women_rights

عورتوں کے حقوق کی عالمی تحریکیں

EjazNews

پوری دنیا میں عورتوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے طویل جدوجہد کی ہے جو مختلف ادوار میں مختلف انداز سے جاری رہی ،حقوق حاصل کرنے کی تحریکوں میں نوجوان عورتوں، طالبات ، محنت کش عورتوں اور گھریلو عورتوں نے اہم کردار ادا کیا اور صدیوں سے جاری جبر کے خلاف عملی اقدامات اٹھائے۔
عورتوں کی آزادی کی تحریک کا باقاعدہ آغاز انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کی ابتداء میں ہوا۔ یورپ اور شمالی امریکہ میں انیسوی صدی کے دوران عورتوں کو سرمایہ دارانہ نظام کی ضرورتوں کے تحت لیبر مارکیٹ کا حصہ بنایا گیا اور وہ گھروں سے نکل کر بڑی تعداد میں کام کرنے لیں۔ البتہ اس وقت عورتوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا جاگیردارانہ رویہ موجود تھا جس کے نتیجے میں تضادات پیدا ہوئے ۔ نتیجتاً عورتوں نے مردوں کے برابر قانونی حیثیت حاصل کرنے کی جدوجہد کی۔
ایسیجدوجہد کرنے والوں میں مختلف رجحانات موجود تھے ۔ عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والے بہت سے رہنما سرمایہ داروں سے اپنی وفاداری ظاہر کر کے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے تھے، ان میں سے کچھ نے اپنے ملک کے سرمایہ داروں کی جنگ عظیم اول میں حمایت بھی کی ۔ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ مضبوط ترقی پسند اور سوشلسٹ بیانات بھی موجود تھے جو یہ کہتے تھے کہ عورتوں کے حقوق کی جدوجہد محنت کش عوام کی جد و جہد کا حصہ ہے اور انہوں نے ملکیت کی بنیاد پر ووٹ کا حق دینے کی مخالفت بھی کی اور محنت کشوں کو متحرک بھی کیا ۔ انہوں نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں عورتوں کو ووٹ کا حق دلوانے میں اہم کردار ادا کیا اور مساوی اجرت کی جدوجہد کی ۔ اس دور کو عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کی پہلی لہر سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے عورتیں بہت سے اہم شہری حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں مثلاً ان میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کا حق ، تجارت اور مختلف شعبوں میں جانے کاحق، اپنی اجرت کو استعمال کر نے ،ملکیت رکھنے ، طلاق لینے ،سیاسی تنظیم میں شامل ہونے کا حق وغیرہ شامل ہیں۔ 1917ء میں روس کے بالشویک انقلاب نے جہاں سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ دیا وہاں اس انقلاب کی کامیابی سے عورتوں کو بہت سے اہم حقوق حاصل ہوئے۔1917ء سے 1927ءتک سوویت حکومت نے بہت سے ایسے قوانین منظور کئے جن میں عورتوں کو قانونی سطح پر مساوات دی گئی۔ شادی کے عمل کو آسان کر دیا گیا جو جوڑوں کی باہمی رضامندی سے آسانی سے ممکن تھا۔ اسقاط حمل کو قانونا جائز قرار دیا گیا۔ 16 سال تک ہر مردعورت کے لیے تعلیم لازمی قرار دی گئی ۔ رجعت پسندانہ سماجی روایات کے خلاف شعوری جدو جہد کی گئی۔ البتہ بعدازں سوویت یونین میں عورتوں کے حقوق کے خلاف کسی حد تک قانون سازی اور اقدامات ہوئے۔
8مارچ 1872ء کو امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہزاروں کی تعداد میں محنت کش امر یکی عورتوں نے مساوی کام کی مساوی اجرت اور یومیہ اوقات کار میں کمی کے مطالبات کے لئے شکاگو کی سڑکوں پر بڑا جلوس نکالا جس پر پولیس نے اندھا دھند لاٹھی چارج کیا ۔جس کا مقصد تحر یک کو دباتا تھا۔ 1910ء میں پولینڈ میں عورتوں کی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر 8مارچ کے اس واقع کو بنیاد بنا کر اسے عورتوں کا عالمی دن قراردیا جسے آج تک منایا جاتا ہے۔
دوسری جنگ عظیم میں سرمایہ دارانہ نظام میں موجود تضادات واضح انداز میں سامنے آ گئے اور انہوں نے سرمایہ دارانہ معیشتوں کو شدید دھچکا لگایا۔ اس دور میں عورتوں کے حقوق کی تحریک ترقی یافتہ ممالک میں منظم ہوئی جن میں امریکہ کینڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ شامل ہیں۔ برتھ کنٹرول میں ترقی سے عورتیں تولیدی حوالے سے زیادہ آزادی کا مطالبہ کرنے لگیں ۔ جہاں ایک طرف برتھ کنٹرول کا طریقہ کار موجودتھا وہاں اس کے خلاف قوانین موجود تھے جن کی حفاظت رجعت پسند افراد کرنا چاہتے تھے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں معاشی ترقی میں اضافہ ہونا شروع ہوا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عورتیں گھر سے باہر کام کرنے گئیں۔ مثلاً 1950ء میں یہ تعداد دو گنا ہوگئی مگر اس اضافے کے ساتھ ساتھ عورتوں اور مردوں کی اجرتوں میں امتیاز بڑھتا گیا ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ عورتوں کو بعض ایسے مخصوص شعبوں تک محدود کر دیا گیا تھا جن میں اجرتیں کم ملتی تھیں ۔ عورتوں کو ترقی کرنے کے مواقع کم دیئے جاتے تھے اور اس میں بے جا رکاوٹیں موجود تھیں۔ 1960ء کی دہائی تک شادی شدہ عورتیں سرکاری ملازمتوں میں عارضی حیثیت سے کام کر سکتیں تھیں ۔ گھر کے کام کی ذمہ داری کی وجہ سے یا فل ٹائم ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے بہت سی عورتیں پارٹ ٹائم ملازمت کرتیں ،جہاں کم اجرت اور کم جاب سیکورٹی ہوتی اور منظم ٹریڈ یونین کے کم امکانات ہوتے۔ 1970ء کی دہائی کے شروع میں آجروں نے تنخواہوں میں کمی کرنا شروع کردی جس سے عورتیں بہت متاثر ہوئیں۔
عورتوں کی بڑی تعداد میں ملازمت اختیار کرنے اور مردوں کے ساتھ کام کرنے سے محنت کش مردوں کے رویوں میں بھی تبدیلی آئی اور عورتوں کے بارے میں ان کے پرتعصب خیالات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے ۔ایسا خصوصا عورتوں کی اسی جدوجہدوں سے ہوا جہاں وہ مردوں کے غلبے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں یا انہوں نے ایسی صنعتوں میں کام کرنا شروع کیا جہاں پہلے صرف مرد کام کرتے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد ترقی یافتہ مما لک میں عورتوں کی خواندگی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا۔ ملازمت میں عورتوں کی زیادہ شمولیت نے تعلیم کے حصول کے شعور میں اضافہ کیا۔ عورتوں کی اکثریت نہ صرف ابتدائی تعلیم حاصل کرنے لگی بلکہ وہ بڑی تعداد میں اعلی تعلیم کے اداروں میں جانے لگیں۔ اس کے باوجود عموماً کم پڑھے لکھے مردزیادہ پڑھی لکھی عورتوں سے بہتر ملازمتیں حاصل کر لیتے، تعلیم نے عورتوں کو ان کی سادگی اور معاشی مقام کو سمجھنے میں مدددی۔
ایک اور تبدیلی جو اس دور میں آئی وہ خاندانی نظام کے اندرتھی جوں جوں معیار زندگی میں اضافہ ہوتا گیا۔ خاندان میں بچوں کی تعداد کم ہوتی گئی۔ گھریلو کام کے لیے مشینری کی ایجاداور تیار حالت میں خوراک کی دستیابی نے عورتوں کو گھروں میں باندھ کر رکھنے کے رجحان میں کمی واقع کی ۔ اس دور میں خاندان کے نظام میں توڑ پھوڑ سے طلاق کی شرح میں اضافہ ہوا۔ ان تبدیلیوں نے عورتوں کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا۔ انہوں نے خاندان کے اندر اپنے اوپر ہونے والے جسمانی اور جنسی تشد دکوچیلنج کرنا شروع کیا۔ نتیجتاًز نا با لجبر، شادی اور گھریلو تشدد کے حوالے سے نئی قانون سازی کا عمل ہوا۔ خاندان کے نظام میں توڑ پھوڑ سے دیگر دو اہم تبدیلیوں میں بڑی تعداد میں غیر شادی شدہ جوڑوں کا اکھٹے رہنا اور والدین میں سے ایک (زیادہ تر عورت) کے ساتھ بچوں کا رہنا شامل ہے۔
جنگ عظیم دوم کے بعد ہونے والی مندرجہ بالا تبدیلیاں یعنی برتھ کنٹرول ٹیکنالوجی کا فروغ، ملازمتوں میں شمولیت، خواندگی میں اضافہ اور خاندان میں تبدیلی عورتوں کے حقوق کی دوسری لہر کو پیدا کرنے کا باعث بنیں اور 1960ء کی دہائی میں عورتوں کے حقوق کی تحریک کا ابھار دیکھنے میں آیا۔ ان میں پہلا ملک ریاست ہائے متحدہ امریکہ تھا جہاں جبرواستحصال کے خلاف اور عورت کی آزادی کی جدوجہد کے لیے ہزاروں تنظیمیں وجود میں آئیں۔ یہ عمل دوسرے ترقی یافتہ ممالک تک پھیل گیا۔ 1980ء کی دہائی تک یہ عمل تیسری دنیا تک بھی پھیل چکا تھا۔
عورتوں کے حقوق کی دوسری لہر کے دوران عورتوں نے سرمایہ دارانہ نظام کے اندر اپنے استحصال کو چیلنج کیا۔ انہوں نے مرد اور عورت کے درمیان محنت کی تقسیم کی روایت پر سوال اٹھایا ، گھر اور فیکٹری دونوں جگہوں پر انہوں نے عورتوں کو وہاں پر کام کے مساوی مواقع دینے کا مطالبہ کیا جہاں انہیں شامل نہیں کیا جا تا تھا ۔ انہوں نے سیاسی ، سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کی تمام شکلوں میں مکمل مساوات کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے گھریلو کام کومحض عورت کا کام سمجھنے سے انکار کیا۔ زیادہ باشعور عورتوں نے خاندانی نظام کی مخالفت کرتے ہوئے بچوں کی ذمہ داری پورے سماج پر ڈالنے کا مطالبہ کیا ۔ اسقاط حمل کو قانونی قرار دلوانے کا مطالبہ اس دور میں خاصا اہم رہا۔ علاوہ ازیں عورتیں نہ صرف اپنے ملک کے اندر اپنے حقوق کی جدوجہد کرتی رہیں بلکہ سامراجی ممالک کے غلبے کے خلاف آزادی کی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہیں مثلاً ویت نام جنگ کے خلاف تحریک میں نوجوان عورتوں اور طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔خصوصاً برطانیہ میں عورتوں نے اینٹی نیو کلئیرتحریک میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ عراق پر حملے کے خلاف بھی بڑی تعداد میں عورتیں احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوئیں ۔ عراق جنگ مخالف تحریک میں کئی قائدین عورتیں ہیں۔ 1970ء کی دہائی کے وسط میں ترقی یافتہ سامراجی ممالک میں عورتوں کے حقوق پر بڑھتے ہوئے عالمی معاشی انحطاط کے ساتھ ساتھ کئی حملے کئے گئے ۔ اس کے نتیجے میں عورتوں کی جدوجہد میں خاطر خواہ کمی آئی۔

یہ بھی پڑھیں:  جواں سال نظر آنے کیلئے فیشئل یوگا ہے بڑا ضروری

اپنا تبصرہ بھیجیں