imran-khan-karachi

پاکستان امن کا کردار ادا کرنے کو تو تیار ہے مگر دوبارہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ سے ایک ٹویٹ کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’میں نے ہدایات دی ہیں کہ وزیرخارجہ ایران، سعودی عرب اور امریکہ جاکر ان ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملیں جبکہ آرمی چیف متعلقہ عسکری قائدین سے روابط قائم کریں اور واضح پیغام دیا جائے کہ: پاکستان امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو تو تیار ہے مگر وہ دوبارہ کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔‘‘
پاکستان اس سے پہلے افغانستان کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ شریک رہا ہے اور اس کا خمیازہ جتنا بھگتا ہے شاید قوم آج تک اس کو قوم بھول نہیں سکی اور نہ بھول سکتی ہے ۔امریکہ کی افغانستان سے جنگ میں پاکستان پس کر رہ گیا تھا۔ پاکستان کی معیشت تباہ ہو گئی تھی اور امن و امان کی صورتحال ایسی تھی کہ اب بھی غیر ملکی ٹیمیں پاکستان میں کھیلنے کیلئے آنے کو تیار نہیں ہوتیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  اصلاحات کا عمل نہیں کیا تو سیاسی اور جمہوری ترقی رک جائے گی:وزیر اطلاعات فواد چوہدری

امریکہ کی اس جنگ سے کسی حد تک پاکستان اب باہر نکل چکا ہے اور افغانستان میں استحکام کی پوری کوششیں بھی کر رہا ہے جس سے افغانستان میں کسی حد تک استحکا م ہے بھی اور پولیٹیکل سسٹم ایک عرصے سے چل بھی رہا ہے۔ حالیہ افغانستان کے انتخابات میں اشرف غنی اقتدار میں آئے ہیں جو ان کی دوسری مدت صدارت ہے۔ چونکہ امریکہ سات سمندر دور ہے افغانستان کے وہ لوگ جو امریکہ کے خلاف تھے اس کا تو کچھ بگا ڑ نہیں سکتے تھے جو امریکی فوجی یہاں تھے البتہ ان کی لاشیں امریکہ جاتی رہی ہیں باقی کا سارا نزلہ آکر پاکستان پر گرتا تھا ۔ آئے دن کے بم دھماکوں سے اتنی لاشیں اٹھی ہیں کہ آنسو جیسے سوکھ ہی گئے تھے۔
خدا نخواستہ اگر ایران اور امریکہ کی جنگ شروع ہو تی ہے۔ اللہ کرے ایسا کچھ نہ ہو ۔ اگر ہوتی ہے تو اس صورتحال میں پاکستان کو امن کی بھرپور کوششیں ضرور کرنا چاہیے اور معاملات کی بہتری کیلئے اپنا کردار ضرورادا کرنا چاہیے ۔ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ایرانی ایک غیرت مند قوم ہیں۔ اس لیے وہاں پر کچھ بھی ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان پر ضرور ہوں گے لیکن اگر اس پالیسی پر ہماری حکومتیں کاربند رہتی ہیں کہ ہم متوقع جنگ میں شریک نہیں ہوں گے تو یہ ایک بہترین پالیسی ہو گی کیونکہ ہمیں اپنا دامن ان انگاروں سے ہر صورت بچانا ہو گا۔امریکہ اور ایران کی سرحد کسی طرح بھی ایک دوسرے سے نہیں جڑی ہوئی ہیں اور امریکہ اپنے فوجیوں کی حفاظت کرنا بھی بہت اچھی طرح سے جانتا ہے ۔اس لیے وزیراعظم کی پالیسی بہترین ہیں ۔ وزیر خارجہ پاکستان کا موقف واضح طور پر تینوں ممالک کو پہنچا کر ہماری پالیسی واضح کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کنسٹرشن انڈسٹر کیلئے مراعات اور ذخیرہ اندوزں کیخلاف سخت آرڈیننس منظور

اپنا تبصرہ بھیجیں