china-great-wall

پیارے بچو! کیا آپ چین کے بارے میں جانتے ہیں؟

EjazNews

پیار بچو!آپ جانتے ہیں چین کی تہذیب صدیوں پرانی ہے۔چین پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ دنیا کے بلند ترین پہاڑ ہمالیہ کے دامن میں افغانستان، چین ، بھارت ، پاکستان، نیپال ،آزاد و مقبوضہ کشمیر شامل ہیں۔ چین، بھارت اور ایران تین قدیم تہذیبیں ہیں۔ تقریباً 5ہزار سال قبل سائرس اعظم (بعض جگہ کورش اعظم اوربعض جگہ ذوالقرنین درج ہے)نے جو ایران کا بادشاہ تھا۔ روس اور چینی ترکمانستان کو اپنی سلطنت میں شامل کیا۔ اس کے بعد چین کی سلطنت وجود میں آئی۔ اس نے سب سے بڑی شاہراہ ریشم بنائی۔ چین کے دو ہزار سال سے دنیا کے دیگر ممالک سے تجارتی تعلقات ہیں۔ چین کی یہ تجارت ریشم کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر میں ایران، ہندوستان، مصر، شام، ترکی ، روم اور یونان میں مقبول تھی اور صدیوں تک ریشم پر اس کی اجارہ داری رہی پھر کاغذ سازی میں کمال کردیا۔ یہ برتری بھی صدیوں رہی۔ آخر یورپ کے دو پادری چین آئے اور کئی برس چین میںقیام کیا۔ انہوں نے ریشم کے کیڑوں کے پالنے، ان کے انڈے دینے، بچے نکلنے اوران سے ریشم حاصل کر کے عمدہ اور نفیس کپڑا بنانے کے طریقوں کو اچھی طرح سمجھا، پھر عیاری سے ریشم کے کیڑے اپنے مذہبی عصا میں چھپا کرچین سے یورپ لے گئے۔ جو تقریباً سات سو سال راز رہا تھا۔ اسی طرح کاغذ سازی کو 4سو سال تک چھپائے رکھا۔ چین میں دیوار چین ایک انوکھا منصوبہ ہے یعنی قدرتی رکاوٹوں کے ساتھ اس کی لمبائی 8851کلو میٹر اور بغیر رکاوٹوں کے سنکیانگ سے ”لو پلایک تک اس کی لمبائی 6259کلو میٹر ہے۔
چین سے بدھ پاکستانی علاقوں میں داخل ہوا، وہاں سے سوات ، گلگت اور افغانستان میں اس کے اثرات پہنچے۔ جس کی وجہ سے سوات ،گلگت میں بھی بدھ کے مجسمے جا بجا ملتے ہیں۔ چین کے شہر ترنان میں پہاڑی سلسلہ میں بہت سی غاریں ہیں وہاں بدھ کے ہزاروں مجسمے ہیں یا پھر غاروں کی دیواروں اور پتھروں میں تراشے گئے بت ہیں۔چین کے صوبہ سنکیانگ میں اسلام اس وقت آیا جب سندھ میں محمد بن قاسم آیا۔ اس وقت حجاج بن یوسف نے قیستبہ بن سلم کو وسط ایشیا بھیجاتھا۔ قیستبہ بن مسلم نے کاشغر پر قبضہ کر کے انتظامی امور پر بھرپور توجہ دی۔
پاکستان کے ساتھ چین کے گہرے تعلقات ہیں ،پاکستان اور چین کی زیادہ تر تجارت شاہراہ ریشم 1300کلو میٹر (پاکستان میں)ہے۔ دنیا کی بلند ترین سڑک کا پاکستانی حصہ 806کلو میٹر خنجراب سے ایبٹ آباد تک ہے جبکہ چین میں اسکی لمبائی 494کلو میٹر ہے۔ اس کی انتہائی بلندی 15397میٹر ہے۔ 1966ءسے شروع کر دہ یہ سڑک پاک فوج نے تعمیر کی جو 1979ءمیں مکمل ہوئی۔ تقریباً ہر میل کے فاصلے پر ایک فوجی شہید ہوا۔ 31دسمبر 1979ءکو عام ٹریفک کے لیے یہ شاہراہ کھول دی گئی تھی۔ 1980ءکی دہائی میں بھارت نے امریکہ کی پردہ پوشی اور روس کی جانب سے حوصلہ افزائی پر سیاچن پر قبضہ کر لیا جوآج دنیا کی بلند ترین جنگی محاذ ہے۔چین کی تجارت میں شاہراہ ریشم نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ اور اس دور جدید میں ہزاروں پاکستانی طالب علم چین میں تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پیغام
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں