hazrat-hinda

ہندہ بنت عتبہ زوجہ ابوسفیان

EjazNews

عتبہ اور ابوسفیان اورہندہ تینوں کو اسلام سے سخت عداوت تھی اور وہ اسلام کی غیر معمولی ترقی کو نہایت رشک سے دیکھتے تھے اور حتی الامکان اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے تھے ابوجہل ان سب کا سردارتھا۔ لیکن جب بدر کے معرکہ میں جو اسلام اور کفر کا پہلا معرکہ تھا قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور ابو جہل اورعتبہ وغیرہ بھی قتل ہو گئے تو ابوسفیان بن حرب نے جو عتبہ کے داماد تھے اس کی جگہ لی اور ابو جہل کی طرح مکہ میں ان کی سیاست مسلم ہو گئی۔ چنانچہ بدر کے بعد سے جس قدر معرکے پیش آئے ابو سفیان سب میں پیش پیش تھے۔ غزوہ احد ان ہی کے جوش انتقام کا نتیجہ تھا اس موقع پران کے ساتھ ان کی بیوی ہندہ بھی آئی تھیں جنہوں نے اپنے باپ کے انتقام میں سنگ دلی اور خوانخواری کا ایسا خوفناک منظر پیش کیا جس کے تخیل سے بھی جسم لرز اٹھتا ہے ۔ حضرت حمزہ ؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے انہوں نے عتبہ کو قتل کیا تھا ہندہ ان کی فکر میں تھیں چنانچہ انہوں نے وحشی کو جو جبیر بن معطم کے غلام اور حربہ اندازی میں کمال رکھتے تھے ۔ حضرت حمزہؓ کے قتل پر آمادہ کیا تھا (یہ حضرت وحشی کے قبل از اسلام کا واقعہ ہے) اور یہ اقرار ہوا کہ اس کار گزاری کے صلہ میں وہ آزاد کر دئیے جائیں گے۔ چنانچہ حمزہ ؓ جب ان کے برابر آئے تو وحشی نے حربہ پھینک کر مارا جو ناف میں لگا اور پار ہوگیا۔ حضرت حمزہؓ نے ان پر حملہ کرنا چاہا لیکن لڑ کھڑا کر گر پڑے اور روح پرواز کر گئی خاتونان قریش نے انتقال بدر کےجوش میں مسلمانوں کی لاشوں سے بدلہ لیا تھا۔ ان کے ناک کان کاٹ لیے۔ ہندہ نے ان کو پھولوں کا ہار بنایا اور اپنے گلے میں ڈالا ۔ حضرت حمزہؓ کی لاش پر گئیں اوران کا پیٹ چاک کر کے کلیجہ نکلا اور چبا گئیں لیکن گلے سے اتر نہ سکا۔ اس لیے اگل دینا پڑا۔ (حضرت ابو سفیان اور ہندہ کے یہ سب واقعات اسلام قبول کرنےسے پہلے کے ہیں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فعل سے جس قدر صدمہ ہوا تھا اس کا کون اندازہ کر سکتا ہے۔ لیکن ایک اور چیز تھی جو ایسے نازک موقعوں پربھی جبین رحمت کو شکن آلود نہیں ہونے دیتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت اُم حکیم ؓ کا ذکر خیر

اسلام ۔چنانچہ مکہ فتح ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لینے بیٹھے تو مستورات میں ہندہ بھی آئیں۔ شریف عورتیں عموماً نقاب پہنتی تھیں۔ ہندہ بھی نقاب پہن کر آئیں جس سے اس وقت یہ غرض بھی تھی کہ کوئی ان کو پہچاننے نہ پائے۔ بیعت کے وقت انہوں نے نہایت دلیری سے باتیں کیں جو حسب ذیل ہیں۔

ہندہ: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہم سے کن باتوں کا اقرار لیتے ہیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔
ہندہ: یہ اقرارآپؐؐ نے مردوں سے تو نہیں لیا۔ لیکن بہر حال ہم کو منظور ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: چوری نہ کرنا۔
ہندہ : میں اپنے شوہر کے مال میں سے کبھی کچھ لے لیا کرتی ہوں معلوم نہیں یہ بھی جائز ہے یا نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اولاد کو قتل نہ کرنا۔
ہندہ: ”ربینا ھم صغارا او قتلتھم کبارا فانت وھم اعلم “ ہم نے تو اپنے بچوں کو پالا تھا۔ بڑے ہوئے تو آپؐ نے جنگ بدر میں ان کو مار ڈالا۔ اب آپ اور وہ باہم سمجھ لیں۔
اس دیدہ دلیری کے باوجود (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہندہ سے درگزر فرمایا۔ ہندو کے قلب پر اس کابہت اثرہوا) اور ان کے دل نے اندر سے گواہی دی کہ آپ سچے پیغمبر ہیں۔ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے آپؐ کے خیمہ سے زیادہ میرے نزدیک کوئی مبعغوض خیمہ نہ تھا۔ لیکن اب آپؐ کے خیمہ سے زیادہ کوئی محبوب خیمہ میرے نزدیک نہیں ہے۔ (بخاری)

یہ بھی پڑھیں:  ام عمارہ ؓ کا ذکر خیر

حضرت ہندہ مسلمان ہو کر گھر گئیں تو اب وہ ہندہ نہ تھیں۔ ابن سعد نے لکھا ہے کہ انہوں نے گھر جا کر بت توڑ ڈالا اور کہا کہ ہم تیری طرف سے دھوکے میں تھے۔

اسد الغابہ میں ان کے حسن اسلام کے متعلق لکھا ہے کہ ”اسلمت یوم الفتح وحسن اسلامہا“ فتح مکہ کے بعد اگرچہ اسلام کو علانیہ غلبہ حاصل ہوگیا تھا اور اس لیے عورتوں کو غزوات میں شریک ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی تاہم جب حضرت عمرؓ کے عہد میں روم وفارس کی مہم پیش آئی تو بعض مقامات میں اس شدت کارن پڑا کہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کوبھی تیغ و خنجر سے کام لینا پڑا چنانچہ شام کی لڑائیوں میں جنگ یرموک ایک یادگار جنگ تھی۔ اس میں حضرت ہندہؓ اور ان کے شوہر حضرت ابو سفیانؓ دونوں نے شرکت کی اور فوج میں رومیوں کے مقابلے کا جوش پیدا کیا۔ حضرت ہندہ بڑی فیاض اور بہت دانشمند تھیں اسد الغابہ میں ہے کہ ”کانت امراة تھا نفس وانقفة ورای و عقل“ ان میں عزت نفس غیرت،رائے تدبیر اور دانشمندی پائی جاتی تھی۔
عبدالسلام بستوی (مرحوم)

یہ بھی پڑھیں:  بنی اسرائیل کے مولوی صاحب کو سمجھانیوالی عورت کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں