baber-ali

جب تک طلبہ یونینز بحال نہیں ہو جاتیں ہماری کوششیں جاری رہیں گی

EjazNews

طلبہ تنظیمیں ’’لال لال لہرائے گا ‘‘کا نعرہ لے کر سڑکوں پر آئیں اور انہوں نے یہ نعرہ پورے ملک کو سنایا۔ جس پر کچھ حلقوں نے ان کیخلاف مہم بھی چلائیں۔ لیکن طالب علم اپنے کاز سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سٹوڈنٹس یونینز کو بحال کیا جائے ۔ پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت نے سٹوڈنٹ یونینز کو بحال کرنے کا بل پاس کرلیا ہے لیکن فیڈرل حکومت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں تحفظات کے ساتھ ساتھ آنے والے وقت میں بہتری کے بعد ان یونینز کو بحال کرنے کا اندیہ دیا تھا۔
طالب علم اپنی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اس سلسلے میں عفیفہ حیات نے سٹوڈنٹ نمل یونیورسٹی میں زیر تعلیم یوتھ الائنس کے بابر علی سے گفتگو کی اور یہ سامنے لانے کی کوشش کی ان سٹوڈنٹ یونینز کی بحالی طالب علم کیوں چاہتے ہیں۔ بابر نمل یونیورسٹی لاہور میں انگلش لٹریچر کے طالب علم ہیں۔آئیے ان سے کی گئی گفتگو پڑھتے ہیں۔
س:بابر آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیے؟
ج:میرا نام بابر علی ہے، نمل یونیورسٹی میں انگلش لٹریچر کا طالب علم ہوں۔میرا تعلق یوتھ الائنس سے ہے۔میں لاہور ریجن کے بیورو کا ممبر ہوں۔
س:آپ سٹوڈنٹ یونین کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟
ج: سٹوڈنٹ یونین انتہائی اہم چیز ہے اور طالب علموں کو سیاست سیکھنے کیلئے اور ان میں لیڈر شپ کوالٹی پیدا کرنے کیلئے ایک انتہائی اچھا پلیٹ فارم ہے ۔اس سے خاندانی سیاست کا بھی خاتمہ ہوگا اور اچھی لیڈر شپ بھی ملے گی۔طالب علمو ں کو بہت کچھ سیکھنے کا بھی موقع ملے گا اور ان مسائل کا بھی حل ہوگا ۔جیسے بلوچستان یونیورسٹی میں ہراسمنٹ کا ایشو دیکھنے میں آیا تھا۔اگر وہاں طلبہ یونین ہوتی تو معاملہ کچھ اور ہوتا کیونکہ طلبہ یونین کا ایک نمائندہ انتظامیہ کے ساتھ بھی بیٹھتا ہے۔اس کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں لیا جاتا ۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں کہ جتنی بھی یونیورسٹیاں ہیں وہ اپنی فیسیں بڑھا رہی ہیںاگر طالب علموں کا کوئی نمائندہ ہوتا تو وہ اس معاملے پر احتجاج کرتا کہ آپ فیسیں نہیں بڑھا سکتے۔میں اگر اپنی یونیورسٹی کی بات کرو ں کہ میں اگر ان سے جا کر بات کرتا ہوں تو وہ آج کی صورتحال میں مجھے یونیورسٹی سے نکال بھی سکتے ہیں۔لیکن جب سٹوڈنٹ منظم ہوں گے تو ان میں ایک سیاسی شعور بھی ہوگا اور یونیورسٹیاں ان کو اس طرح پولیٹیسائز نہیں کر سکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  یوگیوں کے نزدیک انسان کے جسم کی عافیت کا تمام تر دارومدار لچک پر ہے:یوگی محمد ریاض کھوکھر
بابر علی نمل یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ اور طلبہ یونین کی بحالی کیلئے بھی سرگرم ہیں

س:سٹوڈنٹ کنونشن کا مقصد کیا ہے؟
ج:ہم نے قذافی سٹیڈیم کے بلاک میں ہال بک کروایا تھا۔ ایک دن پہلے لاہور مینجمنٹ کی طرف سے ہمارا ہال کینسل کروا دیا گیا کہ ہم کنونشن نہ کرپائیں۔سب کو دوبارہ سے بتانا پڑا جس سے ہمارے شرکاء بھی ذہنی پریشانی کا شکار ہوئے۔لیکن اس کے باوجود ہم نے یہ کنونشن کروایا اور لاہور مینجمنٹ کو بتایا کہ طلبہ منظم ہو رہے ہیں اور ان میں اپنے حقوق کی شعوری بیداری پیدا ہو رہی ہے۔اس کنونشن کا مقصد تھا یہی تھا کہ ہم طالب علموں کو منظم کریں ۔مفت اور معیاری تعلیم ہونا چاہئے۔طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کیا جائے۔نظام تعلیم کا کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ ہر کسی کو روزگار ملنا چاہیے اور یونیورسٹیاں جو من مانی فیسیں بڑھا رہی ہیں اس کے متعلق شعوری بیداری پیدا کرناتھا۔
س:معلوم ہوتا ہے آپ ایک دور اندیش انسان ہیں، کیا سوچتے ہیں اس کا پاکستانی طالب علموں کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
ج: شکریہ،طلبہ یونین میں طلبہ منظم ہوتے ہیں۔ ان پر یونیورسٹیوں کی جانب سے جو نام نہاد پریشر ڈالا جاتا ہے ،الگ الگ حربے استعمال کر کے وہ ختم ہو گا۔ طلبہ کو اپنے رائٹس کے بارے میں آگاہی ہوگی۔ ایشیاء میں بھی طلبہ میں آگاہی پیدا ہو رہی ہے۔ انڈیا میں طلبہ نے ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہوا ہے۔پاکستان میں نوجوانوں کی خاصی تعداد ہے جسے ڈی پولیٹسائز کیا گیا ہے۔ جب وہ پولیٹسائز ہو گی تو وہ پاکستان کی مین سٹریم میں بھی اچھا رول ادا کر سکتی ہے۔
س:ہر چیز کے کوئی منفی اور مثبت اثرات ہوتے ہیں تو آپ کیا سوچتے ہیں طلبہ یونین کے منفی اثرات ہیں؟
ج: میرے خیال میں طلبہ یونین کے کوئی منفی اثرات نہیں ہیں۔ لیکن جس طرح نام نہاد کچھ تنظیمیں ہیں جو اپنے مفادات کیلئے طلبہ کو استعمال کرتی ہیں۔جس سے طلبہ کی کوششوں کو روکا جاسکے۔ ہماری یوتھ الائنس نے پی یو میں ایک ریلی نکالی تھی ۔ہمارے کامریڈ نے ریلی نکالی تو اس پر جمعیت نے اٹیک کیا۔ جمعیت ہمیشہ ہراساں کرتی ہےاس میں اسٹریمس لوگ ہیں۔جو بھی تنظیمیں تشدد کے بغیر سٹوڈنٹ سیاست کرنا چاہیں انہیں ویلکم کیا جائے اور ایسی حکومتی سطح پر بھی کیا جائے۔
س:سٹوڈنٹ یونین کو بین کر دیا گیا تھا آپ کیا سوچتے ہیں اس کے پیچھے کیا مسائل تھے؟
ج: سٹوڈنٹ یونین ابھی نہیں بلکہ جنرل ضیاء کے دور میں بین کی گئی تھیں اور اس کے بین کرنے کی وجہ کچھ شر پسند تنظیمیں تھیں۔ ان چند تنظیموں کی وجہ سے پوری طلبہ یونینز پر پابندیاں عائد کر دی گئیں اور اس میں ایک یہ بھی نقطہ رکھا گیا کہ اس سے ہمارا نظام تعلیم متاثر ہو رہا ہے۔یہ یونینز اب نہیں ہیں ،لیکن کیا آج ہمارا نظام تعلیم پہلے سے بہتر ہے۔الٹا اس کا نقصان یہ ہوا کہ سٹوڈنٹس کو کوئی پتہ ہی نہیں سیاست میں کیا ہو رہاہے۔ ایچ ای سی کا بجٹ جب کاٹا جاتا ہے تو اس کے اثرات تمام طالب علموں پر ہوتے ہیںاس کیخلاف طالب علموں کو رد عمل کے اظہار کا موقع ہونا چاہئے۔
س: آپ کیا سوچتے ہیں طلبہ اس سٹوڈنٹ کنونشن میں کس قدر انٹرسٹ لے رہے ہیں؟
ج: طالب علموں کو 40-30سال سےسیاست سے دور رکھا گیا ہے۔ہم کوشش کر رہے ہیں طالب علموں کو یکجا کر یں۔ یوتھ کا انٹرسٹ کافی بڑھا ہے اور اس کا عملی مظاہرہ ہم نے یوتھ کنونشن میں بھی دیکھا ہے۔یوتھ میں سیاست کا شعور بڑھا ہے۔
س:آپ نے جوکنونشن کروایا ہے اس کے بعد آپ کو کیا لگتا ہے سٹوڈنٹس میں آگاہی آئی ہے؟
ج: جی ایسے نہیں ہوتا کہ ایک کنونشن کے بعد رزلٹ آنا شروع ہو جائیں یا مارچ ہوا تو رزلٹ آنا شروع ہو جائے ۔ طلبہ پر پابندیوں کا ایک لمباغیب ہے۔کوششیں چل رہی ہیںجب تک طلبہ یونینز بحال نہیں ہو جاتی ہماری تنظیم پورے پاکستان میں کام کرتی رہے گی۔ہم ہر جگہ طلبہ میں شعور پیدا کر رہے ہیں اور جب تک طلبہ یونینز بحال نہیں ہو جاتیں ہماری کوششیں جاری رہیں گی۔
س:بابر آپ کو کیا لگتا ہے آپ کی کوششیں کہاں تک رنگ لائیں گی؟
ج:سماج کی بہتری کیلئے یہ ہمار ا فرض ہوتا ہے کہ ہم طلبہ کو اپنے حقوق کے بارے میں بتائیں اور وہ سیاست میں اپنا کر دار ادا کریں۔ہم اپنا فرض بغیر کسی لالچ کے ادا کر رہے ہیںاور ہم پر امید ہیں کہ طلبہ یونینز بحال ہوں گی۔پاکستان میں جب طلبہ سیاست آئے گی تو مین سٹریم میں بھی اچھے سیاستدان آئیں گے اور طلبہ کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  تمام سیاستدانوں نے پی ٹی وی کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا:حفیظ طاہر

انٹرویو:عفیفہ حیات

اپنا تبصرہ بھیجیں