badsha_aur_mochi

بادشاہ اور موچی صحرا میں

EjazNews

اب میاں موچی اور بادشاہ کا حال سنیے
جب جن نے معروف کو صحرا میں گرایا تو گرتے ہی نشہ ہرن ہوگیا ۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھا تو میلوں تک ریت ہی ریت نظر آئی۔ بہت چکرایا۔ پہلے تو سمجھا کہ کوئی خواب ہے مگر دھوپ نے ستایا، ایڑی سے چوٹی تک پسینا آیا۔ پاﺅں جلنے لگے تو خواب کا وہم دور ہوا۔ اوپر سے آسمان آگ برسا رہا تھا اور نیچے سے ریت پاﺅں میں انگارے بھر رہی تھی۔ پیاس نے الگ پریشان کر رکھا تھا ادھر ادھر بھاگنے لگا، مگر جہاں تک نظر جاتی، ریت ہی ریت دکھائی دیتی۔ گڑ گڑا کر خدا سے مدد مانگنے لگا۔
اتنے میں کیا دیکھتا ہے کہ اوپر سے کوئی چیز تیزی سے نیچے آرہی ہے گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ اسی دم کوئی دھم سے ریت پر آن گرا۔ قریب جا کردیکھا توبادشاہ سلامت ہیں۔ تھوڑی دیر میں بادشاہ سلامت بھی ہوش میں آئے۔ اپنے قریب معروف کو دیکھا تو زار زار رونے لگے۔ اپنے کیے پر پچھتانے لگے۔
معروف نے کہا سرکار! اب رونے دھونے سے کیا فائدہ؟ جو ہونا تھا ہوچکا۔ اب پچھتانا بے کار ہے۔ ہمارا آپ کا ملاپ قدرت نے روز ازل سے لکھ دیا تھا۔ دیکھ لیجئے شہر میں بھی ہم اور آپ ساتھ ساتھ تھے اور اس صحرا میں بھی ساتھ ساتھ ہیں۔ قسمت کا لکھا پورا ہو کر رہتا ہے۔ حضور !۔
بادشاہ نے کہا ہم سے سخت نادانی ہوئی کہ تم کو ذلیل سمجھا اور ذلیل کیا۔ وزیر نے ہمارا برسوں نمک کھایا ہے مگر اس نے نمک حرامی کی ہے۔ اب مجھے رہ رہ کر اپنی حماقت پر پچھتا وا ہو رہا ہے۔ سوچتا ہوں اب میری بیٹی کیا کیا بنے گا۔ بد بخت وزیر ضرور اس کو پریشان کرے گا۔ رعایا پر الگ ظلم و ستم توڑےگا۔ ہمیں رعایا اولاد کی طرح عزیز تھی۔ کبھی ہم نے ظلم نہ کیا تھا۔ لیکن اب وزیر ضرور قتل وغارت کرے گا۔ کاش تم پر اعتماد کرتے تو اس حالت کو تو نہ پہنچتے۔
معروف نے کہا بادشاہ سلامت! اب پچھتانا فضول ہے ۔ میں اورآپ اب چند گھڑیوں کے مہمان ہیں۔ دھوپ تیز ہو رہی ہے۔ پیاس بھی بڑھ رہی ہے اور جب پیاس حد سے بڑھے گی تو روح جسم کو چھوڑ کر چلی جائے گی۔ رونا دھونا بند کیجئے اور موت کا انتظار کیجئے۔
بادشاہ نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو معروف میاں ! اب ہمیں موت کا انتظار کرناچاہیے۔ اس لمبے چوڑے اور تپتے ہوئے صحرا میں زندہ رہنا ناممکن ہے۔
ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چلنے لگے اور آسمان پر کالی کالی بدلیاں تیرنے لگیں۔
معروف نے خوشی سے چلا کر کہا حضور! فکر نہ کیجئے۔ قدرت نے ہماری مدد کے لیے آسمان پربدلیاں جمع کر دی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ پانی برسے گا اور موسم خوشگوار ہو جائے گا۔
اور واقعی تھوڑی دیر بعد موسلا دھار بارش ہونے لگی اور تپتا ہوا صحرا ٹھنڈا پڑا گیا۔
اب شہزادی کا حال سنیے ۔ جب وزیر نے بادشاہ اور معروف کو اپنے راستے سے ہٹا دیا تو سیدھا محل میں گیا اور دربار بلایا۔ غلاموں نے تخت بچھایا تو وہ تخت پر بیٹھ گیا۔ اس پر تمام درباری بڑے حیران ہوئے کہ وزیر ایسی گستاخی کیوں کر رہا ہے؟ کیا اسے بادشاہ سلامت کا خوف نہیں ہے ؟ مگر وزیر نے فوراً ہی ان کی حیرت دور کر دی بولا:
میں نے آپ لوگوں کو اس لیے جمع کیا ہے کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ اب اس ملک کا تخت و تاج کس کے پاس ہے۔ اور آپ لوگوں کوآئندہ کس کا حکم ماننا ہوگا۔ بادشاہ اور معروف موچی کو میں نے ملک سے باہر نکال دیا ہے اور آج سے اس ملک پر میری بادشاہت چلے گی۔ تم میں سے جو کوئی میرا حکم نہ مانے گا۔ عین اس کا بھی وہی حشر ہوگا جوبادشاہ اور معروف موچی کا ہوا۔ میرے پاس ایسی طاقت ہے کہ ابھی اور اسی وقت تم سب کو آنکھ کے ایک لحظے میں زندہ دفن کروا سکتا ہوں۔ اگر دیکھنا چاہتے ہو تو دیکھو۔
یہ کہہ کر وزیر نے انگوٹھی کو رگڑا تو جنوں کا سردار ابوالعفریت نمودار ہوا۔ میرے آقا! غلام کے لیے کیا حکم ہے ؟۔
وزیر نے کہا ۔ ان تمام لوگوں کو اٹھا کر صحرا میں پھینک آﺅ۔ اتنا کہنا تھا کہ جن درباریوں کی طرف بڑھا۔ مگر وہ سب کے سب زمین پر جھک گئے اورانہوں نے وزیر کو اپنا بادشاہ مان لیا۔
وزیر نے جن سے کہا اب تم جا سکتے ہو۔ جن کے جانے کے بعد وزیر درباریوں سے بولا۔ اب بتاﺅ! مجھے اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہو کہ نہیں ؟ سب نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا ہم دل و جان سے آپ کی بادشاہی کو تسلیم کر تے ہیں۔ آپ کے ہر حکم کی تعمیل ہوگی۔
اس پر وزیر قہقہہ مار کر بولا کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ جن کی صورت دیکھتے ہی تم سب کی ہمت جواب دے گئی۔
اس کے بعد وزیر کے حکم سے سارے ملک میں منادی کرادی گئی کہ وزیراعظم ہی اب اس ملک کے بادشاہ ہیں اگر کسی نے بغاوت کی کوشش کی تو اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ پھروزیر نے ایک شان دار جشن کا انتظام کیا۔ سب کے سامنے بادشاہ کا تاج اپنے سر پر رکھا اور ہاتھ میں تلوار لے کر کہنے لگا۔
تمام امیروں اور تاجروں کو حکم دیا جاتا ہے کہ اپنی آدھی دولت شاہی خزانے میں جمع کرا دیں۔ جو ہمارے حکم کی خلاف ورزی کرے گا پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔
ظاہر ہے کسی کو انکار کی جرات نہیں ہو سکتی تھی۔ شام تک شہر کے سبھی دولت مندوں نے اپنی آدھی دولت سرکاری خزانے میں جمع کرادی۔
شہزادی نے جب یہ سنا کہ معروف اور اس کے باپ کو وزیر نے ملک بدر کر دیا ہے تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ پاﺅں تلے سے زمین نکل گئی۔ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہ اب مصیبت کا ایک نہ ختم ہونے والا دور شروع ہو گا۔ خادمائیں اور کنیزیں تسلی دیتیں مگر بے سود۔ وہ رو رو کر ہلکان ہو گئی۔ اپنی حماقت پر پچھتاوا ہوا کہ ناحق معروف کو ذلیل کیا۔
اس کو ذلیل نہ کرتے تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ پچھتانا فضول تھا۔
ابھی بے چاری کے آنسو بھی خشک نہیں ہوئے تھے کہ وزیر کا حکم آیاکہ سب کنیزیں اور خادمائیں شہزادی کے کمرے سے نکل جائیں۔ اس پر تو شہزادی کا رنگ زرد پڑ گیا۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ کنیزیں ایک ایک کرکے کمرے سے نکل گئیں تو وزیر شہزادی کے پاس آیا اور مسکرا کر بولا۔
ڈرو نہیں، شہزادی ! ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے بلکہ تمہیں اپنی ملکہ بنائیں گے۔
شہزادی کا خون جیسے خشک ہو گیا۔ ٹانگیں کانپنے لگیں، دل ڈوبنے لگا اور اس سے پہلے کہ وزیر کچھ اورکہتا وہ غش کھا کر گر گئی۔ وزیر آگے بڑھا اور گھبرا کر شہزادی کی نبض ٹٹولی۔
ابھی زندہ ہے یہ کہہ کر تیزی سے باہر نکل گیا ، شاہی حکیموں میں سے سب سے تجربہ کار حکیم کو بلایا اور سیدھا شہزادی کے کمرے میں آیا۔ حکیم نے نبض دیکھی۔ شہزادی بے ہوش ضرورتھی مگر زندہ تھی۔
حکیم نے کہا فکر کی کوئی بات نہیں خدا نے چاہا تو ابھی ہوش میں آجائیں گی۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ آپ یہاں سے تشریف لے جائیں۔ تاکہ شہزادی صاحبہ دوبارہ بے ہوش نہ ہو جائیں۔ کیونکہ اگر دوبارہ بے ہوش ہو گئیں تو ان کا زندہ رہنا مشکل ہوگا۔
وزیر نے ایک نظر شہزادی پر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ حکیم نے اپنے تھیلے سے ایک سفوف نکالا اور شہزادی کو سنگھایا۔ شہزادی نے فوراً ہی آنکھیں کھول دیں اور ادھرادھر دیکھنے لگی۔ جب حکیم پر نظر پڑی تو ہچکیاں لیتے ہوئے بولی حکیم صاحب! آپ تو میرے ابا حضور کے وفادار ہیں۔ خدا کے لیے مجھے اس نمک حرام سے بچائیے۔
حکیم نے کہا صبر کرو بیٹی! خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ ہر مشکل میں اسی کو پکارنا چاہیے۔ وہ بے انصاف نہیں ہے اور نہ ظالم ہے۔ وہ اپنے بندوں پر ظلم ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ بہر حال تم اطمینان رکھو میں تمہیں بچانے کی پوری پوری کوشش کروں گا۔ میں اس سے کہہ دوں گا کہ شہزادی کی طبیعت ابھی ٹھیک نہیں ہے۔ البتہ دو تین روز انہیں بالکل تنہا چھوڑ دیا جائے اور علاج جاری رکھا جائے۔
شہزادی نے کہا مجھے آپ سے یہی امید تھی حکیم صاحب! خدا آپ کو اس کااجر ضرور دے گا۔
حکیم نے شہزادی کے سرپر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور باہر نکل گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  نیا شہر، نئی مصیبت
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں