prince

شہزادے سے جدا ہو گئے

EjazNews

اب پڑھئے کہ اتفاق سے دونوں شہزادوں پر ایک جھوٹی تہمت آن پڑی۔ وزیروں نے قمر الزمان کے کان بھرے کہ شہزادے آپ کے تخت و تاج پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور آپ کو اپنے راستے سے ہٹانے کی تدبیریں کررہے ہیں۔
قمر الزمان آگ بگولا ہوگیا۔ غصے میں اٹھاکہ جان کے دونوں کومار ڈالوں گا۔ اس طرح دل کی آگ بجھاﺅں گا۔ مگر اتفاق سے شاہ ارمانوس ملا۔ اس نے داماد کو دیکھا کہ ننگی تلوار لیے آنکھوں سے خون برس رہا ہے۔ ارمانوس نے پوچھا اس وقت چہرے پر غیظ و غضب ہے۔ اس کا کیا سبب ہے؟۔
قمر الزمان نے حال بیان کر کے کہا کہ انہیں کے قتل کو جاتا ہوں۔
ارمانوس نے پیٹھ ٹھونک کر کہا ، شاباش برخوردار ! ایسے لڑکوں کی یہی سزا ہے جو سزا دی جائے ۔ روا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ خود نہ خون کرو کسی اور کے ہاتھ جنگل میں ہلاک کرادو۔
قمر الزمان کو ارمانوس کا مشورہ پسند آیا۔ تلوار میان میں کی اور تخت پر بیٹھ کر خازن دار کو طلب فرمایا اور حکم دیا امجد اور اسعد کی مشکیں کسو صندوقوں میں بند کرو، جنگل میں لے جاﺅ اور وہاں ان دونوں کو قتل کر دو۔
خازن دار زمین کو بوسہ دے کر اٹھا۔ دونوں شہزادوں کی مشکلیں کسیں، صندوقوں میں بند کیے، خچر پر لادے اور جنگل میں لے گیا۔ پہلے ان دونوں کو دیکھ کر بہت رویا کہ ایسے معصوم و حسین شہزادے قتل کیے جاتے ہیں۔ پھر تلوار میان سے نکال کر کھڑا ہوا اور کہا خداوند! غلام بے قصور ہے۔ خانہ زاد مجبور ہے۔ ورنہ میں یہ کام ہر گز نہ کرتا۔ دونوں بھائیوں نے کہا تم ہمارے ابا حضور کا حکم بجا لاﺅ۔ دیر نہ لگاﺅ۔
دونوں بھائی بغل گیر ہوئے اور الوداع کہہ کر اسعد نے خازن دار سے کہا چچا جان! آپ کو خدا کو واسطہ! پہلے مجھے مارو۔ میری یہ آرزو ضرور پوری کرو۔
ادھر امجد نے کہا نہیں نہیں۔ پہلے مجھے مارو۔ اس کے بعد دونوں بھائی لپٹ لپٹ کر روئے۔ خازن دار کا دل اوربھی بھر آیا۔ جس ہاتھ میں تلوار لیے تھا وہ تھر تھرایا۔ اسعد پھر اپنے بھائی سے بغل گیر ہوا اور غم گین آواز میں بولا ہائے ہماری نیک بختی کا یہ انجام ! خدا عالم الغیب ہے کہ کون بے گناہ اور بے عیب ہے ، وہ ہماری مغفرت کرے گا اور بہشت میں جگہ دے گا کہ وہی عادل اور منصف ہے۔ کریم وکار ساز اور بندہ نواز ہے۔
امجد یہ سن کر رونے لگا اور بھائی کو سینے سے لگا کر کہا اے قادر ذوالجلا ل! تیرا بندہ احسان ہوں۔ گنہگار انسان ہوں۔ تو نے ہر مصیبت میں مدد کی ہے۔ہمیشہ ساتھ دیا ہے۔
امجد نے خازن دار سے کہا میں تمہیں اس خدا کا واسطہ دیتا ہوں جو قادر بر حق ہے زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے۔ پہلے میرے قاتل کے لیے شمشیر اٹھاﺅ اور بھائی کے قتل کا صدمہ مجھے نہ دکھاﺅ۔
اسعد نے جواب دیا پہلے مجھے قتل کر اور خدا کے غضب سے ڈر۔
اس پر امجد نے کہا بہتر یہ ہے کہ ہم دونوں گلے مل جائیں اوریہ ہم دونوں پر ایک ہی وار کریں۔
