islam

کھانے پینے کے آداب

EjazNews

انسانوں اور حیوانوں کی زندگی کا دارومدار کھانے اورپینے پر موقوف ہے لیکن اس میں اعتدال ہونا ضروری ہے۔نہ ہمیشہ بھوکارہنا مناسب ہے اور نہ حدسے زیادہ کھانا پینا موزوں ہے۔ کھانے پینے میں اعتدال رکھنے والے ہمیشہ تندرست رہتے ہیں اور زیادہ کھانے سے بہت سی بیماریاں پیداہوتی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان پیٹ سے زیادہ کسی اور بری چیز کو نہیں بھرتا۔ اس کے لیے صرف چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کر سیدھی رکھ سکیں۔ اگر کھانا ضروری ہے تو پیٹ کے تین حصے کر لینا چاہئے۔ ایک حصہ کھانے کے لیے اور ایک تہائی حصہ پینے کیلئے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے۔ (ترمذی کتاب الزہد باب کراہیۃ کثرۃ الاکل)
جو لوگ شکم سیر ہو کر دونوں وقت زیادہ کھاتے ہیں اور ناشکری کرتے ہیں وہی قیامت کے روز زیادہ بھوکے ہوں گے۔ (ترغیب ج۳)
اور آپؐ نے فرمایا: دن میں روزانہ دو مرتبہ شکم سیر ہو کر کھانا اسراف میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ اسراف میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ اسراف کرنیوالوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (البیہقی)
اسی لیے انبیاء علیہم السلام بہت کم کھایا کرتے تھے، یہ کم خوری دل و دماغ کو روشن رکھتا ہے پہلا گناہ کھانے سے ہی ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا تھا: اس درخت سے نہ کھانا لیکن انہوں نے اس ممنوع درخت سے کھا لیا اور خدا کے نافرمان ہو گئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا ہے کہ سب انسانوں سے کونسا انسان افضل ہے۔ آپؐ نے فرمایا جو تھوڑا کھائے اور تھوڑا ہنسے اور ستر پوشی کے لیے تھوڑے کپڑے پر قناعت کرے اور فرمایا کہ غورو فکر نصف عبادت ہے اور تھوڑا کھانا پوری عبادت ہے (کیمائے سعادت) اور آپؐ نے فرمایا کافر سات انتڑیو ں میں کھاتا اور مومن ایک انتڑی میں کھاتا ہے۔ (ترمذی)
یعنی مومن آدمی کم کھاتا ہے اور کافر زیادہ کھاتا ہے۔ بہر حال انسان کیلئے کھانا پینا ضروی ہے لیکن زیادہ آسودگی کے کھانے سے بچنا چاہیے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ پیو اور صدقہ و خیرات دو اور فضول خرچی اور گھمنڈ سے بچتے رہو۔ (نسائی)
یہ کھانا پینا عبادت الٰہی اور دیگر نیک کاموں کی قوت حاصل کرنے کے لیے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ:پاکیزہ چیزوں کو کھاؤ اور نیک کام کرو۔ (المومنون)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو ہر چیز کا ثواب ملتا ہے، یہاں تک کہ اس لقمے پر بھی جو وہ اپنے منہ میں رکھے یا اپنی بیوی بچے کے منہ میں دے۔(مشکوٰۃ)
حلال روزی کھانا پینا چاہیے اور حرام سے بچنا چاہیے کیونکہ حرام چیزوں کے کھانے پینے سے دینا و آخرت برباد ہوتی ہے اور کوئی نیکی قبول نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں:  نرم گفتگو کی اہمیت

اپنا تبصرہ بھیجیں