موچی_سوداگر

موچی سوداگر بن گیا

EjazNews

معروف موچی کی سرگزشت سننے کے بعد علی تاجر نے اپنی داستان یوں شروع کی کہ جب میں سات برس کا تھا تو وطن سے بے وطن ہوا۔ نہ کوئی اپنا نہ کوئی پرایا۔ یار نہ مددگار۔ کبھی ادھر گیا کبھی ادھر ہوتے ہوتے اس شہر میں گزرہوا۔ یہاں کے باشندے بڑے رحمدل اور فیاض ہیں۔ مسافروں سے بڑی شفقت سے پیش آتے ہیں۔ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو ادھار دے دیتے ہیں۔انکار نہیں کرتے۔ میں نے ان سے اپنا حال زار بیان کیا کہ میں ایک تاجر ہوں اورمیرا مال پیچھے آتا ہے کوئی جگہ بتائیے جہاں میں اپنا اساب رکھ سکوں۔
انہوں نے ایک عمدہ کوٹھی میرے لیے کھول دی۔ پھر میں نے ان سے ایک ہزاراشرفیاں یہ کہہ کر لیں کہ مال یہاں پہنچتے ہی ادا کردوں گا۔ وہ فوراً راضی ہو گئے اور ایک ہزار اشرفیاں قرض دے دیں۔ میں نے ان اشرفیوں سے کاروبار شروع کر دیا۔ شروع ہی میں فائدہ ہونے لگا اور اب ایک مشہور سوداگر بن گیا ہوں۔ میں نے وہ قرضہ بھی جلد ادا کر دیا اور اس شہر میں میری ساکھ بھی ہے۔
اگرتم نے یہاں کے لوگوں سے کہا کہ میں بیوی کے ڈر سے بھاگ آیا ہوں تو وہ سمجھ جائیں گے کہ ضرور کوئی گھا مڑ ہے۔ اگر یہ کہو گے کہ کوئی جن یہاں چھوڑ گیا ہے تو تم سے دور دور رہیں گے۔ اور بہت جلد تمہیں یہاں سے نکال دیں گے۔ اگر تم حماقت سے یہ کہہ دو گے کہ موچی ہو تو میری تمہاری دونوں کی بدنامی ہو گی اور اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی ذلیل کراﺅ گے۔
معروف نے پوچھا تو پھر اب کیا کیا جائے ؟۔ اگر کوئی ہم سے پوچھے تو کیا کہیں ؟۔
علی نے کہا بس جو ہم کہیں وہ کرو اس طرح یہاں بڑے مزے سے رہو گے اور میری طرح مال دار ہو جاﺅ گے۔ کل انشاءاللہ ہم تم کو ایک ہزار اشرفیاں دیں گے۔ اور ایک سانڈنی اور ایک حبشی بھی خدمت کیلئے تمہارے ساتھ کریں گے وہ تمہیں منڈی میں لے جائے گا اور امیربنائے گا۔ وہاں میں بھی بیٹھا ہوں گا۔ میں تم سے مصافحہ کروں گا۔ عزت کے ساتھ ملوں گا اور پوچھوں گا کہ کہیے آپ کے ساتھ کیا کیا سوداگر کامال ہے ؟ اس کے جواب میں تم کہنا کہ میرے پاس ہر قسم کا سامان بکثرت ہے۔ میں پوچھوں گا یہ والا مال بھی ہے ؟ تم کہنا جی ہاں ! بہت ہے۔
اس پر وہ لوگ مجھ سے ضرور پوچھیں گے کہ یہ کون صاحب؟ کہاں سے آئے ہیں ؟ کہاں جائیں گے؟ کیا پیشہ ہے۔ کس شے کی سوداگری کرتے ہیں؟۔
میں کہوں گا یہ اسکندریہ کے بڑے نامی گرامی سوداگر ہیں ان کے باپ دادا کا بڑا نام تھا۔ پھر میں ان سےکہوں گا کہ تمہارے لیے کوئی بڑی سی دکان خالی کروا دیں۔ وہ فوراً دکان کا بندوبست کر دیں گے ۔ پھر کہوں گا کہ یہ بڑے ہی امیر آدمی ہیں اور خیرات کا درجہ تو اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ فقیر نے سوال کیا اور انہوں نے اسے نہال کیا یوں سمجھیے اپنے وقت کے حاتم طائی ہیں۔
جب میری زبان سے وہ لوگ ایسا سنیں گے تو ان کو پورا پورا یقین ہو جائے گا کہ یہ کوئی بڑا ہی مال دار تاجر ہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا۔ اگر کہیں شان و شوکت کے بعد تم نے حماقت میں آکر بھانڈا پھوڑ دیا کہ میں موچی ہوں اور جوتے گانڈھتا ہوں تو پھر وہی موچی کے موچی رہو گے اور اپنے ساتھ ہمیں بھی بدنام کراﺅ گے۔
موچی بولاجی نہیں آپ فکرنہ کیجئے۔ بندہ ایسا بے وقوف بھی نہیں کہ بنا بنایا کھیل بگاڑ دے۔ سانڈنی پر سوار ہوں گا، ایک غلام حبشی ہمراہ ہوگا تو اگر کسی سے کہوں گا بھی کہ موچی ہوں تو وہ باور نہ کرے گا اور کہے گا کہ واہ موچی ایسا ہی ہوا کرتے ہیں۔ الغرض اس بارے میں ہم کوبہت صلاح نہ دیجئے۔ ہم خوب سمجھتے ہیں بس اب کچھ کہیں سنیں نہیں۔
علی سوداگر بولا بے ادبی معاف! آپ سمجھتے خاک بھی نہیں۔مجھ سے صاف کہہ دیا کہ میں موچی ہوں اور بیوی کے ڈر سے بھاگ آیا ہوں ۔ مجھے اس قدر ہنسی آئی کہ کچھ عرض نہیں کرسکتا۔
خیر اس ملاقات کے بعد ہم تمہیں دوسرے سوداگروں سے بھی ملوا دیں گے تمہاری خاطر سے ہم ان کوبلوائیں گے اور دعوت کریں گے۔ وہ سب تمہارے دوست بن جائیں گے اور تم کوخریدو فروخت میں ان سے بڑی مدد ملے گی کچھ ہی دنوں میں مالا مال ہو جاﺅ گے۔
اگلی صبح کو علی سوداگر نے موچی کو ایک ہزار اشرفیاں دیں اور ساری بات ایک بار پھر سمجھادی۔ اس نے اشرفیاں لے کر علی کا شکریہ ادا کیا اور دو چار بے موقع شعر بھی سنا دئیے۔
شعر سن کر علی نے کہا۔ بھائی معروف! ایک مشورہ اور بھی ہے وہ یہ کہ آئندہ ایسے بے تکے شعر پھر نہ سنانا۔ ابھی ابھی تم نے جو اشعار پڑھے ہیں نہایت ہی پھسپھسے اور بے موقع ہیں۔
معروف نے ہنس کر کہا اچھا صاحب کان پکڑتا ہوں اگرآئندہ ایسے اشعار سنیے گا تو سخت سزا دیجئے گا۔
اس کے بعد علی سوداگر نے ایک عمدہ سانڈنی منگوائی اور معروف موچی کواس پر سوار کیا۔ آگے آگے غلام حبشی چلا اور پیچھے پیچھے معروف ۔
جب موچی صاحب بازار سے گزرے اور پھاٹک کے قریب پہنچے تو سوداگر نے اس اجنبی تاجر کو بڑے غور سے دیکھا۔ علی نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ معروف سانڈنی سے اترے۔ علی نے بڑے تپاک کے ساتھ مصافحہ کیا اور خوش آمدید کہا اور پھر دوسرے سوداگروں سے مخاطب ہو کر کہا۔
برادران!یہ ہمارے دوست بہت بڑے تاجرہیں نام ان کا معروف ہے۔ اسکندریہ سے تشریف لائے ہیں۔ خاندانی تاجر ہیں۔ سخی ایسے ہیں کہ ادھر کسی نے سوال کیا اور ادھر انہوں نے اسے مالا مال کیا۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ایسے مشہور تاجر نے ہمارے شہر میں قدم رنجہ فرمایا اور ہم کو عزت بخشی، رتبہ بڑھایا۔
سوداگر نے ان کے آنے پر بڑی خوشی کا اظہار کیا اوران کے حالات ذرا تفصیل سے جاننا چاہیے۔
جواب میں علی سوداگر نے گپ اڑانا شروع کی کہ یہ ایسے ہیں اورویسے ہیں۔ ان کے باپ ویسے تھے اور دادا ایسے تھے۔
معروف نے کہا بھائی علی ! تم کو اپنا وطن تو کبھی نہ کبھی ضرور یاد آتاہوگا؟۔
اس نے کہا ہاں اس میں کیا شک ہے۔ مگر جو آرام یہاں میسر ہیں وہ کہیں نہیں۔
پھر اور سوداگر آئے اور علی نے ان سے بھی معروف کا تعارف کرایا اورزمین وآسمان کے قلابے ملا کر رکھ دئیے۔ آخر میں کہا معروف صاحب یہاں اس غرض سے تشریف نہیں لائے کہ تجارت کریں بلکہ سیر وتفریح کے لیے آئے ہیں۔ البتہ یہاں کی آب و ہوا پسند آئی تو پھر یہیں قیام فرمائیں گے۔ ان کو کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ پھر بھی غرور ان میں نام کو نہیں ۔ لالچ سے منزلوں دور بھاگتے ہیں۔ خیرات کترے ہیں تو تجویروں کے منہ کھول دیتے ہیں اور دوستوں کی دعوت کرتے ہیں تو سب کو اشرفی لقمہ کھلاتے ہیں۔
جب سوداگروں نے یہ بات سنی تو انہوں نے معروف کی دعوت کی۔ اس دعوت میں سوداگروں کا شاہ تجارت بھی آیا۔ سب نے مل کر کھانا کھایا اورشربت نوش فرمایا۔
شاہ تجارت کے سامنے علی سوداگر نے معروف کو ایک نہایت قیمتی کپڑا دکھا کر پوچھا معروف صاحب! کیا آپ ایسا کپڑا بھی لائے ہیں؟۔
معروف نے جواب دیا کثرت سے لایا ہوں صاحب۔
تب علی نے معروف سے اس کپڑے کا بھاﺅ دریافت کیا اور معروف نے سب سوداگروں کے سامنے اس کا نرخ بتا دیا۔
ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک فقیر صدا لگاتا ہوا آیا اور کہنے لگا جو دے اس کا بھی بھلا اور جونہ دے اس کابھی بھلا۔
اس پر معروف نے گنے بغیر اشرفیاں اٹھائیں اور فقیر کی جھولی میں ڈال دیں۔ باقی سوداگروں نے صرف ایک ایک اشرفی دی۔ فقیر دعا دیتا ہوا چلا گیا۔
سوداگروں نے جو دیکھا کہ اس شخص نے ایک فقیر کواتنی ساری اشرفیاں دے دی ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ گن کر بھی نہیں دیں تو بڑے بادشاہوں اور وزیروں کی برابری کرتا ہے۔ ہمارا اس کا کیا مقابلہ۔
اس کے بعد ایک فقیرنی آئی۔ اس کو بھی معروف نے گنے بغیر کئی اشرفیاں دے دیں۔ اس عورت نے بھی جان و مال کی دعا دی اور جا کے سب فقیروں سے کہہ دیا۔ وہ جوق در جوق جمع ہو گئے ایک ایک کو اس نے مالا مال کر دیا۔ مٹھی بھر اور اشرفیاں دے دیں حتیٰ کہ ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی ختم ہوگئی۔
تب معروف نے کہا اے سوداگر بھائیوں اور شاہ تجارت۔ بندہ اس وقت یہاں سے بڑے دکھ کے ساتھ جاتا ہے۔
اس پر وہ بولے کیوں حضرت! خیریت تو ہے؟ کیا سبب ہے ؟ کچھ معلوم تو ہو؟۔
معروف نے جواب دیا مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ لوگوں کا یہ شہر اس قدر غریبوں سے بھرا پڑا ہے ورنہ میں ایک لاکھ اشرفیوں سے کم ہرگز نہ لاتا اور جو آتا اسے نہال کر دیتا۔ اب اگر کوئی فقیر آئے گا تو مجھے بڑی شرم آئے گی۔
اس پر شاہ تجارت نے کہا تب آپ کہہ دینا برکت ہے سائیں۔
معروف نے جواب دیا یہ تو میری زبان سے نہ نکلے گا کہ برکت ہے سائیں،فقیر سوال کرے اور ہم اس کو نہ دیں اس میں برکت کیا ہے یہ تو بے برکتی ہے۔ اگر ایک ہزار اشرفیاں کہیں سے ملتیں تو تقسیم کر دیتا اور جب مال آتا چکا دیتا۔
اس پر شاہ تجارت بولا یہ کون سی بڑی بات ہے۔ ہزار اشرفی بھی کوئی کرامات ہے۔
یہ کہہ کر فوراً ایک ملازم کو حکم دیا اور وہ جا کے ایک ہزار اشرفیاں لے آیا۔ یہ ایک ہزار اشرفیاں بھی معروف نے لٹانا شروع کر دیں۔ جب نماز کا وقت آیا تو سوداگروں کے ساتھ جا کے اس نے بھی نماز پڑھی، اور ان ہزار اشرفیوں میں سے جو کچھ بچا تھا وہ مسجد ہی میں مولویوں اور طالب علموں کی نذر کردیا۔
