afghanistan

افغانستان میں امن کی امید ایک مرتبہ پھر نظر آنے لگی

EjazNews

امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن و استحکام کی خاطر تاریخی معاہدہ طے پایا ہوا ہے۔ اس معاہدے پر بعض اوقات انگلیاں بھی اٹھیں ۔ اشرف غنی جو کہ افغانستان میں صدر کے عہدے پر ہیں۔ لیکن اس معاہدہ میں ان کو شامل نہیں کیا گیا ان کے کچھ بیانات بھی سامنے آئے تھے ۔ لیکن معاہدہ امریکہ اور طالبان کے درمیان تھا اس لیے اس پر عملدرآمد ہونا ممکن نظر آرہا تھا۔
طالبان کے قطر کے دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر 40قیدیوں کی رہائی کی تصدیق کی۔انہوں نے واضح کیا ہے کہ افغان انتظامیہ نے قندوز میں 40قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔
اپنے ٹوئٹ میں انہوں نےکہا کہ اسلامک امارات آف افغانستان نے آج دوپہر میں صوبہ قندوز میں کابل انتظامیہ کے 40فوجیوں کو رہا کردیا ہے۔
ترجمان نے لکھا ہے کہ اسلامی امارات قیدیوں کی رہائی کا عمل تیز تر کرنا چاہ رہا ہے تاکہ کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر قیدیوں کی جانوں کو بچایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسرائیل کی جارحیت رکنے کا نام نہیں لے رہی، خواتین و بچوں سمیت شہدا ء کی تعداد132ہو گئی
https://twitter.com/suhailshaheen1/status/1255836343248261126?s=20

قیدیوں کی رہائی ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب افغانستان میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور طالبان اور افغان حکومت ایک دوسرے پر پرتشدد واقعات میں اضافے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
13اپریل کو افغان فورسز نے سینکڑوں طالبان قیدیوں کو معاہدہ کے تحت بگرام جیل سے رہا کیا تھا جبکہ باقی یدیوں کی رہائی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ترجمان سکیورٹی کونسل کا یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ افغان طالبان قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ جاری رہے گا تاحال 361قیدیوں کو بگرام جیل سے رہا کر چکے ہیں ، امن معاہدے کے تحت 15سو قیدیوں کوجیل سے رہا کیا جائے گا۔
افغانستان کی کئی نسلیں جوان ہو چکی ہیں جو اپنے ملک میں کچھ ہمسایہ ممالک میں ۔ اور کچھ دیار غیر میں جن کو شاید اپنے ملک کے بارے میں کچھ بھی صحیح طور پتہ نہ ہو لیکن اس ملک میں اللہ کرے امن آئے ۔ افغانستان کے امن میں ہی برصغیر کا امن پوشیدہ ہے۔ یہ خطہ اگر امن و امان کا گہوارہ بنتا ہے تو تجارت کے بہت سے راستے کھلتے ہیں جو پاکستان ، سینٹرل ایشیاء ریاستوں اور خود افغانستان کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اللہ کرے اس ملک میں امن و امان آئے ۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکی انتخابات عدالت میں چیلنج ، صدارتی امیدوار کی دوڑ طویل نہ ہو جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں