pervez-musharraf

سابق صدر اور جنرل (ر) پرویز مشرف کی زندگی پر مختصر نظر

EjazNews

11اگست 1943ء کو سابق صدر پرویز مشرف سید مشرف الدین کے گھر میں پیدا ہوئے جنہوں نے بطور سفار ت کار ملک کیلئے خدمات انجام دیں۔
1961ء میں ملٹری اکیڈمی میں بھرتی ہوئے ۔1965ء کی پاک بھارت جنگ میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے جس شجاعت کا مظاہرہ کیا اس پر انہیں بہادری کی اعزازی سند دی گئی ۔1991ء میں پرویز مشرف کو جنرل کے عہدے پر ترقی ملی۔ 7اکتوبر 1998کو انہیں چیف آف آرمی سٹاف اور اپریل 1999ء کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے عہدے ملے۔
12اکتوبر 1999ء کو نواز شریف کی حکومت کو معذول کر کے جنرل (ر) پرویز مشرف اقتدار کے ایوان میں آگئے۔ 20جون2001ء کو جنرل (ر) پرویز مشرف صدر مملکت بن گئے ۔ اب ان کے پاس بیک وقت دو عہدے تھے۔ وہ پاک فوج کے چیف بھی تھے اور ملک پاکستان کے فوجی صدر بھی۔
2006ء میں صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی خودنوشت ’’ان دی لائن آف فائر‘‘نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی اور اسی کتاب میں پاکستان کا ایک ایسا راز بھی عیاں ہوا جس پر صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں ا ظہار افسوس بھی کیا۔ 18اگست 2008ء کو انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔
20جون 2001ء سے لے کر 18اگست 2008ء تک جہاں ملک نے بہت ترقی کی وہی پر ایسے ایسے واقعات رونما ہوئے جس پر پوری قوم شرم سے جھک گئی۔ لا ل مسجد آپریشن فوج کے ذریعے کروایا گیا۔ این آر او دے کر بہت سے لوگوں کو کلین چٹ بھی اسی دورمیں دی گئی۔ بلوچستان آپریشن اور اکبر بگٹی کا قتل بھی انہی کے دور میں ہوا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ٹی وی پر آکر معافی بھی انہی کے دور میں مانگی اور انہیں نظر بند بھی رکھا گیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جو اس وقت امریکہ میں قید ہیں۔انہی کے دور میں یہ کیس سامنے آیا۔بدنام زمانہ بلیک واٹر کی پاکستان میں موجودگی بھی انہی کے دور میں تھی۔ پاکستان میں سی آئی اے کو جاسوس بھرتی کرنے کی اجازت بھی انہو ں نے ہی دی تھی۔
صدر جنرل (ر ) پرویز مشرف کے دور میں ملکی معیشت ترقی کر رہی تھی۔ ملک تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا لیکن یہ ساری ترقی ان کے اقتدار سے جاتے ہی کہیں چلی گئی جیسے ان کے ساتھی منظر سے غائب ہو گئے۔ شوکت عزیز جنہیں شاید کوئی جانتا بھی نہ ہو سندھ کے دور دراز علاقے سے جتوا کر وزیراعظم بنوایا گیا ۔ان کی ٹیم کے بہت سے ارکان اس وقت وزیراعظم عمران خان کی ٹیم میں موجود ہیں
جنرل (ر) پرویز مشرف وہ واحد جنرل اور صدر ہوں گے جن کے دور اقتدار میں مرحوم جنرل حمید گل جیسے مدبر جنرل نے اپنی فوجی وردی پہن کر احتجاج کیا تھا۔ لیکن جب صدر مشرف کو غدار کہنے کی بات اٹھی تو وہ بھی اس کے خلاف تھے کہ وہ غدار نہیں ہوسکتے۔
پاکستان کی سپیشل کورٹ نے انہیں آئین شکنی پر سزائے موت سنائی ہے۔ وہ اس وقت پاکستان میں نہیں ہیں۔ اقتدار سے الگ ہونے کے بعد ہی وہ پاکستان سے چلے گئے تھے اور دوبارہ واپس نہیں آئے۔
لکھنے کو تو بہت کچھ تھا ۔ وہ اقتدار میں کیسے آئے ۔ کارگل ایک طویل موضوع ہے ۔ان کے دور اقتدار میں ملک کی ترقی اور معیشت کی بہتری بارے بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ لیکن اختصار کا تقاضا یہی تھا کہ ہم اپنی بات کو سمیٹیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  بنگلہ دیش ٹیم پاکستان میں ٹیسٹ کھیلنے سے گریزاں کیوں ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں