Pumpkin

کدو : بے شمار افادیت کی حامل سبزی

EjazNews

کدو کے کئی نام ہیں۔ پنجاب میں اسے ’’لوکی‘‘ اور ’’گھیا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ارزاں اور کثرت سے پیدا ہونے والی ترکاری غذائی اجزاء سے بھرپور ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں ایک گول اور دوسری لمبی۔ یہ دونوں قسمیں بازار میں تقریباً چھ ماہ تک فروخت ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ کدو ایک اسلامی غذا ہے۔ ہمارے پیارے رسول ﷺ کدو رغبت سے کھاتے تھے۔ اولیاء کرام نے بھی اس سبزی کو بصد احترام و شوق سے کھایا ہے۔
کدو کا مزاج:
اس سبزی کا مزاج سرد اور تر ہے۔ اس میں گوشت بنانے ولے روغنی اور معدنی نمکیات کوٹ کوٹ کے بھرے ہوتے ہیں۔ قدرت نے اس سستی سبزی میں بہت سے اجزاء سموئے ہوئے ہیں۔
کدو کے اجزاء:
اس ارزاں سبزی میں کیلشیم ، پوٹاشیم اور فولادی اجزاء کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وٹامن اے اور وٹامن بی بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ کثیر الغذا سبزی قبض، معدے کی سختی، جلن اور تیزابیت کو دور کر دیتی ہے۔
ایک سو گرام کدو کی غذائی صلاحیت یہ ہے:
رطوبت 96.1فیصد، پروٹین0.2فیصد، چکنائی 5.1فیصد، معدنی اجزاء0.5فیصد، ریشہ 0.6فیصد، کاربوہائیڈریٹس 2.5فیصد۔
کدو کے معدنی اور حیاتیاتی اجزاء میں 20گرام کیلشیم، 10ملی گرام فاسفورس، 0.7ملی گرام آئرن کے علاوہ وٹامن بی کمپلیکس بھی پایا جاتاہے۔ ایک سو گرام کدو کی غذائی صلاحیت 12کیلوریز ہے۔
کدو ایک مسکن ،سرد مزاج، دافع صفر اور پیشاب آور غذائی اور دوائی اثرات رکھنے والی سبزی ہے۔ لہٰذا اس کی افادیت کے پیش نظر اسے معدے کے امراض کے لئے خاص طور پر استعمال کیاجاتا ہے۔
کدو کا جوس:
کدو کا جوس پینے سے نہ صرف پیشاب کی جلن ختم ہوتی ہے بلکہ یہ آنتوں اور معدے سے تیزابیت اور انفیکشن بھی ختم کرتا ہے۔ جوس حاصل کرنے کے لئے ایک کدو کو کدوکش کرنے کے بعد نچوڑ لیا جائے تو خاصی مقدار میں جوس حاصل ہوتا ہے۔
پیشاب کی تکالیف کے لئے ایک گلاس کدو کے جوس میں لیموں کے رس کا ایک چمچ ملا کر روزانہ پیا جائے تو اس مرض سے نجات مل جاتی ہے ۔ کدو اور لیموں کے کھاری اجزاء جلن ختم کرتے ہیں۔ جدید ریسرچ کے مطابق پیشاب کے اعضاء میں انفیکشن ہو تو لیموں اور کدو جوس سلفا ادویات کے ساتھ دینا چاہئے کیونکہ ایسی صورت میں یہ پیشاب آور الکلائین کا عمل کرتا ہے۔
جب نیند نہ آئے:
بعض لوگوں کو گرمیوں میں نیند نہیں آتی اور ان کا سر چکراتا ہے رہتا ہے۔ ایسے لوگ کدو کاٹ کر پائوں کے تلووں پر کدو کی مالش کریں۔ کدو کا جوس تلوں کے تیل میں ملا کر روزانہ رات کو سر پر مالش کر کے لگایا جائے تو گہری نیند آتی ہے۔
ایک پائو کدو کا سالن چپاتیوں کے ساتھ کھالینے سے بدن کو ایک وقت کی ضروری غذا حاصل ہوجاتی ہے۔ گرم مزاج لوگوں ، جوانوں ، گرمی، خشکی اور قبض کے ستائے مریض کے لئے یہ غذا بھی ہے اور دوا بھی۔ پرانے حکیموں نے گھیا میں چنے کی دال شامل کر کے ایک سستی اور مکمل غذا ہمارے لئے تجویز کر دی ہے۔ یہ بات تجربے اور علاج سے ثابت ہوئی ہے کہ گرم طبیعت والوں، محنت و مزدوری کرنے والوں اور دائمی قبض کے مریضوں کے لئے اس ا چھوتی غذا کا مقابلہ آج کل کی قیمتی سے قیمتی غذائیں بھی نہیں کر سکتی تھیں۔
بخار کا علاج:
گرمی کے موسم میں تیز بخار اور معیاری بخاروں کی صورت میں اکثر و بیشتر ’’سرسام‘‘ ہو جاتا ہے۔ مریض بے چین ہو تا ہے اور سر پٹکتا ہے، بے ہودہ گفتگو شروع کر دیتا ہے اور گھر بھر کی پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ سر سام اور بخار کی تیزی دور کرنے کے لئے ایک کدو لے کر اس کا ایک ٹکڑا کاٹ کر اسی کدو پر جما کر گوندھے ہوئے آٹے کی لیپ کر کے تنور کی بھوبھل میں دبا دیں۔ جب آٹا پک کر سرخ ہو جائے تو گھیا کو تنور سے نکال کر آٹا دور کر کے اس کا پانی نچوڑ کر مریض کی عمر، طاقت اور حالت کے مطابق آدھی چھٹانک سے تین چھٹانک تک دیسی شکر، شربت انار یا شربت بزوری معتدل ملا کر پلانے سے مریض کو فائدہ ہوگا۔
یہ بات تجربے سے کہی جاسکتی ہے کہ تیز بخار ، بے چینی، پیاس، گھبراہٹ اور خشکی دور کرنے کے لئے یہ ایک سستی گھریلو دوا، بڑے بڑے انجکشن سے بہتر ثابت ہوتی ہے۔
اگر خدانخواستہ بخار ایک سو پانچ ڈگری سے بھی بڑھ جائے تو نرم گھیا کے چار ٹکڑے کر کے چار آدمی مریض کے ہاتھ اور پا ئوں کا ایک ایک ٹکڑا سادہ دہی کی لسی میں بھگو کر رگڑنا شروع کر دیں۔ دو چار منٹ میں لوکی کے رگڑنے والے ٹکڑے بخار کی حدت کو جذب کر کے سیاہ اور گرم ہو جائیں گے اور خدا کے فضل و کرم سے بخار کی تیزی سے تڑپنے والا مریض ہو ش کی باتیں کرنے لگے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  گردوں کے مریضوں کیلئے مفید سبزیاں

اپنا تبصرہ بھیجیں