جب دونوں گلے مل کے کھڑے ہوئے تو خازن دار نے رسی باندھی اور زار زار رویا۔ تلوار ننگی کرکے کہا حضور کاقتل مجھ پر بڑا جبر ہے۔ دل کو اس وقت شکیب ہے نہ صبر ہے۔ اگر کوئی خواہش ہو تو فرمائیے ! غلام سے نہ چھپائیے ! کسی کو پیغام بھیجنا ہو تو بھی غلام حاضر ہے۔
اس پر امجد بولا ہماری تو یہ خواہش ہے کہ جب تم ہمیں قتل کر چکو تو ہمارے ابا حضور سے کہہ دنیا کہ مرتے وقت شہزادوں نے اپنی بے گناہی کی قسم کھائی تھی ۔ اور بس۔
خازن دار نے جو یہ کلمات سنے تو پھوٹ پھوٹ کر رویا اور کہا قسمت کا عجب کھیل ہے۔ عجب طلسم کا کارخانہ ہے کہیں جھوٹ اور کہیں سچ کا فسانہ ہے۔
پھر دونوں بھائی بغل گیر ہوئے اور ایک دوسرے کی جانب منہ کرکے کھڑے تھے۔ خازن دار تلوار چلانے ہی کو تھا کہ دونوں کے سر تن سے جدا کرے کہ اتفا ق سے اس کا عربی گھوڑا ایسا بھڑکا کہ جنگل میں گٹٹ بھاگا۔ چونکہ ایک ہزار اشرفی کاگھوڑا تھا اور اس پر زین بھی بیش بہا تھی۔ لہٰذا خازن دار کے حواس باختہ ہوئے۔ گھوڑے نے جو ہوا بتائی تو خازن دار کی عقل چکر میں آئی۔ تلوار پھینک کر گھوڑے کے پیچھے لپکا۔ گھوڑا بگٹٹ بھاگا جاتا تھا۔
نوبت یہاں تک پہنچی کے گھوڑا ایک جنگل میں ہو رہا اور خازن دار بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ گھوڑا زمین پر زور سے ٹاپیں مارتا، خرمستیاں کرتا تھا ۔چکارے کی طرح چوکڑیاں بھرتا تھا۔
اس جنگل میں خون خوار شیر رہتاتھا۔ خازن دار نے جو اس شیر کو دیکھا تو خون خشک ہوگیا کہ اب جان جائے گی۔ تھوڑی دیر میں اجل آئے گا۔
ادھر یہ دونوں معصوم شہزادے دھوپ کی شدت سے پریشان ہو رہے تھے۔پیاس کے مارے برا حال تھا۔ ہونٹوں پر زبان پھیرتے تھے اور سوکھی زبان سے دعا مانگتے تھے کہ یا خدا کہیں سے پانی آئے یا جان تن سے نکل جائے۔
اسعد نے کہا بھائی جان!ذرا دل کو ڈھارس دیجئے گھوڑے کا بھاگ جانا نیک فال ہے۔
یہ کہہ کر اس نے بڑی دقت سے مشکیں کھولیں اور جب خود آزاد ہو ا تو بھائی کی بھی مشکیں کھولیں اور خازن دار کی تلوار اٹھا کر بولا بھائی! آﺅ ! پہلے یہ دریافت کریں کہ اس کا کیا حشر ہوا۔ یہ بھی کچھ عجیب ماجرا ہوا۔
دونوں بھائی جنگل میں داخل ہوئے۔ امجد نے کہا بھائی! میں تم کو اکیلا نہ جانے دوں گا۔ ساتھ ہی چلوں گا کہ جو کچھ مصیبت خدا نخواستہ گزرے ، دونوں پر گزرے۔
چلتے چلتے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شیر خازن دار کو دبائے ہوئے ہے اور وہ بے چارہ خدا کی طرف ہاتھ اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ معلوم ہوتاتھا کہ چوہا شہباز کا شکار ہے ، چوہا بلی کے پنجوں میں گرفتار ہے۔
امجد نے جو یہ ماجرا دیکھا اور خازن دار کو شیر کی زور میں پایا تو تلوار اٹھائی اور آگے بڑھ کر ایسی ضرب لگائی کہ شیر کاکام تمام ہوگیا۔
خازن دار اٹھا تو ان دونوں کو دیکھ کر قدموں میں گر پڑا اور تعریف کی کہ واقعی اس طرح آج تک اتنے بڑے شیر سے کوئی نہیںلڑا۔ اب اس احسان کے بدلے آپ کے قتل کا خیال دل میں نہ لاﺅں گا۔ آپ نے میری جان بچائی، موت کے پنجے سے رہائی دلائی۔ یہ آپ کی عنایت ہے۔
جب یہ تینوں جنگل کے باہر آئے تو شہزادوں نے کہا اب آپ ہمارے ابا حضور کا حکم بجا لائیے۔
خازن دار نے جواب دیا مجھ سے اب یہ کام نہ ہوگا۔ میں احسان فراموش نہیں ہوں۔
امجد نے کہا تو پھر آپ ہمارے والد بزرگوار کو کیسے یقین دلائیں گے کہ آپ نے ان کے حکم کی تعمیل کی؟۔
خازن دار نے کہا تم مجھے اپنا لباس اتار دو۔ میں جا کے بادشاہ سے کہوں گا کہ حکم سرکار بجالا یا۔تم اس ملک سے کہیں باہر چلے جانا۔ یہاں پھر نہ آنا۔
دونوں بھائیوں کو یہ بات پسند آئی۔ اپنا اپنا لباس اتارا اور خازن دار کے سپرد کیا۔
خازن دار نے کپڑے لیے روتا دھوتا شہزادوں سے رخصت ہوا اور زمین کو بوسہ دے کر بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا۔
بادشاہ نے کہا قتل کے وقت شہزادوں نے کچھ کہا سناتھا؟۔
اس نے جواب دیا فقط یہی کہا تھا کہ ابا جان نے دھوکا کھایا۔ ہمیں ناحق مروایا۔ سلام عرض کر دینا اور کہہ دینا کہ ہماری بے گناہی کا راز آج نہیں تو کل ضرور کھل جائے گا۔
قمر الزمان نے یہ سنا تو گردن جھکائی۔ سوچا کہ اس کے تو یہ معنی ہیں کہ میں نے لڑکوں کو بے گناہ قتل کروایا ہے۔ خون ناحق گردن پر لیا ہے۔ لڑکوں کے کپڑے الٹ پلٹ کر روتا تھا کہ اچانک اسعد کی جیب سے ایک خط برآمد ہوا۔ کھولا تو یہ اس وزیر کی طرف سے تھا جس نے اسعد پر الزام لگایا تھا۔ قمر الزمان نے سر پیٹ لیا کہ ہائے یہ کیا غضب ہوا۔ فوراً اٹھا اور ان دونوںوزیروں کو جنہوں نے شہزادوں پر یہ الزام لگایا تھا قتل کر دیا۔
ان کو تو یہ سرگزشت تھی۔ اب سنیے کہ دونوں بھائی جنگل میں منزل بہ منزل جتائے تھے۔گھاس اور دوب کھاتے تھے۔ پینے کو برسات کا پانی ہر طرح کی پریشانی۔ شب کو باری باری، دوپہر کو سوتے تھے۔ اپنی بدنصیبی پر دن رات روتے تھے۔ چلتے چلتے سیاہ رنگ کا ایک پہاڑ نظر آیا اور اس میں ایک دوراہا پایا۔ ایک راہ اس کے اندر سے گئی تھی۔ دوسری چوٹی کو۔ پانچ روز تک برابر پہاڑ پر چڑھاکیے مگر انتہا نہ پائی۔ نیچے اترنے کی صورت نظر نہ آئی۔
چلنے کے عادی تو تھے ہی نہیں تھک گئے۔ پلٹے تو رات ہو گئی۔ اسعد زیادہ تھکا ہوا تھا وہ امجد کے سہارے سے ایک گھنٹا بھر چلا اور پھر قدم نہ اٹھا۔ گر پڑا اور رونے لگا۔ بڑا بھائی تسلی دیتا ہوا کبھی لے جاتا تھا، کبھی چلتا تھا اور کبھی سستا تا تھا۔
اب ایک چشمہ نظر آیا۔ ایک جھیل سے ندی جاری تھی۔ قریب ایک انار کا پیڑ تھا۔ ایک گوشے میںجائے نماز تھی۔ مگر کسی آدم زاد کی صورت نظر نہ آئی۔ چشمے کا ٹھنڈا میٹھا پانی پیا، انار توڑ کر کھائے اور آرام کیا۔ صبح کو اٹھے تو اسی چشمے میں نہائے پھر انار چکھے اور سہ پہر تک سویا کیے۔ اسعد کے پاﺅں اس قدر سوج گئے تھے کہ تین روز تک وہیں قیام کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  میمونہ پری اور جادوگر
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں