islam-prayer

اسلامی آداب

EjazNews

ہر قوم کے خصوصی عقائد نظریات عملیات اور رہنے سہنے، ملنے جلنے ، کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے ، سونے جاگنے، نہانے دھونے،بولنے چالنے اور غمی و خوشی کے مختلف عادات و طریقے ہیں جن سے الگ الگ قوموں کی شناخت ہوتی ہے۔ ان عادات و اطوار و اخلاق کو آداب معاشرت کہا جاتا ہے اور اسی کو تہذیب اور شرافت کا خاصہ لازمہ سمجھا جاتا ہے۔

(۱) مختلف قوموں میں مختلف قسم کے معاشرتی آداب و اطوار وادضاع رائج ہیں۔ کہیں تو وہ جغرافیائی حالات کی بنا پر ہیں۔ جیسے گرم علاقوں کے باشندے ڈھیلے ڈھالے لباس پہنتے ہیں اور پگڑی باندھتے ہیں۔ بارانی ملکوں والے چھجے دار ٹوپیاں پہنتے ہیں۔ معتدل علاقوں کے رہنے والے ہلکے پھلکے اور مختصر لباس پر اکتفا کرتے ہیں۔

(۲) بعض قوموں میں گائے کے پیشاب کو طہارت اور گوبر کو صفائی اور ستھرائی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے یا کھانے کے وقت برہنہ ہو کر اور درختوں کے پتوں میں کھانے کو تبرک خیال کیا جاتا ہے۔ یا پیشاب یا پاخانے کے وقت کان میں دھاگا لپیٹ لینے کو عبادت اور خدا کا وسیلہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس قسم کی بہت سی توہمات اور تخیلات ہیں جنہیں آداب معاشرت کا معیار ٹھہرا لیا گیا ہو۔

مگر اسلامی آداب نہ تو رسم و رواج پر مبنی ہے اور نہ تو ہمات اور ظنیات پر اعتماد ہے اور نہ غیر صحیح مرویات اورنہ بوسیدہ آثار پر ہے۔ بلکہ صحیح تہذیب اور اخلاق اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو اپنے رسولوں اور نبیوں کے ذریعہ سے انسانوں تک پہنچایا اور یہ انبیاء تخلق باخلاق اللہ کے سانچے میں ڈھل کر قوم کے لیے علمی و عملی نمونہ بنے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے۔ ”لقد کان لکم فی رسول اللہ اللہ اسوة حسنة (الاحزاب ) تمہارے لیے رسول مقدس میں اچھی اقتداءاور وہ تمہارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ لہٰذا یہ اسلامی آداب خدا اور رسول کی طرف منسوب ہیں۔ منسوب الیہ کی شرافت سے منسوب کی بھی شرافت ثابت ہوتی ہے۔

اسلامی آداب میں بہت سی ایسی خصوصیات اور ایسے امتیازات ہیں جن سے دنیا کے دیگر مذاہب خالی نظر آتے ہیں۔

(۱) زندگی کی ہر ہر جزئیات و کلیات کے لیے اصول و قوانین معین ہیں حتیٰ کہ سونے جاگنے اور اُٹھنے بیٹھنے، پیشاب وپائخانہ کے بھی آداب اسلام کی تعلیمات میں داخل ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ او ررسول اللہ ﷺ کا رُعب

حضرت سلمان ؓ سے ایک یہودی نے کہا کہ تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہر بات کی تعلیم دیتے ہیں حتیٰ کہ پیشاب و پائخانہ کے آداب بھی بتاتے ہیں تو فرمایا کہ ہاں ہمارے نبی سب تہذیب کی باتوں کو بتاتے ہیں۔(مسلم ، ابوداﺅد)

(۲) عبادات ، معاملات میں اعتدال، رفتار وگفتار میں اعتدال، آمد و خرچ میں، کاروبار میں اعتدال ہے۔

(۳) ہر اصول اور قانون فطرت انسانی کے مطابق ہیں۔ اسلامی آداب کی پابندی انسان کو فطرت کے صحیح راہ پر قائم رکھتی ہے۔

(۴) اسلامی آداب میں تکلف اور تصنع نہیں بلکہ نہایت ہی سادگی ہے۔

(۵) اسلامی آداب کے ذریعہ مساوات انسانی اور اخوت و ہمدردی کی بڑی اہمیت حاصل ہے۔

(۶) امیر غریب ، حاکم محکوم، خادم مخدوم، غلام وآقا کے ایسے اصول و قوانین ہیں جن سے ان کے حقوق محفوظ ہیں۔

کسی قسم کی کسی کی حق تلفی نہیں۔

(۷) اسلامی آداب سے جہالت کی تمام رواجی رسمیں ختم ہو گئیں۔


(۸) اسلامی آداب کی رعایت سے آپس کے تعلقات اور باہمی محبت پیدا ہوتی ہے اور بغض و کینہ عداوت کانام تک نہیں باقی رہتا۔
(۹) اسلامی آداب کی خصوصیت یہ ہے کہ انسان کو ایک بہترین زندگی کی تربیت کی جاتی ہے جس سے صحیح معنوں میں انسان صحیح انسان ہو جاتا ہے۔

(۰۱) اسلامی آداب سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے اخلاق حسنہ اور خصائل حمیدہ کی تکمیل ہوتی ہے اور تزکیہ نفس حاصل ہوتا ہے۔ یعنی نفس کو ہر قسم کی ظاہری اور پوشیدہ نجاستوں سے پاک بنا لیا جاتا ہے اور تمام برائیوں سے صاف ستھرا کر لیا جاتا ہے او ریہی تزکیہ نفس فلاح دارین کا ذریعہ ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

”جس نے اس نفس کو پاک صاف بنا لیا وہ کامیاب ہوا۔ اور جس نے اس کو خصائل رذیلہ میں ملوث کر دیا وہ ناکام رہا۔ (شمس)
اخلاق حسنہ اور خصائل فاضلہ کو اسلام میں بڑا درجہ حاصل ہے۔ کہ اس کو نبوت کی بعثت کی غرض بتائی گئی ہے۔

معلم اخلاق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اسی لیے بھیجا گیا ہوں کہ اخلاق حسنہ کی تکمیل کروں ۔(احمد، البیہقی)
لیکن اس کے باوجود آپ مکارم کے حصول کے لیے دعا کرتے ہیں:

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی

”اے اللہ تو مجھے بہتر سے بہتر اخلاق کی رہنمائی کر تیرے سوا کوئی اخلاق حسنہ کی راہ نہیں دکھا سکتا اور برے اخلاق سے مجھے پھیر دے۔ تیرے سوا کوئی بری باتوں سے پھیرنے اور بچانے والا نہیں۔ (کتاب المسافرین باب الدعا فی صلاة اللیل دقیامہ۔ نسائی ج۲ ۔۹۲۱)
اخلاق حسنہ والا انسان سب سے اچھا ہے ۔

آپ نے فرمایا : جس کے اخلاق اچھے وہ سب سے اچھا ہے۔ (بخاری)

اسلام میں نماز روزہ کی بڑی اہمیت ہے۔ لیکن اخلاق حسنہ بھی اس کے قائم مقام ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: انسان حسن اخلاق سے وہ درجہ پا لیتا ہے جو رات بھر نماز پڑھنے اور دن بھر روزہ رکھنے والے کو ملتا ہے۔ (ابوداﺅد)

یعنی نفلی نمازوں میں رات بھر کی بیداری اور نفلی روزوں میں دن بھر کی بھوک پیاس سے جو درجہ ہوتا ہے وہی درجہ حسن خلق سے ملتا ہے۔ یہی حسن اخلاق قیامت کے دن انصاف کی ترازو میں سب عبادتوں سے زیادہ وزنی ہوگا۔

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ترازو میں حسن خلق اور نیک چلن سےزیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہوگی۔ (ابوداﺅد، ابن حبان)

حسن خلق خدا کی محبت کا وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ اور نیک چلن والا اللہ کے نزدیک سب سے پیارا ہے۔

رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بندوں میں اللہ کا سب سے زیادہ محبوب اور پیارا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔ (الطبرانی)

اور یہی چیز رسول کی محبت کا بھی ذریعہ ہے۔

آپ نے فرمایا: تم میں میرا سب سے زیادہ محبوب اوربہشت میں مجھ سے سب سے زیادہ نزدیک وہ ہیں جو تم میں خوش خلق اور نیک چلن ہیں اور مجھے ناپسند اور قیامت میں مجھ سے دور وہ ہوں گے جو تم میں بد اخلاق ہیں۔ (ابن حبان، الموارد:۷۱۹۱، ۴۷۴، احمدج۴،۳۹۱، طبرانی،المجمع ج۴،۱۲)

یہی خوش اخلاقی دخول جنت کا بھی سبب اورذریعہ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں دو صحابیہ عورتیں تھیں۔(۱) رات بھر نماز پڑھتی دن بھر روزہ رکھتی اور صدقہ وخیرات کرتی تھی۔ مگر بڑی زبان دراز تھی کہ اپنی زبان درازیوں سے پاس پڑوس والوں کو ستاتی رہتی تھی اور دم ناک میں کیے رہتی تھی۔ (۲) صرف فرض عبادت ادا کر لیتی اور غریبوں میں کچھ کپڑے تقسیم کر دیتی تھی مگر کسی کو ستاتی نہیں تھی اور نہ زبان درازی کرتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں کے متعلق دریافت کیا گیا کہ ان دونوں میں سے کون افضل اور بہتر ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی کی نسبت فرمایا اس میں کوئی نیکی نہیں وہ اپنی بدخلقی اور زبان درازی کی سزا بھگتے گی اور دوسری کے متعلق فرمایا : وہ جنتی ہے۔ (ادب المفرد للبخاری)۔ اس حدیث سے حسن خلق اور نیک چلن کی اہمیت اور فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لیلة البراة یعنی شب برات

ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے وہ کام بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے ۔ آپ نے فرمایا انسان کو غلامی سے آزاد کرو اور مقروض کی گردن کو قرض کے بندھن سے چھڑا دو اور ظالم رشتہ دار کا ہاتھ پکڑ کر ظلم سے روکو اور اگر یہ کام نہ کر سکو تو پھر بھوکے کو کھانا کھلا دو اور پیاسے کو پانی پلا دیا کرو اورنیکی کی بات بتا دیا کرو اور برائی سے لوگوں کو روکو اور اگر یہ بھی نہ کر سکو تو برائی سے اپنی زبان کو بچاﺅ۔

کتاب و سنت میں جگہ جگہ اس کی بڑی تاکید آئی ہے کہ سچ بولو، کسی کو تکلیف مت دو، ایذا رساں چیز کو رستہ سے ہٹا دو۔ امن و سلامتی پھیلایا کرو۔ جو اپنے لیے پسند کرو۔ وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرو۔ کسی کے ساتھ برائی مت کرو۔ امانت میں خیانت مت کرو۔ وعدہ کو پورا کرو۔ پاک دامنی اختیار کرو۔ پاکی صفائی، ستھرائی اختیارکرو، حیا و شرم کرو۔ بے شرمی سے بچو، ملنے جلنے کے وقت سلام و مصافحہ کرو۔ چھوٹے بڑے کا خیال رکھو۔ وغیرہ وغیرہ ۔

بہر حال اخلاق حسنہ کی بہت جزئیاں ہیں جن کا احاطہ مشکل ہے مختصر یہ کہ فضائل پر چلنا اور رذائل سے بچنا، مکارم اخلاق ہے۔ اسلامی سیرت اور مکارم اخلاق ہی کو بیان کرنا مقصود ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما کر فلاح دارین کا ذریعہ بنائے۔ (آمین)
عبدا لسلام بستوی

اپنا تبصرہ بھیجیں