اس پر لوگوں نے خیال کیا کہ کوئی شہزادہ تاجر کے بھیس میں آیا ہے اورکروڑوں روپے اپنے ہمراہ لایا ہے۔
اس کے بعد معروف نے ایک اور سوداگر سے ایک ہزار اشرفیاں لیں اور یہ بھی تقسیم کردیں۔ علی سوداگر اس کی یہ سب کارروائی دیکھتا تھا۔ مگر بولنے کا موقع نہ تھا۔ شام کو معروف نے ایک اور مسجد میں جا کر نماز پڑھی اور جو کچھ باقی بچا تھا وہ بھی لٹا دیا۔
الغرض جس وقت بازار کا بڑا پھاٹک بند کیا گیا یہ حضرت پانچ ہزار اشرفیاں لٹا چکے تھے۔ چلتے وقت ان سوداگروں سے کہ جن سے قرضہ لیا تھا کہا کہ ہمارا مال آنے دو اگر اشرفیاں کہوں گے تو اشرفیاں دوں گا اور مال مانگو تو مال دوں گا۔
دوسرے روز صبح کو معروف پھر بازار گیا اور سوداگروں سے قرض لیا اورپھر جو لٹانا شروع کیا تو ساٹھ ہزار اشرفیوں کا قر ضدار ہو گیا مگر مال و اسباب کا کہیں پتا نہ تھا۔ لوگ انتظار میں تھے کہ یا خدا یہ کیا ماجرا ہے ؟ اتنا بڑا امیر سوداگر اور اب تک قرض پر ہی دار و مدار ہے۔ نہ مال آتا ہے نہ اسباب۔
آخر ایک روز یہ سب مل کر علی سوداگر کے پاس گئے اور اس سے کہا۔
بھائی علی! تمہارے ہم وطن معروف تاجر نے ہم سے ساٹھ ہزار اشرفیاں قرض لی ہیں مگر اب تک ان کا مال نہیں آیا۔ بازار والے پریشان ہیں چونکہ تم اس کو جانتے ہو اورتمہاری وجہ سے ہم نے اسے اتنی رقم دی ہے ہم تم سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی اپنی قرم اس سے واپس دلاﺅ ورنہ بڑا فضیحتا ہو گا۔
علی نے جو ساٹھ ہزار کا نام سنا تو بہت ہی پریشان ہوا اور معروف کے پاس جا کر اس سے کہا یہ تم نے کیا کیا ؟ ارے غضب خدا کا، ساڑھ ہزار اشرفیاں قرض لے بیٹھے ! آخر تم یہ رقم کہاں سے لاﺅ گے اور کیونکر ادا کر سکو گے؟۔
معروف نے جواب دیا ہم کو اس کی ذرا پروا نہ ہمارا مال ضرور آتا ہو گا۔
اس پر علی نے جھنجلا کر کہا ۔ یہ کیا کہتے ہو ۔ تمہارے پاس مال کہاں ؟۔
معروف نے جواب دیا ہمارے پاس مال بکثرت ہے ۔
تب علی نے غصے سے کہا میں نے یہ بات تمہیں اسی لیے سکھائی تھی کہ تم میرے ہی اوپر ہاتھ صاف کرو اور مجھ کو رسوا کرو ؟ ۔ ارے موچی تیرے پاس مال کہاں ؟۔ ہزار اشرفیاں ہم نے دیں کہ سوداگری کرے اور تو نے ہماری ساکھ پر ساٹھ ہزار دوسروں سے لے کر بھی خرچ کر ڈالیں۔ بتا اب قرضہ کون ادا کرے گا؟۔
معروف نے جواب دیا۔ ساٹھ ہزار اشرفیاں ہمارے نزدیک کیا حقیقت رکھتی ہیں ہمارے اونٹ آتے ہی ہوںگے اور مال و اسباب لاتے ہوں گے۔
اس پر علی کو اور بھی غصہ آیا، جھلا کے بولا تو مجھ سے بھی آڑے آنے لگا۔ تو سوداگر کب سے ہوا؟ تیرے پاس مال و اسباب کہاں سے آیا؟۔ جس پر تو اتراتا ہے۔ اگر تو صاف صاف جواب نہ دے گا تو سب سے کہہ دوں گا۔ پھر تیری قلی کھل جائے گی اور تو ذلیل و خوار ہوگا۔
معروف نےجواب دیا اگر یہ کہتے ہو تو ہم بھی صاف صاف کہتے ہیں کہ تمہارا جو جی چاہے کرو۔ بس اب اور کچھ زبان سے مت نکالنا۔ ہم بھی کسی سے دبنے والے نہیں ہیں۔
علی کو طیش تو بہت آیا مگر ضبط کر گیا اور کچھ سوچ کر گھر چلا آیا۔

یہ بھی پڑھیں:  خزانے کی حفاظت
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں