china_Queen

شہزادے قمر الزمان کی تلاش

EjazNews

شہزادی بدور کابھائی مرزدان بہن سے ملنے کے بعد شہزادے کی تلاش کو نکلا۔ چلتے چلتے شہر اور جزیرے طے کرتا ہوا ایک مہینے کے بعد ایک مقام المطیرب پر پہنچا۔ وہاں لوگوں سے ادھر ادھر کے حالات دریافت کیے کہ شاید مطلب کی کوئی بات سننے میں آئے۔ جہاں جاتا تھا یہی سننے میں آتا تھا کہ چین کی شہزادی سلطان الغیور کی بیٹی بدور مالی خولیا میں گرفتار ہے، اس کاب اپ زندگی سے بیزار ہے۔ یہاں جو آیا تو یہ نئی بات سنی کہ شہزادہ قمر الزماں کو بیماری نے پریشان کیا ہے۔ خلل دماغ نے یہ رنج دیا ہے۔ لوگوں سے اس شہزادے کے ملک کا پتا نشان پوچھا تو سنا کہ خشکی سے چھ مہینے کی راہ مگر جہاز ایک مہینے میں جاتا ہے۔
مرزدان نے ٹھان لی کہ سفر ضرور کروں گا اور قمر الزماں کے ملک میں پہنچوںگا۔ فوراً ایک جہاز پر سوار ہو کر روانہ ہوا۔ ہوا موافق تھی اس لیے جہاز خیریت سے بندرگاہ کے قریب پہنچا مگر لنگر انداز ہونے ہی کو تھا کہ آندھی کے تھپیڑوں نے ایسا بہایا کہ جہاز کوآناً فاناً سمندرکی تہہ میں پہنچایا۔
مرزدان بچ گیا اور ڈبوتا تیرتا اس مقام کے پاس جالگا جہاں قمر الزماں رہتا تھا۔ اس وقت سلطان شاہ زماں اپنے اکلوتے شہزادے قمر الزماں کے ہمراہ پانی کی سیر اور سمندر کی موجوں کا لطف اٹھا رہا تھا۔ اچانک وزیر کی نظر شہزادی بدور کے بھائی پر پڑی جوسمندر کے رحم و کرم پر ڈوبتا ابھرتا جارہا تھا۔ اس نے فوراً بادشاہ سے عرض کیا کہ اگر حضور والا اجازت دیں اور حکم فرمائیں تو اس ڈوبتے کو بچاﺅں کہ غوطے کھا رہاہ ے۔ موت کا فرشتہ صورت دکھا رہا ہے۔ شاید اسی سے خدا روز مسرت دکھائے اورہمارا شہزادہ صحت پائے۔
بادشاہ نہ کہا ہمارے شہزادے کی مصیبت اورعلالت کا باعث تو ہی ہے۔ اگر تیری مدد سے یہ بچ جائے تو ممکن ہے کہ اس کی دعائے خیر سے شہزادہ صحت پائے۔ مگر اتنا خیال رہے کہ اگر اس نے کسی غیر کو یہ راز بتایا تو بات بگڑ جائے گی اورتیری جان پر بن آئے گی۔
وزیر فوراً پانی میں اترا، ہاتھ بڑھا کر ڈوبتے ہوئے انسان کے سر کے بال پکڑے اور کھینچ کر کنارے لگایا۔ بے ہوشی کی حالت میں پایا۔ ہاتھ پاﺅں کے علاوہ پیٹ بھی پھولا ہوا تھا۔س ب چوکڑیاں بھولاہوا تھا۔
جب ہوش آیا تو عمدہ عمدہ کپڑے پہنائے اور یہ فقرہ سنایا ”دیکھ! میں نے تیری جان بچائی ہے ایسا نہ ہو کہ اس احسان کے عوض تو میری جان کا گاہک ہو۔ “۔
مرزدان نے پوچھا اس کے کیا معنی ؟۔
وزیر نے جواب دیا ہمارا شہزادہ قمرالزمان علیل ہے اس کی بیماری کا راز کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔
قمر الزمان کانامسن کر مرزدان کو دلچسپی پیدا ہوئی۔ وزیر نے سارا واقعہ بیان کیااور اس کو لے جا کر شہزادے کے قدموں تلے بٹھایا۔
مرزدان نے شہزادے کو دیکھ کرکہا واہ خدائے کریم وکارساز! تیری کریمی و فیاضی کے صدقے! دونوں کی ایک ہی صورت ہے۔ بتوں کی سی مورت ہے۔ وہی خوبی اور پھبن ہے۔
اتنا سننا تھا کہ وزیر کا تو خون خشک ہو گیا مگر قمر الزمان نے آنکھیں کھول دیں اور اشارہ کیا کہ اس اجنبی کو میرے قریب بٹھائیے ذرا یہاں بھجوائیے۔ بادشاہ نے مرزدان کو اشارہ کیا تووہ شہزادے کے پاس آن بیٹھا۔
قمر الزما ن نے پوچھا کہاں سے آنا ہوا؟۔
اس نے جوا ب دیا میں سلطان الغیور کی رعایا کا ایک ادنیٰ سا فرد ہوں۔
بادشاہنے کہا خدا تمہارے قدم مبارک کرے اورشہزادہ صحت پائے۔
مرزدان نے ادب سے جواب دیا ۔”شکریہ“ اور پھر شہزادہ قمر الزمان کے کان میں کہا ، گھبرانے کی کیا بات ہے آپ کے مرض کا علاج میرے پاس ہے۔ پھر اس نے شہزادی بدور کا حال قمر الزمان سے کہہ دیا۔ یہ سننا تھا کہ قمر الزمان کی جان میں جان آئی۔ منہ مانگی مراد پائی۔
دوسرے روز قمر الزمان سے مرزدان نے کہا جس شہزادی کو آپ نے اپنے کمرے میں دیکھا تھا اور جس کی انگوٹھی بدلی تھی اس کا نام شہزادی بدور ہے۔ اس کا باپ سلطان الغیور ہے۔ جس طرح آپ نے اسے دیکھا اسی طرح اس نے بھی آپ کو دیکھا۔ میں اس کا سوتیلا بھائی ہوں اورآپ ہی کی تلاش میں نکلا ہوں۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ گوہر مراد ہاتھ آیا۔
قمر الزمان کا مرض تمام ہوا۔ غسل صحت کیا اور بادشاہ نے اس روز سارے ملک میں چراغاں کا حکم دیا۔ غریبوں مسکینوں نے خیرات اور قیدیوں نے رہائی پائی۔ سارے ملک نے خوشی منائی۔
مرزدان نے شہزادے سے کہا اب بہتر ہے کہ آپ بادشاہ سے شکار پر جانے کا بہانہ بنائیے۔ آدمیوں کو جنگل روانہ فرمائیے۔ ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر ایک کوتل گھوڑا ساتھ لے چلیے۔ دوگھوڑے میں بھی لے چلوں گا۔
قمر الزمان نے باپ سے ایک رات کی اجازت لی۔ بادشاہ نے اجازت تو دے دی مگر ساتھ ہی یہ سمجھا دیا کہ بیٹا! خبردار! ایک شب سے زیادہ وقت صرف نہ کرنا، مجھ پر ستم نہ ڈھانا، ابھی اتنی بڑی علالت سے نجات پائی ہے، خدا نے جان بچائی ہے۔
قمر الزمان نے جواب دیا ۔ ابا حضور ! آپ فکر نہ کیجئے۔ میں انشاءاللہ جلدی لوٹ آﺅں گا۔ یہ کہ کر روانہ ہوا۔
چوتھے روز چلتے چلتے ایک بہت بڑا جنگل نظر آیا۔ یہاںمرزدان نے ایک اونٹ ذبح کیا۔ قمرالزمان کے کپڑے لے کر اونٹ کے خون سے رنگے اور ایک چوراہے پر پھینک دئیے اس کے بعد وہاں سے چلے تو قرمر الزمانن ے اس کا سبب دریافت کیا۔
مرزدان نے جواب دیا جب ایک شب کے بعد تم بادشاہ کے پاس نہ جاﺅ گے تووہ بے تاب ہو کر تمہاری تلاش میںنکلیں گے۔ یہاں تمہارے کپڑے دیکھ کر سمجھ جائیں گے کہ تمہیں کوئیدرندہ پھاڑ کے کھا گیا ہے۔ لہٰذا تمہارا تعاقب نہ کریں گے اور تم سیدھے سلطان الغیور کے ملک میں پہنچ جاﺅ گے
قمر الزمان نے کہا یہ تم نے اچھا نہیں کیا۔ ابا حضور میری جدائی برداشت نہ کرسکیںگے۔
مرزدان بولا اب خاموشی سے چلتے رہو۔ اسی میں تمہاری بہتر ی ہے۔
چلتے چلتے سلطان الغیور کا ملک سامنے نظرآیا۔
مرزدان خداکا شکر یہ بجا لایا۔ اس نے شہزادے کو تین روز تک ایک سرائے میں ٹھہرایا۔ تکان اورتھکاوٹ دور ہوئی ۔ اس کے بعد حمام میں لے گیا اور شہزادے کو نجومی کا لباس پہنایا۔ سونے کے پانسے دئیے اور کہا سلطان کے محل میں جاﺅ اورواں بلند آوازسے کہہ سناﺅ کہ ہم نجومی ہیں۔ ماضی اور حال کی سب باتوںسے واقف ہیں۔ یہ سن کر بادشاہ تمہیں فوراً بلوائے گا اور شہزادی کے پاس بھجوائے گا۔ تم کو دیکھتے ہی شہزادی کا مرض کا فور ہوگا۔ روح شادامان اور دل مسرور ہوگا۔ اپنے قول کے مطابق بادشاہ اپنی بیٹی کا نکاح تم سے کردے گا اور آدھی سلطنت جہیز میں دے گا۔ بس اب جاﺅ اور اللہ پر بھروسا رکھو۔
قمر الزمان بادشاہ کے در دولت پر حاضر ہوا اورب لند آواز سے پکارا۔ میں علم نجوم میں مشاق ہوں۔ منتر جنتر میں طاق ہوں۔ پوشیدہ خزانے فوراً بتاتا ہوں۔ ماضی، حال اور مستقبل کی باتیں کہہ سناتا ہوں۔
لوگوں نے اسے سمجھایا اے نوجوان! اس حماقت سے باز آ! بادشاہ کے محل کے سامنے غل نہ مچا۔ شہزادی کی بدولت بہت سے خون نا حق ہوئے ہیں۔ توکیوں اپنی جان گنواتا ہے ؟ ہاتھیوں سے گنے کھاتا ہے ؟۔
مگر قمر الزمان نے کسی کی نہ سنی۔ شدہ شدہ بادشاہ تک خبر پہنچی۔ سلطان نے اسے بلوایا۔ شہزادہ زمین پرجھک کر ادب بجالایا۔
بادشاہ نے کہا اگر تمہاے عمل سے شہزادی اچھی نہ ہوئی تو جان جائے گی۔ کوئی سفارش کام نہ آئے گی واللہ باللہ تم ضرور قتل کیے جاﺅ گے۔ ہرگز جیتا نہ چھوڑوں گا۔
قمر الزمان نے کہا مجھے یہ شرط منظور ہے۔ تقدیر سے بندہ مجبور ہے۔
بادشاہ نے قاضی اورگواہوں کوبلوایا اور ان سے کل حال کہہ دیا۔ پھر خواجہ سراﺅں کو بلوا کر کہا کہ اس نجومی کو شہزادی کے پاس لے جاﺅ۔
خواجہ سراﺅں نے گردن جھکائی،قمر الزمان کے ساتھ لے کر چلے تو اس نے ان سے پہلے قدم رکھا۔ انہوں نے اس کی تیزی دیکھت و بولے خدا تجھ سے سمجھے ! اس خوشی اور پھرتی سے موت سے دو چار ہونے جاتا ہے۔
پردے کے پاس تک خواجہ سرا لے گئے تو شہزادے نے پوچھا میں کس طرح سے علاج کروں؟ پردے کے اندر سے علاج ہو یا باہر سے ؟۔
انہوں نے کہا اگر پردے کے باہر سے علاج ہو تو اچھا ہے۔ قمر الزمان پردے کے پیچھے لگ کر بیٹھا اور قلم دوات طلب کر کے یوں لکھنے لگا:
خدا بڑا حکیم کار ساز ہے۔ یہ نامہ شہزادہ قمر الزمان کی طرف سے چین کی اس شہزادی کے نام ہے جو ہمیں صرف ایک شب کے لیے ملی، میری انگوٹھی لے کر اپنی دی اور غائب ہو گئی۔ خدا کا شکر ہے کہ حضور کا پتا پایا اور یہاں تک آیا۔ پھر اسی خط میں شہزادی کی انگوٹھی بند کی اور اپنی انگوٹھی طلب کی۔
شہزادی بدور نے جو انگوٹھی پائی تو جامے میں پھولی نہ سمائی ۔ اسی دم بیماری سے نجات پائی۔
خواجہ سرا نے بادشاہ کو یہ مژدہ سنایا کہ نجومی نے ایک قسم کا معجزہ کر دکھایا۔
بادشاہ اسی وقت وہاںگیا تو شہزادی کو خوش و خرم پایا۔ چوما گلے لگایا۔ قمر الزمان سے پوچھا تمہارا ٹھکانا کہاں ہے؟۔ قمر الزمان نے کل حال بتایاکہ میں شاہ زمان کا لڑکا ہوں اور شہزاد ہ ہوں ۔ ایک روز خداجانے کیوںکر میں نے اس شہزادی کواپنے کمرے میں سوتے پایا۔ مگر آنکھ کھلی تو خواب سا نظرآیا۔
سلطان الغیور نے یہ حیرت انگیز ماجراسن کرفرمایا کہ یہ عجیب و غریب واقعہ کتابوں میں درج ہونا چاہیے کہ مدت تک یاد رہے۔
اس کے بعد قاضی اورگواہوں کوبلوا کرشہزادی بدور اور قمر الزمان کا نکاح پڑھوایا۔ سات دن تک شہر کو خوب آراستہ کیا۔ سارے شہر کی دعوت کی دعوت کی ۔ دھوم دھام سے ضیافت کی۔ رعایا بھی خوش تھی کہ خدا نے یہ دن دکھایا۔ آر سی مصحف کی رسم ادا ہوئی۔ ایک مہینے تک پھر سب کی دعوت عمدگی سے کی۔

یہ بھی پڑھیں:  شہزادی بدور
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں