غرارہ

غرارہ :خوبصورتی کے ساتھ رعب بھی

EjazNews

غرارہ کو اگر یہ کہا جائے کہ یہ پاکستانی پہناوا نہیں تو کوئی غلط بات نہیں ہوگی لیکن یہ برصغیر پاک و ہند کی مسلمان خواتین کاپسندیدہ پہناوا ایک عرصے تک رہا ہے ۔ یہ پاکستان بننے سے قبل مسلمان اکثریتی علاقوں، خاص طور پر لکھنؤ کی امیر خواتین جیسے نواب خاندان وغیرہ کی خواتین کا مخصوص پہناوا ہوا کرتا تھا، جسے زیب تن کرکے وہ دیگر خواتین سے ممتاز نظر آتی تھیں اور ان کی دولت و حشمت کا دکھاوا بھی اسی طرح سے اس وقت میں کیا جاتا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد جو خواتین بھارت سے ہجرت کرکے آئیں، وہ کافی عرصے تک غرارے کو اس جاہ و جلال کے ساتھ پہنتی رہیں۔
اگر آپ کبھی پرانی تصاویر پر غور کریں تو محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان جیسی مدبر خواتین کا زیادہ تر پہناوا غرارہ ہی رہا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کا استعمال روزمرّہ ملبوسات کی فہرست سے آؤٹ ہوگیا، البتہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میںعروسی لباس کے طور پرپہنا جانے لگا۔لیکن گزشتہ چندبرسوں سےغرارےکا فیشن ایک بار پھربے حد ان ہوتا جارہاہے۔ ماضی میں ایک ہی اسٹائل کے سوتی اور چمکیلے غرارے عام تھے۔ اوپر سے شلوار کی طرح، لیکن نیچے جھالر لگی ہوتی۔غرارے کے نچلے حصے کو، یعنی گُھٹنےسے تقریباً12گز چوڑا کپڑا چنٹیں ڈال کر سلائی کرتے اور اُس کے اوپر گوٹا، لیس یا کوئی بیل لگا دیتے۔ قمیص قدرے چھوٹی ہی ہوتی۔ مگراب نت نئے انداز کے غرارے خاص طور پر ’’غرارہ پینٹ‘‘ کے ساتھ لمبی اور اونچی قمیصوں، فراکس اور پیپلمز کا استعمال کیا جارہا ہے،جو مختلف فیبرکس مثلاً جارجٹ، سلک، لیڈی کریپ، جامہ وار،شِمروز،میسوری،کاٹن اور لان وغیرہ میں ریڈی میڈ بھی دستیاب ہیں۔ اب غرارہ صرف عروسی لباس تک محدود نہیں رہا، بلکہ عید، تیوہار، دیگر تقریبات اور کسی سکھی سہیلی، رشتے دار کے گھر میل ملاقات کی غرض جانےکے لیے بھی زیب تن کیا جارہا ہے۔ اور اب یہ ایک لباس ہے ۔اگر آپ نے بھی اب تک غرارہ استعمال نہیں کیا، تو دیر کس بات کی، کسی بھی عمدہ غرارے کا انتخاب کرکے اپنی وارڈ روب میں ایک شان دار، روایتی پہناوے کا فوری اضافہ کرلیں۔
جن خواتین کا جسم بھاری ہو ان کو اس کا استعمال کرنے سے گریز ہی کرنا چاہیے کیونکہ ان کی شخصیت پر یہ اس طرح کا جاذب نظر نہیں آتا جیسے اس کی شان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ خواتین جو بہت زیادہ کمزور ہوتی ہیں ان کیلئے بھی یہ پہناوا بہت خوبصورت نہیں ہوتا ۔ البتہ اگر آپ کا ڈیزائنر یا درزی آپ کی جسمانی ساخت کے حساب سے کوئی بہتر ڈیزائن بنا دے تو یہ اس کی مہارت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عورتوں کے نزدیک مردوں کی قسمیں

اپنا تبصرہ بھیجیں