Children_room

بچوں کے کمروں کا خاص خیال رکھیں یہ ان کی شخصیت کیلئے اہم ہے

EjazNews

گھر کی آرائش بھی ایک سٹائل چاہتی ہے ۔ ہر کمرے کی ضرورت اور افادیت بھی مختلف ہوا کرتی ہے۔ ہم انہیں روز مرہ کے تقاضوں سےتقسیم کر کے ان کی انفرادیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ جن ملکوں میں موسم گرما طویل ہوتا ہے ان گھروں کی آرائش سرد ملکوں کی نسبت مختلف ہوتی ہے مثلاً جن ملکوں میں اپریل سے لے کر نومبر تک موسم گرما کا راج ہو ،وہاں مخملیں پردے، دبیز قالین اور ویلوٹ کے کشنز استعمال نہیں ہو سکتے یا پھر ان کے ساتھ سینٹرلی ائیر کنڈیشنڈ کی سہولت موجود ہو تو بھلا لگتا ہے۔
جب موسم بہار آنے تک گرمی ہی کا احساس غالب رہے تب گھروںکی آرائش میں احتیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔سب چاہتے ہیں کہ ان کے گر ہوا دار، روشن اور صاف ستھرے نظر آئیں ۔ امارت کا اظہار مہنگی اشیاء کی سجاوٹ سے ہو جاتا ہے لیکن مزا تو جب ہے کہ آپ اپنے بجٹ کو حسن سلیقہ سے استعما ل کر کے ڈیکور بہتر بنائیں۔
شیشم کی لکڑی کے قد آدم دروازے قدیم روایتی چوب کاری کی تزئین لئے ہوئے ہیں ۔ آئینوں کی محرابوںسے دیواری آرائش کی گئی ہو گی ۔اس جمالیاتی پہلو کے لئے داد ابھرے ۔ لوگ اصل میں روایت اور جدت کو ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک منفرد اسلوب پیش کرتے ہیں۔ گھروں کی آرائش کے رجحان آپ کی اپنی جمالیاتی حسن کی پہچان کراتے ہیں۔ یعنی ظاہر کرتے ہیں کہ آپ کیسی سوچ رکھتے ہیں اور کیسے گھر میں رہنا پسند کرتے ہیں۔
انٹیک نسلوں کی روایتوں کے عکاس فرنیچر کی جھلک کہیں نہ کہیں نظر آجائے تو پہلا احساس یہی ہوتا ہے کہ اس جگہ رہنے بسنے والے اپنی بنیاد اور اساس سے بچھڑے نہیں ہیں۔
آپ نے اپنے کمروں کی طرف تو توجہ دینی ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ پورے گھر کا خیال بھی آپ نے ہی رکھنا ہے کہ بچوں کے کمروں میں کیسا رنگ ہونا چاہیے ، فرنیچر کیسا ہونا چاہیے یہ بڑی اہمیت کی حامل باتیں ہے جس سے بچے کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب ہو تے ہیں۔ ماہرین آرائش کے خیال کے مطابق اس کمرے کو بہت ہلکے رنگ سے آراستہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ چکمدار اور گہرے رنگ سے سجے تو بہتر ہے۔رس بھری ، لائم گرین، نارنجی یا سادہ گلابی مگر بچوں سے پوچھ کر تا کہ ان کا دل کمرے میں لگے۔ فلورفرشنگ کے لئے یہاں رگ رکھے جائیں یا دیوار سے دیوار تک سینتھیٹک قالین مناسب رہیں گے؟ چھوٹے بچوں کے کمروں میں قالین نہ ہی ڈلوائے جائیں تو بہتر ہے۔ اس کا واحد سبب صفائی میں سہولت کا نہ ہونا ہے۔ فرش گیلا یا گندہ ہوگا تو صفائی کرنا سہل ہے۔ قالین کو بار بار ویکیور کرنا یا دھونا اس کی رنگ کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔
دیواروں پر وال پیپرز اور پوپس چسپاں کر کے ایک فنٹیسی تخلیق کی جاسکتی ہے ۔ یہ پوپس کارٹون کریکٹرز کے علاوہ بادل،تتلی، پھول، سمندر ، مختلف جانوروں کی شبہیوں والے ہو سکتے ہیں۔ وال پوپس میں ورائٹی موجود ہے۔ اپنے بچوں کی عمروں اور ان کی دلچسپیوں کو دیکھتے ہوئے ان کا انتخاب کیجئے اور گھر میں فنٹیسی لے آئیے۔ بچیاں یوں بھی اپنی ونڈر لینڈ میں ایلس بن کر خوش ہوں گی اور بچے Spidermanکی طرح ولولہ انگیزی چاہیں گے۔ بچوں کا یہ کمرہ ان ہی کی سلطنت ہے ۔انہیں جیسا اچھا لگے سجا دیجئے۔ شخصیت کی تعمیر میں توجہ،پیار اور زندگی کی حرارت جیسے عنصر ہوں تو انہیں نظر انداز کرنے کا گلہ نہیں ہوگا۔ اپنا کمرہ صحت مندانہ اور جمالیاتی ذوق سے سجا ہوگا تو ہر بچہ سرگرم اور با اعتماد رہے گا۔ مائیں انہیں صفائی کی طرف راغب کریں گی تو وہ خوشی خوشی کریں گے۔ کمپیوٹر ٹیبل بھی تخلیقی انداز سے بنوائی جائے تو بچہ گیمز کے علاوہ تعلیم میں بھی محو ہو سکے گا۔
بچوں کے کمرے کے فرنیچر کی ساخت نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ اسے جیو میٹریکل کے علاوہ پھولوں کی آئوٹ لائن سے ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ غرضیکہ گھر کو گھر نظر آنا چاہئے۔ اسے نہ تو میوزیم نہ ہی نمائش گاہ ہونا چاہئے۔ فرنیچر اور آرائشی اشیاء کی بھرمار بھی نہ ہو اور ضرورت کی اشیاء کی کمی بھی نہ محسوس ہو۔ ایسا کچھ بھی منفرد تخیل اور طرز اسلوب ہی آپ کو نمایاں اور ممتاز شخصیت ظاہر کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  گھر کی آرائش بھی ایک آرٹ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں