Islam_pakdamni

عفت و پاکدامنی کی فضیلت

EjazNews

عفت کے معنی پاک دامن کے ہیں یعنی حرام کاری و زنا و بدکاری اور ہر قسم کی برائیوں سے بچنا۔ اس کےلئے دوسرا لفظ احصان بھی جو اس معنی کے لیے بولا جاتا ہے۔یہ عفت و احصان اور پاکبازی ان اخلاقی خوبیوں کی جان ہے جن کا تعلق عزت وآبرو سے ہے اس لئے اس عفت و پاکبازی کو اسلامی محاسن میں شمار کیا گیا ہے اور ایسے لوگوں کی بڑی مدح و تعریف کی گئی ہے۔
قرآن مجیداللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
ترجمہ: ”تحقیق وہی مومن فلاح کو پہنچ گئے جو اپنی نماز میں عاجزی کرتے ہیں لغو باتوں سے اعراض کرتے اور زکوٰة دیتے ہیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں اور باندیوں سے کیونکہ ان میں ان پر کچھ الزام نہیں ہے لیکن اس کے علاوہ اور کا طلب گار ہوں وہ یقینا شرعی حد سے باہر نکل گئے ہیں ۔
اور وہ لوگ بھی اپنی مراد کو پہنچ گئے ہیں جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں اور اپنی نمازوں کی ہمیشہ حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہی لوگ وارث ہیں جو جنت الفردوس کو میراث پائیں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ “(المومن)
سورہ معارج میں مسلمانوں کے جن اخلاقی اوصاف کی تعریف کی گئی ہے ان میں ایک عفت اور پاکبازی بھی ہے۔ فرمایا:
ترجمہ: اور جو اپنی شہوت کی جگہ کی حفاظت کرتے ہیں ۔(معارج)
جن مسلمانوں کیلئے خدا نے اپنی بخشش اور بڑی مزدوری کا وعدہ کیا ہے ان میں وہ بھی ہیں جو عفیف اور پاک دامن ہیں۔
ترجمہ: اور اپنی شرمگاہوں کی پاسبانی کرنے والے مرد اور پاسبانی کرنے والی عورتیں اس عفت و پاکدامنی میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں۔ (احزاب)
جس طرح مرد کے لیے پاکدامن ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح عورتوں کےلئے بھی بلکہ پاک دامنی میں عورتوں کو زیادہ مخصوص کیا گیا ہے۔ حضرت مریم علیہ السلا م کی عصمت و عفت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
ترجمہ: اورعمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا۔(التحریم)
ترجمہ: اور وہ بی بی جس نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں روح پھونکی ۔ (الانبیاء)
حضرت یوسف علیہ السلام نے جس پاکبازی کاثبوت دیا۔ اس کی گواہی خود عزیز مصر کی بیوی نے دے دی۔
ترجمہ: اور میں نے اس کوبہکانا چاہا تو وہ بچا رہا۔ (یوسف)
خدا نے فرمایا میں نے ایسا اس لیے کیا:
ترجمہ: تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو دور کریں ۔ وہ بے شبہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں تھا۔(یوسف)
اسی عصمت و عفت و پاکبازی کے باقی رکھنے کے لیے حجاب و پردے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کسب حرام و بدکاری و بے حیائی نہ ہو اور شرم و حیا و خودداری محفوظ رہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل آیتوں میں انہی باتوں کی طرف اشارہ فرمایا:
ترجمہ: (اے نبی) مومن مردوں سے فرما دیجئے کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کےلئے زیادہ پاکیزگی ہے۔ یقینا اللہ ان کے عملوں سے خوب واقف ہے اور (اے نبی)مومن عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں پست رکھا کریں اور اپنی زینت (سنگھار) کو ظاہر نہ کریں۔ سوائے اس زینت کے حصے کے جو خود بخود عموماً کھلا رہتا ہے۔ اور انہیں چاہیے کہ اپنے گریبانوں (سینوں پر اپنی اوڑھنیا ں ڈالے رکھیں اور اپنی زینت چہرے کو کھلا نہ رکھیں مگر ان لوگوں کے سامنے کھلا رکھیں۔ یعنی شوہروں، باپ خسر، بیٹے، سوتیلے، بیٹے یا بھائی بھتیجے ، اپنی عورتیں اور اپنی لونڈی، غلام، خدمت گار مرد عورتوں کے مطلب کے نہیں رہے یا نابالغ لڑکے جو ابھی عورتوں کی پردے کی باتوں سے واقف نہیں ہوئے ہیںاور ان عورتوں کےلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ چلتے وقت اپنے پاﺅں کو اس طرح نہ مارتی چلیں۔ (النور)
جس سے پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے اور ایمان والو! اللہ کے جناب میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاﺅ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے غض بصر، حفاظت فروج تزکیہ نفوس کا حکم تمام مردوں اورعورتوں کو تزکیہ نفس بتایا اور جس طرح مردوں کو نیچی نظر رکھنے کاحکم دیا۔ اسی طرح عورتوں کوبھی غض بصر کا حکم دیا۔ دونوں مساوی برابر ہیں ۔ کیونکہ دونوں کی غض و بصر کی علت غائی حفاظت و تزکیہ ہے۔ عفت و پاکدامنی کے خلاف کا نام فاحشہ ہے جس سے بچنے کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا:
ترجمہ: اور زنا کے قریب نہ جاﺅ۔ بے شک یہ بڑی برائی اوربرا چلن ہے۔ (الاسرآء)
اس آیت کریمہ میں قرب فاحشہ سے روکا گیا ہے۔ اسی طرح سے اسباب زنا سے بھی روکا گیا ہے۔ جیسا کہ غض بصر والی آیت میں فرمایا:
اسلام میں زنیوں کی سزا بعض حالتوں میں سوکوڑے مارنا اور بعض حالتوں میں سنگسار کرنا ہے۔ لیکن ان کو آخر میں جو عذات دیا جائے گا وہ اس سے بہت زیادہ سخت اور بہت زیادہ عبرت انگیز ہے۔ ایک روحانی خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سے لوگوں کے اخروی عذاب کی صورت دکھائی گئیں، ان میں بدکاروں کے عذاب کی صورت ان کے فعل قبیح کے مشابہ یہ تھی کہ تنور کے مانگ ایک سوراخ تھا۔ جس کے اوپر کا حصہ تنگ اور نیچے کا حصہ کشادہ تھا اور اس کے نیچے آگ بھڑک رہی تھی اور اس میں بہت سے برہنہ مرد اور برہنہ عورتیں تھیں جب اس آگ کے شعلے بلند ہوتے تھے تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ اس کے اندر سے نکل آئیں گے۔ لیکن آگ بجھ جاتی تھی تو یہ لوگ پھر اس کے اندر چلے جاتے تھے۔ (بخاری کتاب التعبیر باب تعبیر الردیا بعص صلوٰة الفتح)
یہ عالم برزخ کا عذاب تھا جو قیامت تک جاری رہے گا۔ اس کے بخلاف پاک دامن لوگوں کے فضائل بھی نہایت موثر انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جب خدا کے سایہ کے سوااور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سات آدمیوں کو اپنے سایہ میں لے گا جن میں ایک شخص وہ ہوگا جس کو ایک معزز اور حسین عورت نے اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں خدا سے ڈرتا ہوں۔ (بخاری کتاب الاذان باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلوٰة )
یہ تو وہ شریف ہے جو پاکبازوں کو آخرت میں حاصل ہوگا لیکن پاکبازی کی دنیوی برکتیں بھی کچھ کم نہیں ایک حدیث میں آپ نے زمانہ قدیم کے تین آدمیوں کا قصہ بیان کیا ہے جو ایک ساتھ سفر کررہے تھے کہ دفعة پانی برسنے لگا ۔ تینوں نے پانی سے بچنے کےلئے ایک پہاڑ کے غار میں پناہ لی۔ سوءاتفاق سے پہاڑ کے اوپر سے ایک پتھر لڑھک آیا جس سے غار کامنہ بند ہوگیا۔ اب نجات کی صورت اس کے سوا نہ تھی کہ اپنے اپنے اعمال صالحہ کے واسطے سے خدا سے دعا کریں۔ چنانچہ اس طرح ہر ایک نے دعا کی اور ان اعمال کی برکت سے پتھر رفتہ رفتہ ہٹ گیا۔ ان میں پاکباز آدمی کی یہ دعا تھی۔ خدا وند میری ایک چچا زاد بہن تھی جس سے میں بڑی محبت رکھتا تھا۔ میں نے اس سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن جب تک میں اس کو سو دینا نہ دے دوں وہ راضی نہ ہوئی۔ میں نے سو دینار کما کر جمع کیے اور اس کو دے کر اپنی خواہش نفسانی پوری کرنی چاہی۔ لیکن اس نے کہا خدا سے ڈرو۔ میں فوراً رک گیا ۔خداوند اگر تو جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری مرضی کے لیے ایسا کیا ہے تو اس پتھر کو ہٹا لے ۔ چنانچہ وہ سرک گیا۔ (بخاری کتاب الحرث والمزارعة باب ۳۱)

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ، توکل علی اللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں