scurity

سڑکوں پرکھڑے سکیورٹی اہلکار

EjazNews

ملک بھر میں کرونا وائرس سے 9افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ملک بھر میں اب تک متاثرین کی تعداد 1286ہوچکی ہے۔یہ تعداد ہر روز بڑھ رہی ہے اور ایسے دل دہلا دینے والے واقعات منظرعام پر آرہے ہیں کہ رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کی روک تھام کیلئے حکومتی اقدامات بھی ہو رہے ہیں۔لیکن حکومتی اقدامات کی طرف اگر دیکھاجائے تو شاید کچھ خامیاں نظر ضرور آتی ہیں جن میں سڑکوں پر کھڑے سکیورٹی اہلکار بھی ہیں۔
ان سڑکوں پر کھڑے سکیورٹی اہلکاروں کو اگر جسمانی بخار چیک کرنے والے آلا ت دے دئیے جائیں تو کرونا وائرس کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔ جو لوگ سڑکوں پر پھر رہے ہیں ان میں سے اگر کوئی وائرس زدہ ہے ۔ تو کسے معلوم یہ شخص اپنے ساتھ وائر س لیے کہاں جارہاہے کن لوگوں میںبیٹھ رہا ہے ۔ اور شاید اس شخص کو خود بھی معلوم نہ ہو کہ وہ وائرس زدہ ہے۔
اگر آپ چین کی ویڈیو جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ وہ ہر فرد جو گھر سے باہر نکل رہا تھا اس کے جسم کا ٹمپریچر چیک کر رہے تھے۔مانا ہمارے ہاں یہ مشکل ہے لیکن جتنا ہوسکتا ہے اتنا بھی نہیں کیا جارہا ہے۔
سکیورٹی اہلکار سڑکوں پر کھڑے ڈبل سواری چیک کر رہے ہیں اس کے علاوہ ان کے کھڑے ہونے کا کوئی مقصد نہیں ہے بظاہراً۔ اگرانہی اہلکاروں کو جسم کا ٹمپریچر چیک کرنے والا آلہ دے دیا جائے تو یہ بہت سی جانوں کو بچا سکتے ہیں ۔ اگر کسی شخص کے جسم کی ہدت دئیے گئے پیرا میٹر سے زیادہ ہے تو یہ انہیں ہسپتال لے جاسکتے ہیں کہ چیک کیا جائے کہ اس شخص کو کیا مسئلہ ہے۔ اگر کوئی روٹین کا بخار یا بلڈ پریشر کی وجہ سے ایسے ہے تو انہیں گھر بھیجا جائے کہ آپ آج دفتر نہ جائیں اور وہاں اطلاع کردیں اگر یہ شخص وائرس زدہ ہے تو اس شخص کو قرنطینہ یا پھر آئسو لوشن یا پھر ڈاکٹری نقطہ نظر سے جو بہتر ہو وہ کیا جائے تاکہ یہ شخص کسی قسم کی بیماری کو مزید بھی نہ پھیلائے اور خود کو بھی صحت یاب رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خیبر پختونخوا میں افسوسناک حادثہ

اپنا تبصرہ بھیجیں