women_Properoty

ملکیت اور عورتوں کے معاشی حقوق

EjazNews

بہت کم عورتیں ایسی ہیں جن کے نام غیر منقولہ جائیداد وغیرہ ہو۔ سوائے ان حالا ت کے جہاں شوہر بہت امیر ہو اور ٹیکس سے بچنے کیلئے کچھ جائیداد بیوی کے نام کر دے یا پڑھی لکھی عورت خود جائیداد حاصل کر لے یا جائیداد میں سے حصہ مل جائے۔زیادہ تر عورتوں کا جائیداد کے استعمال پر کوئی اختیار نہیں ہوتا تاہم یہ ممکن ہے کہ عورتیں بلا واسطہ یا بالواسطہ شوہر کی جائیداد کا انتظام سنبھال لیں۔عموماً زیورات کو عورت کی ملکیت سمجھا جاتا ہے جن عورتوں کے شوہر غیر ممالک میں ہوں وہ اپنا بینک اکائونٹ رکھتی ہیں۔ اسی طرح شہروں میں پڑھی لکھی عورتیں یا ملازمت پیشہ عورتیں بھی اپنا بینک اکائونٹ رکھتی ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو عورتوں کو عموماً حق وراثت سے محروم رکھنے کے لیے کئی حربے استعمال کیے جاتے ہیں اور عام طور پر انہیں جبراً وراثت کے حق سے خاندان کے مردوں کے حق میں دستبردار قرار دیا جاتا ہے۔قانون وراثت کے مطاق عورت کا ہر حیثیت (ماں، بہن، بیٹی، بیوہ )میںحصہ طے ہے اور یہ کسی بھی طرح چھینا نہیں جاسکتا۔ خاندان کی عورتوں کی شادیوں اور دیگر امور پر خرچ کی جانے والی رقم ان کے وراثت کے حصے کا متبادل نہیں اور یہ رقم ان کی وراثتی ملکیت سے منھا نہیں کی جاسکتی اور نہ اس بنیاد پر ان کو وراثتی حصہ سے محروم کیا جاسکتا ہے۔
روایتی طور پر عورتوں کے اس حق کو تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ پاکستان کے تمام حصوں میں روایتی طور پر عورتوں کے زمین اور مکان وغیرہ کے انتظام کو آزادی سے سنبھالنے کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا اور یہ روایت اسلام میں عورتوں کو دئیے گئے حقوق کے بالکل متضاد ہے۔ جب عورتوں سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اس حق کا مطالبہ کیوں نہیں کرتیں تو وہ ان مسائل کا ذکر کرتی ہیں جن کا سامنا انہیں کچہری جانے میں کرنا پڑتا ہے۔ ان میں آنے جانے کا مسئلہ ، وقت کی کمی اور معاشرے میں اس بات کو برا سمجھنا شامل ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ زیادہ تر عورتیں جائیداد کے حق کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتیں۔
بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں پر اگر عورت کے نام جائیداد ہو بھی تو وہ اس کا انتظام نہیں سنبھال سکتیں اور اس کو فروخت بھی نہیں کر سکتیں۔ کچھ علاقوں میں بیوہ اور طلاق یافتہ کو جائیداد کا حق سنبھالنے کے قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔
ان رجحانات میں تعلیم کی وجہ سے کچھ تبدیلیاں ضرور آرہی ہیں غیر منقولہ جائیداد میں عورتوں کو حصہ دینے کا رواج بھی کچھ بڑھ رہا ہے۔ اگر زمین تقسیم نہ بھی کی جائے تو مکان تعمیر کر دیا جاتا ہے یا گاڑی خرید کر دے دی جاتی ہے جس کی قیمت کبھی کبھار اصل حق سے بھی زیادہ ہوتی ہے ۔ اس رجحان کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نوجوان لڑکیوں میں جائیداد کے حق کا احساس بڑھ رہا ہے اور والدین بھی بیٹیوں کی زیادہ قدر کر رہے ہیں۔ دوسری طرف والدین کی خواہش ہے کہ شادی میں مسائل کی صورت میں بیٹیوں کو کوئی تحفظ دے سکیں یا کم از کم سسرا ل میں ان کو باعزت مقام دلا سکیں۔
منقولہ جائیداد کے انتظام پر عورتوں کا حق:
عام طورپر عورتوں کے قبضے میں زیورات منقولہ جائیداد کی صورت میں ہوتے ہیں۔ جن علاقوں میں جہیز کا رواج ہے وہاں عورت زیورات اپنے میکے سے لے کر آتی ہے۔ تاہم عورت اپنی مرضی سے اگر کسی ضرورت کو پور کرنے کے لئے زیورات فروخت کرنا چاہے تو اسے بغاوت کی علامت سمجھاجاتا ہے ۔اس طرح زیورات کے معاملے میں بھی عورت مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتی۔ پنجاب میں اگر سسرال والوں کو مالی مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑے تو شوہر دبائو ڈال کر بیوی کے زیورات یا ان کا کچھ حصہ فروخت کر دیتا ہے۔
لیکن عورتیں بھی ایسے طریقے ڈھونڈ لیتی ہیں کہ ان کی ضروریات کے لئے کچھ نہ کچھ رقم موجود ہے۔ پنجاب میں دیہاتی عورتیں اکثر فصل کا کچھ حصہ مختلف مٹکوں میں ڈال کر جگہ جگہ رکھ چھوڑتی ہیں۔ یہ ان کی بچت ہوتی ہے اور انہیں امید ہوتی ہے کہ کچھ عرصے بعد اس کی اچھی قیمت مل جائے گی۔ چوزوں،انڈوں یا گھی وغیرہ کے فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اکثر گھر کے مردوں سے چھپا کر رکھی جاتی ہے۔
عورتوں کے بینک اکائونٹس:
چونکہ خواتین کے گھر سے نکلنے پر عموماً پابندیا ں عائد ہوتی ہیں اور ان کے اپنے ذاتی پیسے بھی کم ہوتے ہیں، لہٰذا پاکستان میں ایسی عورتیں بہت کم ہیں جن کے اپنے بینک اکائونٹ ہیں۔ خصوصاً شہروں میں کچھ خواتین کے بینک اکائونٹس ہوتے ہیں لیکن ان کی تعداد بھی بہت زیادہ نہیں ہے۔
مالی اختیارات کی دوسری صورتیں:
بہت سے شہری اور دیہاتی علاقوں میں عورتیں ’’کمیٹی‘‘ کے ذریعے بچت کرتی ہیں ۔ گوکہ کمیٹی ڈالنے کے کئی طریقے ہیں لیکن عموماً عورتیں ہر ماہ طے شدہ رقم جمع کر لیتی ہیں۔ یہ رقم ایک خاص مدت تک جمع کی جاتی ہے اور اس بات کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا جاتا ہے کہ ہر مہینے کل رقم کس عورت کو دی جائے گی جو عورتیں رقم جمع کرتی ہیں اور مل جل کر کمیٹی کا نظام چلاتی ہیں انہیں اپنے حصے کی رقم پر مکمل اختیار ہوتا ہے۔ عموماً یہ رقم بھاری اخراجات کے لئے استعمال کی جاتی ہے ۔ اس طرح وہ اپنے شوہر کی مالی پریشانیوں کو بھی کم کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دو چار منٹ از دواجی تعلقات کا فیصلہ کر دیتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں