business-partnership

وکالت ،شرکت اور عاریت کا بیان

EjazNews

وکالت کے لغوی معنی سپرد کرنے کے ہیں اور شرعی معنی یہ ہیں کہ جس کام کو تم خود ہی کر سکتے ہو اس کام کو دوسرے آدمی کے سپرد کر کے کہو کہ وہ تمہاری طرف سے تمہارا کام کر دے۔ بشرطیکہ اس میں اس کام کے کرنے کی صلاحیت ہو جو تمہاری نیابت کر سکے تم ”موکل“ (کام کو دوسرے کے سپرد کرنے والے ہو) اور جو تمہاری نیابت میں تمہارا کام کرے وہ ”وکیل“ ہے اور وکالت کے لئے یہ شرط ہے۔
مو¿کل اور وکیل دونوں عاقل ، بالغ اور تصرف کے مالک ہوں اور دیوانے اورنابالغ وکیل بنانا درست نہیں ہے اور بوقت ضرورت غیر کو بھی وکیل بنانا درست ہے۔
نوکر اور ملازم بھی وکیل ہوتے ہیں۔ بیچنے،خریدنے ، کرایہ وصول کرنے، نکاح کرنے اور دیگر ضروری کاموں میں وکیل بنانا جائز ہے اوروکیل کو بوقت ضرورت برطرف کرنابھی جائز ہے۔
شرکی اپنے شریک کو اپنا وکیل بنا سکتا ہے۔ (بخاری)
نیز حدود اور قصاص میں وکالت درست نہیں۔
شرکت کا بیان:
شرکت ساجھے کو کہتے ہیں یعنی دویا دو سے زیادہ آدمیوں کا کسی کاروبار میں مل کر کام کرنے کو شرکت کہتے ہیں، جیسے دو چار آدمیوں نے مل کر دکان کھولی اور سب مل کر بیچتے اور خریدتے ہیں تو یہ معاملہ شرکت کا ہوا اورکام کرنے والے شرکاءاور شریک ہوئے اس شرکت میں بڑی امداد ملتی ہے، جو کام ایک آدمی نہیں کرسکتا کئی آدمیوں کے ملنے کی وجہ سے بہت آسانی سے وہ کام ہو جاتا ہے اس میں بڑی خیر و برکت ہوتی ہے، بشرطیکہ کوئی خیانت اور غبن نہ کرے۔ خیانت کرنے سے برکت نکل جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں دو شریکوں میں تیسرا ہوں جب تک کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کی خیانت نہیں کرتے ہیں جب کوئی ان میں سے خیانت کرتا ہے تو میں دونوں کے درمیان سے نکل جاتا ہوں۔(ابوداﺅد)
یعنی دو شریکوں کے درمیان میری رحمت و برکت ہوتی ہے، جب دو شریک آپس میں خیانت کرنے لگتے ہیں تو میری رحمت و برکت ان سے نکل جاتی ہے اور ان کو نقصان ہونے لگتا ہے۔
شرکت کی دو قسمیں ہیں(۱) شرکت ملک(۲) شرکت عقد۔
(۱)شرکت ملک یہ ہے کہ دو آدمی کسی عین چیز کے مالک ہو جائیں وراثت یا خریدنے یا پیشہ وغیرہ کے ذریعہ سے اور شرکت عقد یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے کہ ہم نے تمہیں فلاں کام میں شریک کر لیا ہے اور دوسرے نے اس کو قبول کر لیا ہے، اور حسب بیان فقہاءشرکت عقد کی چار قسمیں ہیں۔
(۱) شرکت مقاوضہ (۲) شرکت عنان (۳) شرکت وجوہ (۴)شرکت صنائع۔
ان کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے مشترکہ چیز کو بغیردوسرے شریک کی اجازت کے بیچنا جائز نہیں ہے۔
عاریت کے بیان میں:
عاریت کے معنی مانگنے کے ہیں یعنی ”بغیر عوض اور بدلے کے نفع کا دوسرے شخص کو مالک بنا دینا۔“
مثلاً دو چار روز کے لئے تم سے کوئی ”اسلامی تعلیم“ دیکھنے کے لئے مانگے اور تم دیکھنے کے لئے اسے دیدو ۔ وہ مطالعہ کر کے فائدہ اٹھالے پھروعدہ کے مطابق وہ کتاب تم کو واپس کر دے۔ عاریةً دینے والے کو ”معیر“ کہتے ہیں۔ اور عاریت لینے والے کو ”مستعیر“ کہتے ہیں اور جو چیز مانگی گئی ہے۔ وہ ”مستعار“ ہے۔ اور مستعارکی شرط یہ ہے کہ صرف اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ مستعیر مالک نہیں ہوتا ہے، وعدہ کے مطابق معیر کو وہ چیز واپس کرنی پڑے گی۔
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاریت ادا کی جائے گی۔ “ (ترمذی)
ضرورت کے وقت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کرام ؓ سے عاریت لے لیا کرتے تھے۔(صحاح ستہ)اور عاریت امانت کے حکم میں ہے۔ اگر بغیر تعدی کے عاریت ضائع ہو جائے تو مستعیر کے ذمہ تاوان نہیں ہے اور اگر تعدی سے ضائع کر دیا یا نقصان پہنچایا تو تاوان کا ذمہ دار ہوگا۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹے ہوئے پیالہ کے بدلے میں سالم پیالہ مرحمت فرمایا تھا۔ (بخاری)
برتنے والی چیزوں کو مانگتے وقت دیدینا چاہیے جیسے آگ، پانی، نمک، برتن وغیرہ ، بہانہ نہیں کرنا چاہیے۔ قرآن مجید میں ”ویمنعون الماعون “ (الماعون) آیا ہے برتنے والی چیزوں کو جو مانگنے پر نہیں دیتے ان کے لئے سخت سزا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لیلة البراة یعنی شب برات

اپنا تبصرہ بھیجیں