imran-khan-zindgi

منشیات مافیا کیخلاف آئی جی کے پی کے کو چھاپہ مارنے کا کہا، پتہ چلا منشیات مافیا کو پہلے ہی علم ہو گیا تھا:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دو چیزیں ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہیں ۔ایک پہلے سنتے تھے یونیورسٹی میں ڈرگ کا استعمال ہوتا ہے ، اب سکولوں میں بھی منشیات آگئی ہے۔ دوسری بچوں کے ساتھ زیادتی۔لوگ شرم سے اس پر بات نہیں کرتے۔ جب سے ہماری حکومت آئی ہے ہم نے تحقیقات کی تو پتہ چلا یہ بری طرح پھیلی ہوئی ہے۔موبائل فون کی وجہ سے ان دونوں چیزوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ منشیات اور بچوں سے زیادتی کے واقعات معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں۔حکومت نے انسداد منشیات کے حوالے سے ایک جامع پالیسی تیار کی ہے اور زندگی ایپ اس سلسلے میں ایک اہم اقدام ہے ۔جس پر منشیات پر قابو پانے کے حوالے سے تمام معلومات دستیاب ہوں گی۔
ا ن کا کہنا تھا کہ منشیات کا استعمال نوجوانوں کو تباہ کر رہا ہے۔ اساتذہ، پولیس اور اے این ایف کو مل کر آگاہی مہم چلانا ہوگی۔ منشیات مافیا ہر کسی کو پیسہ کھلا کر سپلائی کا کام کر تا ہے۔ آئی جی کے پی کو چھاپہ مارنے کا کہا تو پتہ چلا پہلے سے منشیات مافیا کو اس کا علم ہوگیاتھا۔
وزیر اعظم نے زندگی ایپ کے افتتاح کے موقع مزید کہا کہ ہم نے پوری طاقت کے ساتھ اس منشیات کی عفریت کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ہمیں یہ بات ذہن سے نکال دینی چاہیے کہ ہم کسی محکمے، اینٹی نارکوٹکس فورس یا پولیس پر چھوڑ کر اس عفریت کو شکست دے سکتے ہیں بلکہ اس میں پوری قوم کو شامل ہونا پڑے گا۔جب قوم فیصلہ کرتی ہے تو قوم جیتتی ہے۔ ہم ماں باپ کو آگاہی فراہم کریں گے کیونکہ کئی مرتبہ والدین کو بھی سمجھ نہیں آتی کہ بچہ اگر منشیات کا عادی ہو جائے تو کیا کریں اور انہیں جب تک سمجھ آتی ہے، اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور بچے منشیات کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔سکول کے اساتذہ، علما اور مساجد کے مولویوں کا بہت اہم کردار ہے اور جمعہ کے خطبے میں بھی ہم اس حوالے سے آگاہی پیدا کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ای او بی آئی کے حصص کی خریداری میں جاری انکوائری کے خلاف دائر 4 درخواستوں کو خارج

ان کا کہنا تھا کہ آئس نشہ سکولوں میں زیادہ پھیل رہا ہے جن میں اشرافیہ کے بچے جاتے ہیں اور ایک مرتبہ نشے کی لت لگنے کے بعد بچوں کے مستقبل تباہ ہو جاتے ہیں اور پھر وہ دیگر نشہ آور اشیا کی جانب بھی راغب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں آپ آئی جی اسلام آباد سے پریذینٹیشن نہ لیتا تو مجھے بھی معلوم نہ ہوتا کہ یہ منشیات کتنی پھیل چکی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس اور اساتذہ کے ساتھ مل کر مہم چلائیں گے اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث مافیا کو قانون کی گرفت میں لا کر ان کی سپلائی لائن کو بند کریں گے۔اس کام میں بے انتہا پیسہ ہے۔ لہٰذا اس گھناؤنے کام میں ملوث مافیا ہر کسی کو پیسہ کھلا دیتا ہے۔بچوں کے جنسی استحصال میں بھی ماں باپ شرم سے چپ ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ خاندان کی ساکھ مجروح ہو۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جب تک ہمارا معاشرہ اکٹھا ہو کر اس کا مقابلہ نہیں کرے گا، اس وقت تک ہم یہ جنگ نہیں جیت سکتے کیونکہ یہ دونوں خرابیاں بہت تیزی سے ہمارے معاشرے میں سرائیت کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کالعدم تنظیم (تحریک لبیک )کیخلاف آپریشن ، متعدد افراد جاں بحق

اپنا تبصرہ بھیجیں