hazrat-halema

حضرت حلیمہ سعدیہؓ کا ذکر خیر

EjazNews

یہ قبیلہ سعد کی رہنے والی بہت غریب عورت تھیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا اور کئی سال تک آپ کو پالا پوساتھا۔ اس لیے یہ آپؐ کی رضاعی ماں ہیں اور ایمان لائیں آپؐ ان کی تعظیم اپنی والدہ کی طرح کرتے تھے اور بڑا احترام کرتے تھے۔ حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے دودھ کےپلانے کا واقعہ تاریخ اور سیر ت کی کتابوں میں نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ذیل میں بہت اختصار کےساتھ لکھا جاتا ہے۔

سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ ؐ کی والدہ محترمہ نے دودھ پلایا۔ پھر دو تین روز کے بعد ثوبیہ نے دودھ پلایا۔(بخاری)

ثوبیہ کے بعد حضرت حلیمہ سعدیہؓ نے دودھ پلایا۔ اس زمانے میں یہ دستور تھا کہ رئوسا اور شرفاء اپنے دودھ پیتے بچوں کو آس پاس کے گائوں میں بھیج دیا کرتے تھے تاکہ وہاں کی تازی آب و ہوا سے صحت اچھی رہے اور ان کی فصیح و بلیغ زبان سیکھ لیں اور محنت و جفا کشی کی بھی عادت پڑ جائے ۔اسی رسم و رواج کے مطابق دایہ عورتیں سال میں دو چار مرتبہ گائوں سے بچوں کو لینے کے لیے شہر میں آیا کرتی تھیں اور شہری شرفا اپنے شیر خوار بچوں کو ان کے حوالے کر دیا کرتے تھے وہ کچھ مشاہرہ اوروظیفہ مقرر کر کے بچوں کو لے جیا کرتیں۔ پھر ان کو دودھ پلا کر پرورش کرتیں اور ان کی تربیت کرتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر خیر

اسی دستور کے مطاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے چندر وز بعد قبیلہ ہوازن کی چند عورتیں بچوں کی تلاش میں آئیں ۔ ان میں یہ نیک نصیب دایہ حضرت حلیمہ سعدیہؓ بھی تھیں۔حسن اتفاق سے ان کو کوئی بچہ ہاتھ نہیں آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ نے حضرت حلیمہ ؓ کو اپنے پاس بلایا اور بچہ دینا چاہا۔ حلیمہؓ کے دل میں خیال آیا کہ میں اس یتیم بچے کو لے کر کیا کروں گی لیکن خالی ہاتھ بھی نہ جاسکوں گی۔ اس لیے حضرت آمنہؓ کی درخواست فوراً قبول کرلی ا ور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی برکت سے ان کے گھر میں بڑی برکت ہوئی ان کی تمام پریشانیاں دور ہو گئیں ۔ حضرت حلیمہ ؓکی ایک صاحبزادی تھیں جن کا شیما نام تھا۔ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بڑی محبت تھی۔ وہی آپ کو کھلایا کرتی تھیں۔ دو برس کے بعد حضرت حلیمہؓ آ پؐ کو مکہ میں لائیں اور آپ ؐ کی والدہ کے سپرد کیا، لیکن چونکہ اس وقت مکہ میں وبا پھیلی ہوئی تھی آپؐ کی والدہ نے فرمایا کہ ان کو ابھی واپس لے جائو ۔ چنانچہ وہ دوبارہ واپس لے گئیں۔ اسحاق مورخ کی روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم حلیمہ سعدیہؓ کے پاس چھ برس تک رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضر ت حلیمہ سعدیہؓ کے ساتھ بے انتہا محبت تھی ۔نبوت کے زمانے میں جب آپ ؐ کے پاس آئیں تو آپ ؐ ’’میری ماں ‘‘ کہہ کر لپٹ گئے۔ ایک مرتبہ آپ ؐ کے پاس تشریف لائیں تو آپ ؐ نے ان کے بیٹھنے کے لیے اپنی چادر مبارک کو بچھا دیا۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت اُم سلیم ؓ کا ذکر خیر

اے نیک بخت عورتو! تم بھی حضرت حلیمہؓ کے اس واقعہ سے عبرت حاصل کرو کہ جو دوسروں کے بچوں کی خدمت کرتا ہے وہ بڑے بڑے درجوں کا مستحق ہے۔ لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں ان کا نام ہمیشہ روشن اور زندہ رہتا ہے۔ اگر حضرت حلیمہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نہ کرتیں تو دنیا میں ان کو کوئی نہ جانتا اور نہ ان کا اتنا بڑا درجہ ہوتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں