی ہمہ گیر شہرت نے ان کی علمی فضیلت کو ماند کر دیا ورنہ علوم دین اور فنون رائجہ میں بہت اونچا درجہ رکھتے ہیں جیسا کہ ملا محمد یعقوب کشمیری کے بیان میں ہم پڑھ چکے ہیں۔947ھ میں اجمیر کے ایک موضع میں پیدا ہوئے، خاندانی وطن بداول تھا۔ آخر عمر وہیں گزری۔ وہیں 1004ھ میں تاریخ کی تکمیل کے ساتھ حیات مستعار کی تکمیل ہوئی۔ تیس اکتیس برس کی عمر میں آگرے آئے اور بادشاہ کے سات اماموں میں شامل اور حاشیہ نشینوں میں داخل کئے گئے۔ اکبر کے حکم سے پہلے ”سنگھاسن بتیسی“ کا ایک پنڈت کی مدد سے ترجمہ کیا جو ” نامہ خود افزا“ کے تاریخی نام سے موسوم و مقبول ہوا۔ پھر مہا بھارت، رامائن، راج ترنگنی وغیرہ کئی کتابوں کے ترجمے میں شریک غالب رہے۔ معجم البلدان کے چند اجزا عربی سے فارسی میں منتقل کئے۔ تاریخ الفی یک ترمیم و تصحیح کی ۔ بادشاہ، آزاد خیالی کے دور میں، ملا صاحب سے کھٹک گئے تھے مگر ان کی تالیف اور ترجموں پر اکثر انعام دیتے اور خوش ہوتے تھے۔ حتی کہ خود ملا صاحب دربار کی فضا سے بے زار اور بادشاہ پرستی کے باوصف ، اکبر کی وسعت پرواز سے تنگ دل ہو کر خانہ نشین ہو گئے۔ آخر ی زمانہ اسی تنگ یترشی میں گزار کر ملک بقا کی راہ لی۔
ان کی تاریخ کا پہلا حصہ سلاطین دہلی کے احوال میں یہ خصوصیت رکھتا ہے کہ قدیم اہل علم اور شعرا کا کلام بڑی تلاش سے جمع کرتے ہیں۔ بابر کی آمد کے وقت سے کتاب اور سبھی مشترح ہوگئی ہے۔ اکبری واقعات لکھنے میں زیادہ تر نظام الدین بخشی کی تاریخ طبقات اکبری سے مدد لی تھی لیکن اصلی دل کشی لوگوں کے شخصی احوال و اقوال سے پیدا ہوئی کہ وہ چار سو برس پہلے کی صحبتیں پڑھنے والے کی آنکھوں میں اس طرح پھرنے لگتی ہیں گویا وہ خود اسی عہد میں موجود اور اکبر کے امزا ، علما اورشعرا کی باتیں سن رہا ہے۔ یہ کمال غالباً کسی فارسی تاریخ نویس کے حصے میں نہیں آیا۔ ملا صاحب تبحر علمی کے ساتھ راسخ العقیدہ سنی مولوی ہیں اور اپنے زمانے کی بدعات و الحاد کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ فطری ذہانت نے انہیں ایسا بے باک نقاد بنایا تھا کہ اچھے اچھے مدعی ان سے جھیپتے اور جھپکتے تھے مگر اپنے نفاق و تصنع کو ان سے چھپا نہ سکتے تھے۔ ایسے ریا کار مشائخ اور دنیا ساز علما کی انہوں نے خوب قلعی کھولی اور سخت مذمت کی ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جو ارکان و بزرگان دین کی شان میں بے ادبی کرتے تھے۔ ملا صاحب نے ان کے ڈھیلوں کے جواب میں پتھروں کی بارش کر دی ہے۔ بایں ہمہ ان کی راست گوئی اور دیانت پر کسی کو حرف زنی کی مجال نہیں ہوئی۔ اور محمد حسین آزاد کو بھی عہد اکبر کا کوئی ماخذ ان کی کتاب سے بہتر نہیں مل سکا۔
علامی ابو الفضل:
مگر اکبر کاخاص شاہی مورخ فیضی کا بھائی ابو الفضل تھا۔ 958ھ میں بمقام آگرہ پیدا ہوا۔ بچپن سے اتنا ذہین تھا کہ لوگ تعجب کرتے تھے۔ ملا مبارک جیسا ذی علم باپ پڑھانے کو ملا۔ چند ہی سال میں علوم رسمی کی تکمیل کرلی۔ فیضی کی سفارش سے 981ھ میں حضار دربار ہوا اور بہت جلد بادشاہ کا ایسا تقرب حاصل کیا کہ قدیم امیروں کو رشک آتا تھا۔ نبیستی سے چل کر سب سے بڑے منصب پنج ہزاری تک ترقی کی لیکن اس سے بھی بڑھ کر اعتماد و رسوخ کا یہ درجہ ملا کہ اکبر کا کوئی کام بغیر اس کے مشورے سے سرانجام نہ پاتا تھا۔ میر منشی یا وزیر خاص کی حیثیت سے جملہ احکام شاہی اسی ملا مکتبی کی قلم سے نکلتے تھے۔ تمام نئی اصلاحیں جدید آئین اسی کی رائے سے مرتب ہوتے تھے۔ شاہی محکمے اور کارخانے ، کیا فوجی کیا دیوانی سب کی نئی تنظیم اور مناصب وغیرہ کی مفصل تقسیم اور درجہ بندی اسی کے قلم سے ہوئی اور چھوٹے سے بڑے عہدوں کے نام تک اس کی ذہانت نے بدل ڈالے۔ اگرچہ بہت سے رواج عام نہ پاسکے مگر اکبر نامے میں محفوظ ہیں۔
ابو الفضل عمر بیت اور شعر گوئی میں فیضی کی مثل نہ تھا لیکن فارسی انشا پردازی میں نظیر نہیں رکھتا تھا اور اس کی تاریخ اکبر نامہ نثر کا ایسا کارنامہ ہے جس کی ممالک ہند و ایران میں کوئی نقل تک نہ کر سکا۔ انسا ئے ابو الفضل، جو مکاتیب کامجموعہ ہے۔ فارسی کی اعلیٰ درسیات میں اب تک پڑھائی جاتی ہے۔ یہ لفظو ں کی دقیق صناعی کا نمونہ ہے۔ مصنف کی نگارش کا اصلی کمال دہی اس کی تاریخ نگاری ہے کہ واقعات کو ایسی ندرت اور خوبی سے لکھتا ہے جس کی تعریف نہیں ہوسکتی۔ اسی کتاب (اکبر نامہ) کا تیسرا دفتر ”آئین اکبری“ عام معلومات کا خزانہ اور ابو الفضل کی عالی دماغی کی لافانی یادگار ہے۔ کلیلہ دمنہ کے فارسی ”انوار سہیلی “ کو بادشاہ کے حکم سے سادہ عبارت میں از سر نو لکھا تھا۔ یہ ”عیار دانش“ کے نام سے مشہور ہے۔
ابو الفضل کے دنیاوی اعزاز و جاہ کا بڑا سبب اس کی بادشاہ پرستی تھی۔ اکبر کی خوش نووی کو اس نے گویا زندگی کا مقصد و مال بنا لیا تھا۔ اسی سے وہ ہم عصر وں میں محسود و مطعون ہوا بلکہ اپنی جان سے گزر گیا۔ بے لاگ نقادوں نے اس کی سیرت کی بڑی کمزوری یہی بتائی ہے کہ جدھر بادشاہ کا رخ دیکھتا تھا۔ اسی طرف دوڑتا ہوا چلنے لگتا تھا۔ جب اکبر نے تقلید چھوڑ کر مذہبی آزادی کے صحرا میں قدم رکھا تو ابو الفضل ہی اس کا رفیق تھا۔ ”دین الٰہی“ کے عقائد اور قواعد اسی نے قلم بند کیے اور نئے مذہب کا خلیفہ اول قرار پایا۔ حالانکہ کہ بعض رقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ذاتی طور پر وہ ان عقائد کو مہمل یا غلط سمجھتا تھا۔ یہ ثبوت ہے کہ جو لوگ اسے ریا کاری اور دنیا سازی سے بادشاہ کو غلط راستے پر لے جانے کا الزام دیتے تھے وہ بے بنیاد نہ تھا۔
مشہور ہے کہ امرا نے اسے اکبر سے دور پھیکنے کی خاطر دکن کی مہمات پر بھجوا یا تھا (1006ھ) وہاں کا انتظام عبد الرحیم خان خاناں اور شہزادہ مراد کے ہاتھ میں تھا۔ ابو الفضل نے بعض معرکوں میں بہادری کے جوہر دکھائے اور ثابت کیا کہ یہ ملا زادہ قلم کی طرح تلوار چلانی بھی جانتا ہے۔ لیکن خان خاناں نے اسے بہت زچ کیا اور بادشاہ کے نام ملا کی کئی عرضیاں مقامی حکام کی شکایت سے لبریز ہیں۔ چار سال بعد اکبر نے واپس طلب کیا یہ وہ زمانہ ہے جب کہ جہانگیر کی سرکشی سے اکبر ناراض تھا اور بادشاہ کا یہ ر جحان دیکھ کر ابو الفضل نے اس شہزادے کی نسبت اکبر نامے اور بعض رقعات میں ایسے الفاظ لکھے جو اس عہد کے آداب کے سراسر خلاف نظر آتے ہیں۔جہانگیر غصے سے بے تاب ہو گیا۔ بندھیل کھنڈ کے راج کمار بیر سنگھ دیو کو جو ان دنوں قزاتی کرتا پھرتا تھا، پیغام بھیجا کہ اگر ابوالفضل کو واپس آتے میں مارا تو آئندہ راج پاٹ کا تجھی کو وارث بنا دوں گا۔ بیرسنگھ گھات میں رہا ابوالفضل کوبھی خبر ہوگئی تھی لیکن بادشاہی تقرب کے بھروسے پر کسی مشیر کی بات نہ مانی اور مختصر جمعیت سے سفر جاری رکھا۔ گوالیار ے قریب بندیلوں نے چھاپا مارا۔ ابوالفضل بہادری سے لڑتا ہوا مارا گیا۔ (1011نے 1602ئ) بیرسنگھ دیو نے سرکاٹ کر شہزادے کو الٰہ آباد بھیجا، جہاں اس کی اور تذلیل و تشہیر کی گئی۔ اکبر کو آگرے میں اس سانحے کی اطلاعی ملی تو کئی دن تک سخت ماتم کیا اور کئی بار کہا کہ بادشاہی لینی تھی تو مجھے قتل کرناتھا۔ ابو الفضل کو نا حق مارا۔
حکیم ابو الفتح اورشاہ فتح اللہ:
اکبر ی دربار کے کئی حاذق حکیموں کا ذکر آتا ہے مگر ان میں حکیم ابو الفتح گیلانی کو امتیاز خاص حاصل تھا۔ یہ اپنے دو بھائیوں کے ساتھ ایران سے آئے اور بہت جلد بادشاہ کے معزز ندیموں میں داخل ہو گئے۔ شیخ بو علی سینا کی کتاب ”قانون“ پر اعلیٰ درجے کی شرح لکھی ہے۔ حدیث اور اخلاق کے چند رسالوں کے علاوہ مکتوبات کا ایک مجموعہ چار باغ، انا پردازی اور تبحر علمی کی یادگار ہے۔
ایک اور یگانہ روزگار شخص فتح اللہ شیرازی تھے کہ علم و فضل کی شہرت سن کر بادشاہ نے دربار بیجا پور سے مستعار لیا اور عضد الدولہ امین الملک خطاب دے کر بڑے بڑے عہدوں پر مقر ر کیا۔ انہیں علوم رسمی کے علاوہ ریاضیات، جر ثقیل، طبیعاتوہیات میں کمال حاصل تھا۔ زیچ اکبر شاہی تیار کی جو آئین اکبر ی میں شامل ہے۔بعض کلیں اور نئی قسم کی توپیں ، بندوقیں بنائی تھیں۔ اکبر مبسوط تفسیر لکھی جس کا صرف نام ملتا ہے۔ اصل کتاب مفقود ہوگئی۔ 997ھ میں انتقال کیا۔
خان خاناں عبدالرحیم خاں:
مغل امرا میں بڑے بڑے صاحب ذوق علم دوست امیر گزرے ہیں۔ خان خاناں بیرم خاں فارسی اور ترکی دونوں زبانوں میں صاحب دیوان تھا، خان زماں خاں وائی جون پور جیسا تلوار کا دھنی تھا، ویسا ہی شاعری کا دل دادہ تھا۔ خان اعظم مرزا عزیز کو کہ کبھی کبھی شعر کہتا، مگر خوب کہتا تھا۔ ان خوش مذاق امیروں میں بھی جو شہرت عبد الرحیم خاں کو حاصل ہوئی وہ کسی کے نصیب میں نہ آئی۔ اور بےش بہ وہ اس کا مستحق تھا۔ اس کی ذات علم و ادب کا مخزن و مامن تھی جس کے سائے میں ارباب کملا پرورش پاتے اور علم وفن سر سبز ہوتے تھے۔ ان آثار خیر و برکت کی گواہ مآثر رحیمی ہی کہ خاناں کی شان میں بہت سے شعرا نے جو قصیدے لکھے۔ ان کا انتخاب تقریب و تعارف کے ساتھ جمع کیا ہے۔
وہ بیرم خاں کا فرزند تھا۔ میواتی بیوی سے 964ھ میں پیدا ہوا اورنہایت حسین و جمیل نوجوان تھا۔ بہترین تعلیم پائی۔ عربی فارسی ترکی زبانوں کے علاوہ ہندی سے عمدہ و اقفیت بہم پہنچائی چنانچہ ہندی دوہے فارسی اشعار سےزیادہ تعداد میں زباں زد ہوئے۔ تزک بابری کا مکرر فارسی ترجمہ اس کا علمی اور تاریخی کارنامہ تھا۔ جواب تک مقبول ہے۔ بڑا وصف یہ کہ داد و دہش میں کوئی امیر و بادشاہ اس کا عدیل نہ تھا۔ ایک ایک شعر پر ہزار ہزار اشرفی اور معمولی حسن خدمت پر دولت کے انبار عطا کرنا معمولات میں شامل ہوگیا تھا جس کے عجیب عجیب قصے تاریخوں میں مذکور ہیں۔ بہت سے اہل علم اور شعرا کے منجملہ نظیری نیشا پوری اور آخر میں عرفی شیرازی کی وہ سرپرستی کی جو شاہی درباروں میں بھی نصیب نہ ہوئی تھی۔ یہ ایرانی اساتذہ کی صف اول کے شاعر ہیں۔ نظیری رئیس المتغزلین کہلاتا ہے۔ عرفی الوزی اور خاقانی کی ٹکر کا قصیدہ نگار ہے۔ اول دربار اکبری میں آیا تھا فیضی نے بہت خاطر مدارت کی مگر وہ فیضی ہی کو خاطر میں نہ لاتا تھا، اس کی مدارات کو کیا مانتا ؟ کچھ مدت فتح اللہ شیرازی کاندیم رہا۔ پھر عبد الرحیم خان خاناں کی سرکار میں وہ عزت و راحت پائی جو اور کہیں میسر نہ آئی تھی۔
عبدالرحیم خان خاناں نے ہفت ہزاری منصب تک ترقی کی جو پہلے کسی امیر وزیر کو نہ ملا تھا۔ 1036ھ بمطابق1626ءمیں انتقال کیا اور دہلی کے قریب ایک مقبرے میں ، جو ٹوٹنے کے باوجود عظمت کی خاص شان دکھاتا ہے مدفون ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  معاملات دکن

اپنا تبصرہ بھیجیں