school-test

محنت میں عظمت

EjazNews

آمنہ اور رابعہ دونوں بہنیں تھیں۔آمنہ کو پڑھنے کا بہت شوق تھا جبکہ رابعہ اپنا سارا وقت کھیل کود میں گزارتی ۔ اسے پڑھنے کا بالکل شوق نہیں تھا۔ سکول میں جب اس کا ٹیسٹ ہوتا تو وہ نقل کر کے دیتی تھی جبکہ آمنہ اپنا ٹیسٹ خوب دل لگا کر یاد کرتی اور اپنے ٹیسٹ میں اچھے نمبروں سے اول پوزیشن لے لیتی۔ اسی وجہ سے اس کے اساتذہ اور ماں باپ اس سے بہت پیار کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے رابعہ اس سے جلنے لگی۔ وہ ہر وقت اسے کوئی نہ کوئی نقصان پہنچانے کے چکر میں رہتی۔ لیکن ہمیشہ وہ اپنے مشن میں ناکام ہو جاتی۔ اس لئے اس نے تنگ آکر آمنہ کا پیچھا چھوڑ دیا۔ وقت اسی طرح گزرتا گیا۔ اب ان کے امتحان سر پر تھے۔ رابعہ اس کی کوئی فکر نہ تھی جبکہ آمنہ امتحانات کی خوب تیاری میں لگی ہوئی تھی۔ آخر کار ایک ہفتہ بعد ان کے امتحانات شروع ہو گئے۔ انگلش کا پیپر تھا، آمنہ کو پیپر ملنے کا شدت سے انتظار ہو رہا تھا۔ ایک گھنٹے بعد ان کو پیپر مل گیا۔ ان کی میڈم نے سب بچوں کو سکول کے گراﺅنڈ میں بٹھایا اور سب کے ہاتھ میں انگلش کا پیپر تھما دیا۔ آمنہ نے جلدی جلدی پیپر حل کر کے دے دیا۔ اسی طرح سب بچوں نے پیپر حل کر لیا۔ اب رابعہ گراﺅنڈ میں اکیلی بیٹھی تھی کیونکہ اس کی پیپر کی تیاری نہ تھی۔ اس لئے اسے پیپر نہیں آرہا تھا۔ اسی دوران پیپر کا وقت ختم ہوگیا اور ان کی میڈم نے اس سے پیپر لے لیا۔ جب اسے کچھ آتا ہی نہیں تھا تو وہ پیپر کیسے حل کرتی ۔ یوں سارے امتحانات ہوگئے۔ آمنہ اپنے سارے پرچے حل کرتی جبکہ رابعہ خالی چھوڑ دیتی۔
امتحانات ختم ہوئے تو سب کو رزلٹ کا شدت سے انتظار ہو رہا تھا۔ ایک ماہ بعد رزلٹ آگیا۔ آمنہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ کیونکہ اس نے بہت اچھی پوزیشن اور انعام حاصل کیا تھا جبکہ رابعہ فیل ہو گئی تھی۔ فیل ہونے پر وہ خوب روئی لیکن اب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اب وقت گزر چکا تھا۔ آمنہ بہت خوش تھی کیونکہ اس کی محنت رنگ لائی اور وہ کامیاب ہو گئی اور رابعہ کو اس کے نہ پڑھنے کا نتیجہ مل چکا تھا اور وہ ناکام ہو گئی۔
بچو! ہمارے ملک کو آمنہ جیسے پڑھنے والے بچوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں بھی آمنہ کی طرح محنت اور اپنی پڑھائی خوب دل لگاکر کرنی چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:  پیغام
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں