data_management

کیا آپ انفارمیشن اینڈ ڈیٹا مینجمنٹ کے بارے میں جانتے ہیں؟

EjazNews

ڈیٹا اور انفارمیشن کسی بھی کمپیوٹر سسٹم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی یعنی آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن درحقیقت ڈیٹا اور انفارمیشن پر ہی مبنی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس بات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ڈیٹا اور انفارمیشن کو لازمی طور پر منظم اور مربوط رکھا جائے۔
یہ امر مسلمہ ہے کہ ہر کمپنی یا ادارہ کمپیوٹر سسٹم پر انحصار کرتاہے ۔ جس طریقے سے کمپیوٹر سسٹمز کام کرتے ہیں، ان کا انحصار ڈیٹا پروسسنگ پر ہوتاہے یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر ادارہ ڈیٹا پر انحصار کرنے پر مجبور ہے اور وہ اس کے بغیر کام کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ ڈیٹا اور انفارمیشن کی بہت قدرو قیمت ہوتی ہے ۔ یہ دوسری کمپنیوں کو فروخت بھی کیا جاسکتاہے اور اس میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ اس کی بنیاد پر کمپنیاں بڑے بڑے فیصلے کرتی ہیں۔ اس لیے کمپیوٹر کا تمام تر ڈیٹا قابلِ رسائی، قابلِ استعمال ، قابِل اختراع اور ہمہ وقت محفوظ ہونا چاہئے۔ یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صرف ڈیٹا کو ہی مؤثر طریقے سے منظم نہیں کرنا بلکہ پیچیدہ ڈیٹا بیسز کو بھی ڈیزائن کرنا ہے تاکہ ڈیٹا منظم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے ۔
ڈیٹا مینجمٹ انٹرنیشنل(DAMA)ڈیٹا مینجمنٹ کی تعریف یوں کرتی ہے،’’ کسی بھی آرکیٹیکچر، پالیسی، پریکٹس اور طریقۂ کار کی تیاری اور اس پر عمل درآمد، جو باقاعدہ کسی ادارے میں مکمل طور پر ڈیٹا کے لائف سائیکل کو منظم کرے‘‘۔ دراصل کام کایہ میلان کافی پیچیدہ ہوتاہے، بالکل ایسے ہی جیسے دھاگے آپس میں الجھ جاتےہیں اور ان کا سلجھاناہی سب سے اہم کام ہوتاہے۔ انفارمیشن اور ڈیٹا مینجمنٹ کام کا ایک وسیع حصہ ہے اور اس میں تکنیکی اور غیرتکنیکی دونوں کردار شامل ہوتے ہیں۔
اس سے قبل کہ ڈیٹا کو مؤثر طریقے سے منظم کیا جائے ، ڈیٹا بیس اور ڈیٹا ماڈلز کو ڈیزائن اور تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ڈیٹا مینجمنٹ کی تکنیکی سائیڈ لوگوں کو مختلف لیولز پر بہت سارے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اس فیلڈ میں جو ماہر ہوتے ہیں انہیں ڈیٹا بیس آرکیٹیکٹ ، ڈیٹا آرکیٹیکٹ اور انفارمیشن آرکیٹیکٹ کی ذمہ داریاں تفویض کی جاتی ہیں۔ یہ تین مختلف عہدے مختلف ذمہ داریوں پر مبنی ہوتے ہیں، تاہم انہیں ایک ہی عمومی ٹاسک شیئر کرنا پڑتا ہے، جیسے کہ ڈویلپرز اور انجینئرز کی ٹیکنیکل سرگرمیوں کی رہنمائی کرنا یا ہدایات دینا، اعلیٰ سطح کے ٹیکنیکل فیصلے کرنا ، کاروبار کی ضروریات کو سمجھنا اور انہیں مطمئن کرنے کیلئے تکنیکی سطح کے حل پیش کرنا وغیرہ وغیرہ۔
ڈیٹا بیس آرکیٹیکٹ اصل ڈیٹا بیس ایپلی کیشنز کے بارے میں وہ فیصلے کرتے ہیں،جو ڈیٹا کو سٹور کرنے اور ڈلیور کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ ڈیٹاآرکیٹیک، ڈیٹا بیس آرکیٹیک کے مخصوص پہلوئوں کو شامل کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ زیادہ وسیع ڈیٹا انوائرنمنٹ جیسے کہ ڈیٹا انٹیگریشن ا ور ڈیٹا ماڈلنگ پربھی فوکس کرتے ہیں۔
انفارمیشن آرکیٹیک، ڈیٹا آرکیٹیک سے بڑا لیول ہوتاہے اور یہ پورے انٹر پرائزپر فوکس کرتاہے۔ انفارمیشن آرکیٹیک کو ٹیکنیکل بات چیت کم کرنی پڑتی ہے اور اسے اس بات کی زیادہ فکر ہوتی ہےکہ وہ بزنس اس انفارمیشن کوکیسے استعمال کرے۔
ان تینوں آرکیٹیکٹس کے نیچے آپ ڈیٹا بیس ڈیویلپرز کو پائیں گے، جو ڈیٹا بیس تخلیق کرنے کیلئےاصل کوڈنگ کرتے ہیں اور ڈیٹا ماڈلرز، جو ڈیٹا ماڈلنگ ٹولزاورتکنیکس کو استعمال کرتے ہوئے اسٹریٹجک ماڈلز تیارکرتےہیں۔ یہ ماڈلز بتاتے ہیں کہ ڈیٹا کیسے پروسیس کیا جاتاہے۔
اس فیلڈ میں آپ بطور ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹر بھی ٹیکنیکل رول ادا کرسکتےہیں۔ یہ لوگ ان مسائل کو دیکھتے ہیں جوٹیکنیکل ڈیٹا بیس کے کام کے دوران سامنے آتےہیں۔ یہ لوگ چیزوں کے ڈیزائن اور ڈویلپمنٹ میں بھی شامل ہوسکتے ہیں لیکن زیادہ تر ان کو ڈیٹا بیس کو منظم اور برقرار رکھنا ہوتا ہے،اس کیلئے یہ ڈیٹا میں ترمیم اور تبدیلی بھی کرتے ہیں اور ان کی کارکردگی اور فعالیت کو بہتر کرتے ہیں۔
ا س بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کسی بھی ادارے کیلئے ڈیٹا کتنا قابل قدر ہوتاہے، ڈیٹا سکیورٹی مینجمنٹ کی اہمیت کو بہت بڑھا دیتاہے۔ ڈیٹا مینجمنٹ اور انفارمیشن کو ایک طرف رکھ کر بھی آپ ایسا کیریئر بنا سکتے ہیں جو ڈیٹا کے تجزیہ ،تشریح اور مؤثر استعمال پر منتج ہوتاہے۔
آپ اپنا کیریئر ڈیٹا انالسٹ کے طور پر بھی شرو ع کر سکتے ہیں، جوتکنیکی معلومات کو استعمال میں لاتے ہوئے اسے کارآمد معلومات میں ڈھالنے سے قبل اس کامعائنہ اور تشریح کرتا اور کاروبار کیلئے کیے جانے والے فیصلوں پر اثر انداز ہوتاہے۔

یہ بھی پڑھیں:  متبادل تصوف(۳)

ڈیٹا مینجمنٹ کی کوالٹی رکھنے والے اشخاص بہت کم ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے اس میں جاب کیرئیر بھی بہت اچھا ہے۔ صرف آپ کو یہ معلوم ہوناچاہئے کہ آپ نے کون سا ڈیٹا کس کو بیچنا ہے کیونکہ فی زمانہ ڈیٹا کی بہت قدر و قیمت ہے اور دنیا بھر میں ڈیٹا کی اہمیت اجاگر ہو چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں