ten packaging food

کین پیکنگ کتنی خطرناک ہے؟

EjazNews

ڈیوڈ ولز نے اپنے ایک آرٹیکل میں امریکہ میں ٹین کے ڈبوں میں بکنے والی ناقص غذا کا انکشاف کیا ہے ۔ہیلتھ لائن کی رپورٹ نے اس سلسلے میں متعدد ٹین کے ڈبوں کو مختلف جگہوں سے جمع کیا۔ اور پھرتجربہ گاہوں میں ان کی جانچ پڑتا ہوئی ۔ انہیں پتہ چلا کہ ان میں سے 40فیصد ڈبوں میں بی پیئر نامی ایک خطرناک کیمیکل کے اثرات پائے۔ گئے یہ کیمیکل سرطان اور پیدائشی جسمانی خرابیوں کا سبب بنتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیپیئر نامی کیمیکل اکیلی برائی نہیں۔ اس میں اور بھی خطرناک اجزاءپائے جاتے ہیں۔ یہ وارننگ امریکہ کی ایک خاص اور بڑی آرگنائزر کنزیومر ہیلتھ نے جاری کی ہے۔ مرکزماحولیاتی صحت نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ٹین کے ڈبوں میں مصنوعات بظاہر بہت اچھی دکھائی دیتی ہیں۔ خوبصورت پیکنگ اور خوبصورت رنگ بہت دلربا ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں بی پی اے ۔ یعنی ڈیسنول اے Bisphenol Aکی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ مرکز برائے ماحولیاتی کا عنوان ڈبوں سے نجات ہے ۔ماضی میں بہت سی تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہی کیمیکل ذیباطیس دل کے امراض پروٹیسٹ کینسر اور دل کے امراض کا سبب بھی بنتا ہے۔ 2015ءمیں ان ٹین کے ڈبوں میں بی پیئر کی مقدار 67فیصد کم ہوئی تھی لیکن یہ اب بھی زیادہ ہے۔ ان کمپنیوں کو بی پی اے کی مضر صحت ہونے کا علم ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ خطرناک کیمیکل ٹین کے ٹبوں میں ختم نہیں کیا جاسکا۔ مرکز برائے ماحولیاتی صحت کی تحقیق کے ڈائریکٹر کیرولین کوکس کا کہنا ہے کہ امریکی بچوں اور خاندانوں کو محفوظ خوراک درکار ہے۔وہ وقت ختم ہوگیا جب گروسری اور ریٹیل کی دکانوں پر یا ڈالر شاپ پر مضر صحت چیزیں نہیں بکتی تھیں۔ ڈبو ں میں پیک محفوظ فوڈ کا متبادل اب تک تلاش نہیں کیا جاسکا۔ اس تحقیق میں شامل البرٹن کی کمپنی نے اپنے رد عمل ظاہر کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لوگوں کی جان کا تحفظ ہی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ لیکن کین کی پیکنگ کا مستند طریقہ نہیں ہے۔ہم محفوظ ترین غذا مہیا کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکز برائے ماحولیاتی صحت نے 250کے قریب کین آئٹمز کو تجربہ گاہ میں چیک کیا ۔11ریاستوں کے بڑے اور چھوٹے سٹوروں سے ڈبے اٹھائے گئے۔ جن میں مختلف اداروں کی مصنوعات شامل تھیں۔ ان میں 40فیصد میں مضر صحت بہت زیادہ پائے گئے۔ بعض میں 36فیصد اور بعض میں 33فیصد زیادہ نکلی۔ امریکہ میں گروسری کی کچھ بڑی چینز ہیں۔ ایسی دو بڑی چینز کے ٹین پیک میں بھی مضر صحت اجزاءپائے گئے۔ مائیک چیٹ نے اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کمپنیوں کو اپنا معیار بہتر بنانے کی اشارہ دیا ہے۔مائیکل صفر صحت برائے صحت مند خاندان کے ڈائریکٹر ہیں انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ درست ہے کہ کمپنیوں نے محنت کی ہے۔ دو سال میں انہوں نے کیمیکل کی مقدار کو 67فیصد کم کیا ہے۔ اب بھی اس شعبے میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کی صحت اولین ترجیح ہے اس سلسلے میں معیاری خوراک کی فراہمی کویقینی بنایا جائے۔ڈالر سٹور کو اپنی مصنوعات میں مضر صحت کی مقدار کو کم از کم کرنا چاہئے۔
امریکہ میں اس وقت کئی این جی اوز اس کیمیکل کے خلاف سرگرم ہیں۔ ایک بڑی این جی او کا نام مائنڈ ڈی سٹور ہے۔ جبکہ مرکز برائے ماحولیاتی صحت سب سے بڑی تنظیم ہے۔ ایک بڑی سٹوری چین کو مائنڈ نے ڈیڑھ لاکھ درخواستیں بھیجیں ہیں جس میں انہوں نے بی پی اے کی زائدمقدار کی نشاندہی کی ہے۔ دوسرے سٹور کو 130درخواستوں میں اس مضر صحت کیمیکل کی نشاندہی کی ہے۔
خریدار ہوشیارکے نام سے ایک رپورٹ بریسٹ کینسر نے شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میںبھی انہوں نے بی پی اے کو سرطان کو ایک سبب قرار دیا ہے۔یہی کیمیکل کاسمیٹکس میں بھی پایا جاتا ہے۔ چنانچہ سی وی ایس نامی ہیلتھ نامی ادارے کی ہدایت پر کمپنی نے 6سو مصنوعات میں سے یہ کیمیکل نکال دیا ہے۔اس سلسلے میں امریکہ میں صحت عامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ محفوظ اور بہتر پالیسی سازی پر دباﺅ ڈالا جارہا ہے۔ امید ہے اس میں کچھ کامیابی حاصل ہوگی۔
سوچئے اگر امریکہ جیسے ملک میں کین میں پیک مصنوعات کا حال یہ ہے تو پھر ہمارے ہاں کین میں پیک چیزوں کی صورتحال کیا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  خواتین کا حق وراثت (یہ احسان نہیں خواتین کا حق ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں