Credit_Incom_asrafiya

موتی مل گیا

EjazNews

قمر الزمان اسی باغ میں رہتاتھا مگر اس کی بھی وہی حالت تھی ۔ ہر دم ٹھنڈی آہیں بھرتا اور خدا سے دعائیں مانگتاکہ ایک بار اپنا وطن نصیب ہو۔ باغبان اس کو تسلی دیتا تھا کہ سال کے آخر میں ایک جہاز مسلمانوں کے ملک کو جائے گا اور وہ اسے اس میں بٹھا دے گا۔
ایک روز قمر الزمان نے دیکھا کہ بہت سے لوگ جوق در جوق جمع ہو رہے ہیں۔ اتنے میں باغبان نے آکر خوشخبری سنائی کہ بیٹا! تیار ہو جاﺅ ! جہاز کی روانگی میںبہت تھوڑاوقت رہ گیا ہے۔ میں ذرا جاتا ہوں اورٹھیک ٹھیک خبر لاتا ہوں۔
باغبان تو یہ کہہ کر چل دیا اور قمر الزمان باغ میں چہل قدمی کرنے لگا۔ اپنی حالت زار پر آہ سرد بھرنے لگا۔ چلتے چلتے ٹھوکر کھائی اور منہ کے بل گرا۔ پیشانی ایک درخت کی جڑ سے ٹکرائی اور خون جاری ہوگیا۔ خون دھویا، آنسو پونچھے اور پیشانی پر کپڑا تر کر کے باندھا۔ پھر باغ کی سیر کرنے لگا ۔ اتفاق سے ایک درخت پر نظرپڑی تو دیکھا کہ دو پرندے آپس میں لڑ رہے ہیں۔ لڑتے لڑتے ایک پرندے نے دوسرے کا دھڑ جدا کیا اور سر لے کر اڑ گیا۔ پرندے کا دھڑ قمر الزمان کے سامنے آن گرا۔ فوراً ہی دو پرندے جھپٹ کر آئے اور دھڑ سے لپٹ کر بہت روئے۔ قمر الزمان کو اپنے باپ اور اپنی ملکہ کی یاد آئی تو دل بھر آیا۔ ان پرندوں کی محبت دیکھ کر اپنی گریہ وزاری کوبھلا دیا۔ کچھ دیرمیں ان پرندوں نے مرے ہوئے پرندوں کو دفنا دیا اور اڑ کر آسمان کا راستہ لیا۔ کچھ دیربعد یہ دونوں جا کر اس پرندے کو پکڑے لائے جس نے پہلے پرندے کو مارا تھا۔ وہ اسے لے کر مرے ہوئے پرندے کی قبر پر گئے۔ پنجوں اور چونچوں سے اس کے بدن کو چیرا اور اس قبر پر خون چھڑکا۔ سارے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے اور مختلف جگہوں پر بکھیر دئیے۔
یہ سب کارروائی قمر الزمان نے حیرت کی نظر سے دیکھا اور جب اس جگہ پر نظر ڈالی جہاں دوسرا پرندہ چیرا پھاڑا گیا تھا تو ایک شے چمکتی ہوئی دکھائی دی ،جا کراٹھائی اور ذرا صاف کی تو وہی موتی کھٹ سے نکلا۔ اس کی جان میں جان آئی کہ جس طرح کھوئی ہوئی چیز اتنے دن کے بعد پائی۔ اسی طرح انشاءاللہ بچھڑے ہوﺅں سے بھی ملاقات ہو جائے گی ۔ فال نیک ہے ضرور کوئی اچھی بات ہوگی۔ مارے خوشی کے باغ باغ ہوگیا ۔ موتی کوآنکھوں سے لگایا۔
جب باغبان دیر تک نہ آیا تو شب بھر آرام کیا۔ صبح اٹھ کر پھر اپنا کام کیا۔ اس نے کھجور کے چھلکے کی ایک رسی ، کھر پا اور ڈلیا لے کر ایک درخت کی جڑ کو کھودا تو اتفاق سے اس میں ایک دروازہ دیکھا ،کھولا اندر آیا تو حضرت ابراہیم ؑ سے بھی پہلے کا ایک کمرا نظر آیا جس میں اشرفیوں کی دیگیں بھری تھیں۔ دیکھتے ہی خوش ہوگیا۔ دروازے کو اسی طرح بند کر کے باہر آیا اور پودوں اور درختوں کو پانی دینے لگا۔شام تک اسی طرح مصروف رہا۔ جب شام کو باغبان آیا تواس نے یہ مژدہ سنایا ۔ ”لو بیٹا! خوش ہو جاﺅ! سوداگروں نے مسلمانوں کے شہر کو جانے کی تیاری کی ہے۔ تین روز بعد جہاز روانہ ہو جائے گا۔ تم کو بھی وہاں تک پہنچائے گا۔ تین مہینے خشکی کی راہ سے جاﺅ گے، جب کہیں جزیرہ خالدان پاﺅ گے۔
جواب میں قمر الزمان نے اشرفیوں کے صندوق پانے کا واقعہ بتایا۔ باغبان خوش ہو کر کہنے لگا ” بیٹا! میں تو مرنے کو بیٹھا ہوں، دولت لے کر کیا کروںگا۔یہ سب خزانہ تمہارا ہی حق ہے۔ میں جہاز میں تمہاری جگہ محفوظ کروادوں گا اورتمہیں تمہارے وطن بھجوا دوں گا۔
قمر الزمان نے اس سے انکارکیا۔بڑا اصرار کیا اور لے جاکر وہ جگہ دکھائی۔ دس صندوق خود لیے اور دس صندوق باغبان کو دئیے۔ باغبان نے مشورہ دیا کہ بیٹا! جو میوہ اس ملک کے سوا اور کہیںنہیں ہوتا وہ ضرور لیتے جانا۔ قمر الزمان نے انہیں صندوقوں میں میوہ بھی رکھا اور ایک میں ملکہ بدور کا لعل محفوظ کر دیا۔ پھر سوچنے لگا کہ اب جدائی کے دن گنتی کے ہیں۔ سب سے عنقریب ملاقات ہوگی۔ شہر آبنوس پہنچتے ہی اپنے وطن جاﺅں گا اور والدین سے بھی ملاقات کروں گا۔ اس دن کا انتظار کرنے لگا۔ جب جہاز پر سوار ہوگا اور خدا کے فضل و کرم سے سمندر پار ہوگا۔
شب کو قمر الزمان اور باغبان ٹھیک ٹھاک سوئے مگر صبح ہوئی تو باغبان سخت بیمار ہوا۔ دو دن تک شدید علیل رہا۔ یہاں تک کہ زندگی سے مایوسی ہوئی ۔ قمر الزمان اس رنج میں بیٹھا ہواتھا کہ باغبان کا حال دریافت کرے کہ ادھر جہاز کے نا خدا نے حکم سنایا کہ جلد سامان لاﺅ، ہوا موافق ہے، دیر نہ لگاﺅ۔
اس نے صندوقوں کو جہاز پر لدوایا اور باغبان سے رخصت ہونے کو آیا تو دیکھا کہ اس کا آخری وقت ہے۔ ادھر جہاز کوئی دم میں روانہ ہو نے کو تھا۔ اتنے میں باغبان کی روح پرواز کر گئی۔ قمر الزمان پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ پھر باغبان کو کفنانے اور دفنانے کے بعد جہاز کی طرف آیا تو جہاز والوںنے لنگر اٹھایا ۔ یہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔
حیران و پریشان، محروم و مایوس واپس آیا۔ باغ کو اس کے مالک سے ٹھیکے پر لیا اور ایک آدمی کو مددگار بنایا۔ اس دروازے کو چپکے سے کھولا اور پچاس بڑے بڑے صندوقوں میں اشرفیوں کوبھرا۔ اوپر سے میوہ چن دیا۔ لوگوں سے سنا کہ جہاز سال میں صرف ایک بار جاتا ہے تو ناامیدی اور مایوسی نے سخت پریشان کیا۔
اب اس جہاز کا حال سنیے کہ قسمت نے اس کو منزل مقصود تک جلد پہنچایا اور حسن اتفاق سے ملکہ بدور کو یہ شوق چرایا کہ امیروں وزیروں کے ہمراہ ساحل سمندر پر گئی۔ اس نے جہاز کے کپتان سے پوچھا ”بتاﺅ کیا کیا لائے ہو؟“۔
کپتان نے عرض کیا بڑی نایاب چیزیں لایا ہوں ایسی کہ آپ کہیں نہ پائیں گے۔ بدور نے پچاس صندوقوں کی خریداری ظاہر کی تو نا خدا نے عرض کیا خداوند یہ مال جس شخص کا ہے وہ پیچھے رہ گیا ہے اور غریب آدمی ہے۔
بدور نے رات کو حیات النفوس کے سامنے ایک صندوق کو کھولا تو اشرفیاں نظر آئیں۔ حیران ہو کر دوسرے صندوق کھولے تو ایک میں سے اپنا گم شدہ موتی برآمد ہوا۔ خوشی سے غش آگیا اور جب غشی دور ہوئی تو حیات النفوس کو یہ خوشخبری بنائی کہ لو بہن! اب ملاقات کی گھڑی قریب آ گئی ہے۔
صبح کو بدور نے کپتان کو طلب فرمایا اور کہا کہ جس شخص نے یہ صندوق جہا ز پر رکھے تھے اگر اس کو حاضر نہ کرو گے تو تمہارا سارا زن بچہ کولھو میں پلوا دیا جائے گا۔ تمہارے علاوہ دوسرے تاجر بھی پھانسی کی سزا پائیں گے۔ وہ بہت بڑا مجرم ہے اور ہمارا قرض دار ہے۔
تاجروں نے کپتان کی خوشامد کی کہ بھائی! ہم سے بھرپور کرایہ لو اور اس ظالم بادشاہ سے ہماری جان بچاﺅ۔
کپتان نے ان کی بات مان لی اور جہاز کو جادوگروں کے شہر کی سمت ڈالا کہ قمرالزمان کو لے کر آئے تاکہ ایک تو تاجروں کی جان بچے، دوسرے منہ مانگا انعام پائے۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ کادوست
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں