food_health

غذا سے علاج

EjazNews

ماہرین غذیہ کے مطابق”متوازن غذا“ سے مراد ایسی خوراک ہے، جس میں لحمیات، نشاستہ، چکنائی، حیاتین، نمکیات اور پانی جیسے اہم اجزاءشامل ہوں کہ یہ تمام اجزاءجسمانی و دماغی کارکردگی بڑھانے اور صحت مند رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور اگر غذا غیر متوازن ہو، تو پھر کئی طرح کے عوارض لاحق ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً یورپ وغیرہ میں متوازن غذا کے استعمال پر بہت پہلے سے زور دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی بات کریں، تو اب اس کا شماربھی ان ممالک کی فہرست میں کیا جاسکتا ہے، جہاںرفتہ رفتہ غذا، بالخصوص متوازن غذا کی اہمیت و افادیت تسلیم کی جانے لگی ہے۔ حالاں کہ نبی کریم ﷺنے تو کئی صدیاں قبل ”علاج بالغذا“ یعنی پھلوں، سبزیوں اور اناج کے ذریعے ہر مرض کا علاج بتا دیا تھا اور اگر ترقی یافتہ ممالک میں کسی پیچیدہ مرض کا علاج بذریعہ غذا کیا جارہا ہے، تو یہ دراصل طبّی نبوی ﷺہی سے استفادہ ہے۔
آرتھرائٹس جوڑوں کو نقصان پہنچانے والا ایک عارضہ ہے، جسے عرف عام میں گٹھیا کہا جاتا ہے۔ اس مرض کی کئی اقسام ہیں اور سب سے عام قسم گاﺅٹ (Gout) ہے،جو دنیا کے قدیم ترین امراض میں سے ایک ہے۔گاوٹ لاحق ہونے کی وجہ خون میں یورک ایسڈ کی مقدار کا بڑھ جانا ہے، جسے طبّی اصطلاح میں”hyperuricemia”کہتے ہیں۔اصل میں وہ غذائی اشیاءجن میں پیورین (purine)کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہو، خون میں یورک ایسڈ کے اضافے کا سبب بن جاتی ہیں۔ قدرتی طور پر یورک ایسڈ پیشاب کے ذریعے خارج ہوتا رہتا ہے، لیکن اگر اس کے اخراج میں کوئی گڑبڑ واقع ہوجائے، تو یہ جسم کے کسی بھی جوڑ میں چھوٹے چھوٹے ذرات کی صورت جمع ہونے لگتا ہے۔ نتیجتاً متاثرہ جوڑ متورم ہوجاتا ہے اور ہلکا سا چھونے پر بھی شدید درد محسوس ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق موٹاپے، ذیابطیس، گردے کی پتھری اور سرطان سے متاثرہ مریضوں میں یورک ایسڈ کی مقدار عام افراد کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے، جبکہ خون پتلا کرنے والی ادویہ کا استعمال بھی یورک ایسڈ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس عارضے میں اگر غذا کا خاص خیال رکھا جائے، تو نہ صرف پیچیدگیوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے، بلکہ مرض بھی کنٹرول میں رہتا ہے۔ جیسا کہ سرخ گوشت (بکرے، گائے وغیرہ) کلیجی، سمندری غذا، خمیر وغیرہ سے مکمل طور پر پرہیز کیا جائے کہ ان میں پیورین زائد مقدار میں پایا جاتا ہے۔ تاہم، مرغی، دالوں، پھلیوں، مٹر، سبز پتوں والی سبزیوں سمیت ڈبل روٹی، گندم، پھل ،سلاد، پنیر، کافی، انڈے، چاول، کریم، خشک میوہ جات، چائے، دودھ اور زیتون کے تیل وغیرہ میں پیورین کی مقدار کم ہوتی ہے، لہٰذا ان کا استعمال بےحد مفید ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق چیریز(Cherries)کے استعمال سے بھی گاﺅٹ میں مبتلا ہونے کے35فیصد امکانات کم ہوجاتے ہیں، اس کے برعکس وہ پھل جن میں فرکٹوز(بعض پھلوں میں پائی جانے والی شکر)پائی جاتی ہے، ان کے استعمال سے64فیصد امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
قصہ مختصر، تحقیق تو رہتی دنیا تک ہوتی رہے گی کہ کون سی غذا کا استعمال کس مرض کے لیے نقصان دہ اور کس کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن یہ طے ہے کہ ”متوازن غذا“کا استعمال بہر صورت فائدہ مند ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دار چینی کے فوائد

تحریم نیازی

اپنا تبصرہ بھیجیں