pic-Wakeel-3

دل کے ہسپتال پر حملہ، وکلاءپر مقدمات درج ، کارروائی شروع

EjazNews

گزشتہ روز لاہور میں دل کے ہسپتال میں ہونے والا واقعہ پوری قوم کے سر شرم سے جھکانے کیلئے کافی تھا، آپ ملاحظہ کیجئے کہ یہ معاملہ تھا کیا۔ ایک وکیل کی والدہ کے ٹیسٹ کروانے کیلئے کچھ وکلاءہسپتال جاتے ہیں اور لائن میں کھڑے ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہیں اور بات اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی شروع ہو جاتی ہے۔
با ت اس قدر بڑھی کہ ڈاکٹرز کیخلا ف مقدمہ درج ہوگیا۔ لیکن وکلاءبضد رہے کہ اس میں دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی جائیں۔ جنہیں شامل بھی کیا گیا اور ختم بھی کیا گیا ینگ ڈاکٹرز نے پریس کانفرنس کی اور خیال تھا کہ معاملہ تھم گیا۔ لیکن ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ڈاکٹروں نے وکلاءکا مذاق اڑایا سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع ہوئی ۔
نوجوان وکلاءایک بڑی تعداد نے ہسپتال پر دھاوا بول دیااور کچھ نہیں سوچا کہ وہاں پر صرف ڈاکٹرز نہیں مریض بھی ہیں ۔جہاں پر بہت سے مریض تشویشناک حالت میں بھی ہوں گے کیونکہ کارڈیالوجی لاہور کا دل کے حوالے سے مصروف ترین ہسپتال ہے اور یہاں پر ایک کثیر تعداد میں مریض موجود ہوتے ہیں۔
وکلاءنے ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹروں پر دھاوا بولا جو کہ اپنی جان بچا کر نکل گئے لیکن بد قسمت مریض جان کی بازی ہار گئے ۔ اب ان کا کیا قصور تھا یہ ان کے ورثاءپوچھنے پر مجبور ہیں۔
وکلاءکیخلاف ایف آئی آر پی آئی سی کے ثاقب شفیع شیخ کی شکات پر درج کی گئی ہے ۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322۔352۔186۔354۔148۔ 149۔ 337۔395کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ہسپتال میں تباہی کے نتیجے میں مریضوں کو دی جانے والے طبی سہولیات معطل ہوگئی جو 3 مریضوں کی اموات کا باعث بنی۔جبکہ پارکنگ لاٹ میں موجود ڈاکٹروں کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔2سکیورٹی گارڈ تشدد کانشانہ بنے اور ان کی حالت تشویشناک ہونے پر سروسز ہسپتال داخل کروایا گیا۔
ایف آئی آر میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ وکلا کے ایک گروہ نے نرسز ہسپتال میں داخل ہو کر وہاں بھی توڑ پھوڑ کی، وکلا نے عملے کو ہراساں کیا، نرسز ہسپتال کی انچارج کے ساتھ بدتمیزی کی اور ان کے گلے میں پہنا ہوا لاکٹ چھین لیا تھا۔
ڈان نیوز کے مطابق مذکورہ معاملے پر دوسری ابتدائی اطلاعی رپورٹ پولیس کی جانب سے درج کی گئی ہے اس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل ہیں۔شکایت کنندہ انسپکٹر سید انتخاب حسین کے مطابق پستول اور ڈنڈوں سے لیس وکلا ان کی پولیس گاڑی کے پاس آئے اور انہیں جان سے ماردینے کی نیت سے ان پر فائرنگ کی۔انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال کی سنگینی کا احساس ہوتے ہی وہ گاڑی میں بیٹھے اور فوری طور پر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی اس دوران ان کی گاڑی فٹ پاتھ پر چڑھ گئی اور وکلا نے گاڑی کو گھیرلیا اور اسے نقصان پہنچانا شروع کردیا۔ شکایت کنندہ انسپکٹر نے کہا کہ مظاہرین میں سے ایک نے کہا کہ پولیس کی گاڑی کو آگ لگادو اور پولیس عہدیداران کو جان سے مار ڈالو۔ مظاہرین نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ اور اسے آگ لگائی۔
وکلا کے مظاہروں کے بعد سی سی یو کے علاوہ پی آئی سی میں تمام سروسز معطل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت کا میڈیا دیکھ لیں جو فضل الرحمٰن کو دکھا دکھا کر خوش ہو رہا ہے،جیسے وہ بھارتی شہری ہیں اور بھارت کے لیے کوئی ملک آزاد کرنے آرہے ہیں:وزیراعظم عمران خان

اپنا تبصرہ بھیجیں