hazrat-uma-hakeem

حضرت اُم حکیم ؓ کا ذکر خیر

EjazNews

ان کا نکاح عکرمہ ؓ بن ابو جہل سے ہوا تھا۔ غزوہ احد میں کفار کے ساتھ شریک تھیں لیکن 8ہجری میں مکہ فتح ہواتو پھر اسلام سے چارہ نہ تھا ۔ان کا خسر ابوجہل اسلام کا سب سے بڑا دشمن اور کفر کا سرغنہ رہ چکا تھا۔ عکرمہ کے لوگوں میں بھی اس کا خون دوڑتا تھا۔ ماموں خالد بن ولید بن مغیرہ بھی مدت سے اسلام کے دشمن اور برسرپیکار رہ چکے تھے۔ لیکن بایں ہمہ اُم حکیمؓ نے اپنی فطرت سلامت روی کی بنا پر فتح مکہ میں اسلام قبول کرنے میں بہت جلد ی کی۔ ان کے شوہر جان بچا کر یمن بھاگ گئے تھے۔ اُم حکیمؓ نے ان کے لیے امن کی درخواست کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امان دے دی۔ وہ یمن میں جا کر واپس لائیں۔ عکرمہؓ صدق دل سے ایمان لے آیا اور اسلام قبول کر لیا۔ حضرت عکرمہ ؓ نے مسلمان ہوکر اپنے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کیا۔ نہایت جوش کے ساتھ غزوات میں شرکت اور بڑی پامردی اور جاں بازی سے حضرت ابوبکر ؓ کے زمانہ خلافت میں رومیوں کے ساتھ غزوات میں شرکت کی۔ حضرت عکرمہ ،ؓ اُم حکیم ؓ کو لے کر شام کو گئے اور اجنادین کے معرکہ میں داد شجاعت دے دیکر شہادت حاصل کی۔ حضرت اُم حکیمؓ نے عدت کے بعد خالد بن سعید بن العاصؓ سے نکاح کیا اور چار سو دینار مہر بندھا اور رسم عروسی ادا کرنے کی تیاریاں ہوئیں۔ چونکہ نکاح مرج الصفر میں ہوا تھا جو دمشق کے قریب ہے اور ہر وقت رومیوں کے حملے کا اندیشہ تھا۔ حضرت اُم حکیم ؓ نے خالدؓ سے کہا کہ ابھی توقف کرو۔ لیکن خالدؓ نے کہا مجھے اسی معرکے میں شہادت کا یقین ہے۔ غرض ایک پل کے پاس جواب قنطرہ اُم حکیم کہلاتا ہے رسم عروسی ادا ہوئی۔ دعوت ولیمہ سے لوگ فارغ نہیں ہونے پائے تھے کہ رومی آن پہنچے اور لڑائی شروع ہو گئی۔ خالدؓ میدان جنگ میں گئے اور شہادت حاصل کی۔
حضرت اُم حکیمؓ اگرچہ عروسی تھیں تاہم اٹھیں کپڑوں کو باندھا ، خیمہ لکڑی اکھاڑ کر کفار پر حملہ کیا۔ لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے اس چوب سے سات کافروں کو قتل کیا تھا۔ (اصابہ، سیر الصحابیات)

یہ بھی پڑھیں:  ایک انصاری خاتون کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں