imran-khan-meet

پوری قوم دو نفل ادا کرے کہ ملک کی صورتحال اتنی خراب نہیں ہے:وزیراعظم

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم نے 13 مارچ کو لاک ڈاون نافذ کیا اور عوامی مقامات کو بند کیا لیکن مجھے پہلے دن سے یہی خوف تھا کہ ہمارے حالات یورپ، چین سے مختلف ہیں اور ہم نے جو لاک ڈاو¿ن کرنا ہے وہ مختلف ہوگا۔ہمارے 70-80فیصد مزدور رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ ہمیں خدشہ تھا کہ اگر سب بند کردیا تو ان لوگوں کا کیا بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا میں حالات کو دیکھ رہے تھے کہ یہ وائرس کیسے پھیل رہا ہے، دنیا کے ممالک میں روزانہ ہزار لوگ مر رہے تھے اوراس سب کو دیکھتے ہوئے ہم نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر بنایا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کو سربراہ بنایا اور اس کے تحت روزانہ تمام صوبوں سے رابطہ کیا جاتا ہے اور ڈاکٹرز سے تجاویز لے کر صورتحال کا جائزہ اور فیصلہ کیے جاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے پاکستان میں کرونا وائرس کی وہ لہر نہیں آئی۔جو دنیا بھر میں آئی ہے۔ اللہ کا کرم ہے کہ پاکستان پر اس طرح کا پریشر نہیں آیا۔ وزیراعظم کا کہناتھا وقت آگیا ہے کہ ذمہ دار شہری بن کر تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری ریشو بڑھ رہی ہیں لیکن آہستہ بڑھ رہی ہیں ہمیں یہ تو پتہ تھا کہ یہ بڑھنی ہیں ۔
پبلک سیکٹر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارا پبلک ٹرانسپورٹ کے معاملے پر مکمل طور پر اتفاق نہیں ہے، میرے خیال سے اسے کھلنا چاہیے کیونکہ یہ ایک عام آدمی استعمال کرتا ہے اور اس سے غریب کو فائدہ ہوتا ہے۔صوبوں کو خدشات ہیں اور ابھی کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتے جس سے صوبوں کو مسئلہ ہو لہٰذا وہ خود اس حوالے سے ایس او پیز تیار کریں۔
اس وقت یہ پوری دنیا کے لیے مشکل وقت ہے، پوری قوم دو نفل ادا کرے کہ ملک کی صورتحال اتنی خراب نہیں ہے۔
وزیراعظم عمران خان نےکہا کہ ہمیں لوگوں کو کرونا سے بھی بچانا ہے اور لاک ڈاون سے متاثر ہونے والے افراد کا بھی خیال رکھنا ہے، ساری توجہ کرونا کی جانب مرکوز ہونے سے تپ دق( ٹی بی) اور کینسر پھیل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے پوری کوشش کی ہے کہ لاک ڈاون سے غریب کم سے کم متاثر ہو لیکن ہمیں مزید اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ اس سے اور بھی لوگ متاثر ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیری سینے پر گولیاں کھا کر یوم سیاہ منا رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں