daniel_pearl

ڈینئل پرل قتل کیس: 18سال بعد 3ملزمان بری، شیخ عمر کی سزائے موت 7سال قید میں تبدیل

EjazNews

وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی میں اس وقت اغوا کر کے قتل کردیا گیا تھا جب وہ مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے ایک مضمون پر کام کررہے تھے۔
سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیل پرل قتل کیس میں احمد عمرشیخ کے علاوہ تینوں ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ سزا کیخلاف اپیلوں پر 18سال بعد یہ فیصلہ سنایا گیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ میں عدالت عالیہ کے جسٹس محمد کریم خان آغا کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور گزشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ نے احمد عمر شیخ کی سزائے موت کو بھی 7سال قید میں تبدیل کر دیا، عدالت کا کہنا تھا کہ احمد عمرشیخ پر اغوا کا الزام ثابت ہوا ہے۔ تاہم ڈینیل پرل کے قتل کا الزام کسی ملزم پر ثابت نہیں ہوا جس پر دیگر تینوں ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔
تاہم سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد احمد عمر شیخ کو بھی رہا کردیا جائے گا کیوں کہ وہ پہلے ہی 18 سال قید کی سزا کاٹ چکے ہیں اور ان کی 7 سال قید کی سزا کو اسی مدت میں شمار کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں سندھ ہائی کورٹ نے ریاست کی جانب سے شریک ملزمان کی عمر قید میں اضافے کی اپیل بھی مسترد کردی۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  انشاء اللہ 2020ء وہ سال ہو گا جس میں پاکستان ترقی کرے گا:وزیراعظم عمران خان

اپنا تبصرہ بھیجیں