بھارتی جارحیت پورے خطے کے لیے خطرہ ہے

EjazNews

فیس بک، یو ٹیوب اور ٹویٹر پر عوامی جنگ جاری ہے۔ پاکستان میں درختوں کو نقصان پہنچا کر ایل او سی سے واپس بھاگنے والے انڈین طیارے مذاق بنے ہوئے ہیں۔ لیکن سرحد کے پار والے اس کو ائیر سٹرائیک قرار دے رہے ہیں۔ بہر کیف ان کی مرضی اپنے ہی ٹی وی چینل پر پرانی وڈیو چلاکر ائیر سٹرائیک ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن یہ جنگ اگر ٹی وی کی سکرین اور سوشل میڈیا پر جاری رہے تو بہتر ہے ۔ جان لیجئے کہ پاکستان بھی ایک ایٹمی طاقت ہے اور پاکستان کے ایٹمی رینج میں پورا انڈیا آتا ہے۔ اگر پاکستان کو نقصان ہو گا تو صفحہ ہستی انڈیا کی بھی نہیں رہے گی ۔
دنیا بھر کے ممالک دونوں ممالک کو تحمل مزاجی کا مشورہ دے رہے ہیں۔ لیکن انڈین شدت پسندوں کا جنون ہے کہ الیکشن جیتنا ہے چاہے انسان رہے یا نہ رہیں۔ مودی تو ویسے ہی انسانی قتل و غارت گری میں مشہور ہیں۔ جب وہ وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے اپنی ہی ریاست میں فسادات کا بازار گرم کیا تو دنیا بھر سے ان کی مذمت کی گئی۔ امریکہ نے ان کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا۔ لیکن یہی جنونیت انڈیا پر غالب آگئی اور گجرات میں فسادات کا بازار گرم کرنے والاانڈیا کا حکمران بن بیٹھا ہے اور الیکشن جیتنے کے لیے برصغیر پاک و ہند کو جنگ کی آگ میں جھوکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جنگ کا کہنا بہت آسان ہے، لیکن جنگ کے نتائج سے آج تک جاپان باہر نہیں نکل سکا اور جاپان کی ترقی کے برابر انڈیا کو پہنچنے کے لیے بھی سو سال کی ضرورت ہے۔ اگر وہ جنگ کے اثرات سے آج تک نہیں نکل سکا تو پھر انڈیا کی کیا ہستی ہے۔
جنگ تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ تباہی ہے ، رویے بدلیے ، کشمیر کے مسئلے کو سمجھئے ، کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر پاکستان اور بھارت کبھی اطمینان سے نہیں رہ سکتے۔ مسئلہ کشمیر ایک مسلمہ حقیقت ہے۔1947ء سے لے کر آج تک وہاں انڈین فورسز موجود ہیں اتنی لمبی جدوجہد ، اتنی لمبی تحریک، اتنی قربانیاں اور مسلسل ان میں اضافہ دنیا کی کن تحریکوں میں ملتا ہے۔ برصغیر پاک وہند کے انسانوں کو اچھی زندگی گزارنے ، ان کی معاشی ترقی، ان کی سماجی ترقی، ان کے روحانی ترقی کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف آئیے ، مل بیٹھ کر بات کیجئے، اس سے ہی دونوں ممالک ترقی کی جانب جائیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں:  مسئلہ کشمیر کا حل ہماری مرضی کی بجائے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے:وزیراعظم عمران خان

اپنا تبصرہ بھیجیں