world-map

ریاستوں کے درمیان کبھی دشمنی نہیں ہوتی

EjazNews

دنیا کے نقشے کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ قومیں گرتی بھی ہیں،ٹوٹتی بھی ہیں اور سنبھل بھی جاتی ہیں۔ عالمی سیاست میں ایک بات یاد رکھنے والی چیز ہے کہ ریاستوں کے درمیان کبھی بھی دشمنی نہیں ہوتی۔ یہ برسر اقتدار حکومتوں کے درمیان لڑائی ہوتی ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں اور ماحول بھی بدل جاتاہے۔ کل کے دوست آج کے دشمن اور کل کے دشمن آج کے دوست بن جاتے ہیں ۔ اس کے لیے آپ کو ایک سادی سی مثال دیتا ہوں جاپان اور امریکہ کی دوستی کی۔ امریکہ اور جاپان کی دوستی دنیا میں ایک مثال ہے۔ اس دوستی کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ لیکن اسی دوستی کے پس منظر میں ہر اس تاریخی حقائق پنہاں ہیں۔ یہی جاپان اس کا خوبصورت شہر ناگا ساکی امریکی ایٹم بم کا نشانہ بنا۔ اسی جاپان کے ساتھ پرل ہاربر کے مقام پر خوفناک جنگ ہوئی اور نیشنل ہسٹری میں ایک نتحقیق جاری کی گئی تھی جس کے مطابق امریکہ کو جنگ ویتنام میں دھکیلنے والا کوئی اور نہیں اس کے دوستوں میں شامل جاپان ہی تھا۔ ہتھیار ڈالنے سے صرف پانچ مہینے مارچ 1945ءمیں جاپان میں چڑھائی کر کے ویتنام کو فتح کر لیا۔ اسی فتح کے نتیجے میں امریکہ کو جنگ ویتنام میں کھودنا پڑا۔ نیشنل انٹرسٹ نے نئے تاریخی حقائق جاری کیے ہیں۔ اس کے مطابق ویتنام اور جاپان نے ناصرف ویتنام پر قبضہ کیا بلکہ کمبوڈیا اور لاﺅس کو بھی زیر نگیں کر لیا تھا۔ یہ وہی علاقے ہیں جوقبل ازیں فرانسیسی سلطنت کا حصہ تھے۔ لیکن جاپان نے اپنی عسکری طاقت کے بل بوتے پر فرانس کو بھی پسپا ہونے پر مجبورکیا۔
اس کہانی کا آغاز 1940ءکے موسم گرما میں ہوا۔ فرانس نے جرمنی کے آگے ہتھیار پھینکے۔ فرانس کی حکومت اس وقت ایشیاءکے کئی ممالک تک پھیلی ہوئی تھی۔ جہاں مخلوط حکومتیں قائم تھیں۔ ہٹلر کے عزائم سے بچانے کے لیے برٹش رائل نیوی بھی انہی علاقوں میں گشت کرتی تھی۔ فرانس کو اس وقت ہٹلر کے علاوہ اپنے ایک اور دشمن جاپان کا بھی سامنا تھا۔ نیشنل انٹرسٹ کی تحقیق کے مطابق فرانس ابھی ہتھیار پھینکنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ جاپان نے haifoneکی بندرگاہ سے جنوبی چین کی طرف جانے والی ریلوے لائن بند کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ یہ وہ ریلوے لائن تھی جس کے ذریعے امریکہ چینی فوج کواسلحہ سپلائی کررہا تھا یہ چینی فوج جاپانی حملہ آوروں سے نبرد آزما تھی۔ اتنی حیرت انگیز تحقیق ہے۔ 1945ءکی دہائی میں امریکہ ، جاپان کیخلاف چین کے ساتھ کھڑا تھا۔ چینی جاپان کیخلاف امریکی اسلحہ استعمال ہو رہا تھا۔70 ہزاردستے اور 15 فائٹر پلین اور چند ٹینکوں کے ساتھ فرانس کے لیے چائنا پر قبضہ برقرار رکھنا ناممکن تھا۔ جاپانی مطالبے کے آگے جھکنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ مگر حیرت انگیز طورپر فرانس نے ریلوے لائن بند کرنے سے انکارکر دیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب جاپان نے خطے میں ایک بہت بڑی جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ جنگی طیاروں کے بڑے بیڑے کے ساتھ جاپان نے فرانسیسی فوج پر حملہ کیا۔ ہزاروں فرانسیسی مارے گئے۔ چند ماہ کی خوفناک جنگ کے بعد ستمبر میں فرانس ، انڈوچائنا کے کئی حصے جاپانی فوج کے حوالے کر نے پر آمادہ ہو گیا۔ جاپان نے ہزاروں فوجی دستے اور جہاز وہاں محفوظ کر لیے۔ 80 ائیر فیٹ سے جاپان نے 10اکتوبر 1941ءکو برطانوی جنگی جہاز پر تارپالو سے حملہ کرکے اسے ڈبو دیا تھا۔ جولائی 1941ءمیں جاپان نے انڈو چائنا کے باقی ماندہ حصے پر بھی قبضہ کر لیا۔جاپان کی طاقت کا اندازہ امریکہ صحیح طورپر نہ لگا سکا اور جاپان پر بھی طاقت کا نشہ سوار تھا۔ امریکہ نے تیل کی فراہمی پر پابندی لگائی۔ جس کے نتیجے کے طور پر جاپان کو پرل ہاربر پر حملہ کرنا پڑا۔تیل کی سپلائی پر پابندیوں کا آغاز 1941میں امریکہ نے کیا یہ پابندیاں کسی کو یاد نہیں سب کو عرب اسرائیل جنگ میں لگنے والی پابندیاں یاد ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک کو تیل کی سپلائی پر پابند ی کا ذمہ دار قرار دے کر عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن یہ سب غلط ہے پابندیوں کا آغاز تو امریکہ نے ہی کیا تھا۔
اسی جنگ کے دوران کھوچی من نام کی ایک نئی شخصیت چائنی سیاست پرابھری ۔انہوں نے ویتنام میں ویٹمن کے نام سے ایک نئی تحریک ڈالی۔ یہ تحریک فرانس اور جاپان دونوں کیخلاف تھی۔ امریکی سی آئی اے تو دوسرے جنگ عظیم کے بعد معرض وجود میں آئی۔ اس وقت آفس سٹرٹیجک سروسز امریکی انٹیلی جنس نیٹ ورک کا حصہ تھیں۔ اس آفس نے ایک ٹیم انڈوچینا بھیجی جس کا مقصد ہوچی من اور ویٹ من کو سہولتیں مہیا کرنا اور خفیہ معلومات کا تبادلہ کرنا تھا۔مارچ 1945ءکو جاپان نے فرانسیسی کٹ پتلی حکومت کا انڈو چائنا میں خاتمہ کر دیا ۔ جس کا دھچکہ فرانس کو بھی پہنچا۔ جاپان نے اچانک حملہ کر کے فرانسیسی چھاﺅنیوں کو نیست و نابود کر دیا۔ جاپان نے اس طرح اسی سالہ نوآبادیاتی نظام کو بھی ملیا میٹ کر دیا تھا۔ اگست 1945ءہتھیار ڈالتے وقت جاپان میں ایک بہت بڑا سیاسی خلا موجود تھا۔ اسی طرح خلا ہم نے 1988ءمیں روسی قبضے کے خاتمے کے بعد افغانستان میں دیکھا۔ روسی فوج نکل رہی تھی جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ذہن میں کسی طرح کا کوئی سیاسی ڈھانچہ موجود تھا اور نہ ہی اس کے قیام کی کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ نتیجہ ویتنام جیسا ہی نکلا۔ ویتنامیوں نے قوم پرست گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔ یہ ایک منظم اور ملک گیر جنگ تھی۔ لیکن افغانستان میں ہم نے گروپوں میں بٹے ہوئے قبائلی لیڈروں کی غیرمنظم رسہ کشی دیکھی۔ نتیجتاً دونوں ملکوں میں سیاسی اور فوجی عدم استحکام پیدا ہوا۔اتحادی فوجوں نے جاپان میںایک چھوٹی چوکی پر حملہ کیا۔ جو تام داﺅ مونٹین ریزورٹ میں واقع تھی۔ ویتنامیوں کو کمیونسٹوں نے زبردست فوجی ٹریننگ دی تھی۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ گوریلا جنگ ہار جاتے۔ رفتہ رفتہ ویٹمن اور اس کی تحریک میں سائیگون جیسے بڑے شہروں پر قبضہ کرنا شروع کیا۔ ستمبر 1945ءمیں برطانیہ نے بھی وہاں چھاتہ بردار فوج اتار دی۔ ان میں سے کچھ فوجیوں کو جاپان نے حراست میں لے لیا۔ برطانوی اور ویٹمن کے مابین کے ایک محدود جنگ کا آغاز کیا جس میں برطانوی فوج نے فتح پائی۔ اس سے فرانسیسی فوجوں کودوبارہ سنبھلنے کاموقع مل گیا۔ مارچ 1946ءمیں برطانوی فوج وہاں سے واپس چلی گئی اور اب فرانسیسی اور کیمونسٹ آمنے سامنے تھے۔ جنوب مشرق ایشیا ءکا یہ خطہ جنگ کی آگ میں جلتا رہا۔ فرانس کی یہ خونریز جنگ 1954ءمیں ہتھیار پھینکنے کے بعد ختم ہوئی لیکن امریکہ نے اپنے میرینز جنوبی ویتنام میں اتارے۔ 1965ءمیں امریکہ نے یہ تکلیف دہ جنگ مول لے لی۔
اگر جاپان 1940ءمیں فرانس کے زیر تسلط انڈو چائنا پر قبضہ نہ کرتا تو کیا ہوتا۔جاپانی حملے نے اس عمل کو تیز کر دیا جس کے لیے فرانس اورامریکہ ہرگز تیار نہ تھے۔ 1939ءمیں یورپی نوآبادیاتی نظام اندرونی خلفشار کا شکار تھا۔ ویٹمن ، گاندھی اورقائداعظمؒ پہلے ہی آزادی کی تحریکیں شروع کر چکے تھے۔ یہاں ایک اور سوال یہ ابھرتاہے کہ اگر نازی فرانسیسیوں کو برباد نہ کرتے ان کی حکومت کو کمزور نہ کرتے تو پھر کیا ہوتا۔ ایک اور تیسرا سوال اگر چائنامیں کمیونزم نہ ابھرتا تو وہ ویتنام کوہتھیار مہیا نہ کرتا تو دنیا کا نقشہ کیسا ہوتا۔
اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ فرانس ،ویتنام کی جنگ میں امریکہ غیرجانبدار رہا۔ لیکن فرانس کی پسپائی اور جنوبی ویتنام میں کمیونسٹوں کی کامیابی اس کے لیے لمحہ فکریہ تھی۔ جاپان اگر فرانسیسی نوآبادیاتی نظام کو نہ ہلاتا تو شاید امریکہ بھی اس جنگ میں نہ کودتا اور شاید اس سے ویٹمن کی تحریک رک جاتی یا سست پڑ جاتی اوریا شاید اس خطے میں غیر کیمونسٹ آزادی کی تحریک کامیاب ہو جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:  پنجاب میں اولیاء اللہ کے مزارات(۲)

اپنا تبصرہ بھیجیں